مجھے یقین ہے کہ عمران خان کی تحریر کردہ داستان کا آخری باب روشنی کی نوید ہوگا

جب کسی اور کا بویا آپ کو کاٹنا پڑتا ہے تو آپ ایک بہت بڑے امتحان کا سامناکررہے ہوتے ہیںاس امتحان کا سامنا کرتے وزیراعظم عمران خان کو سترہ ماہ سے زیادہ کا عرصہ ہوچکا ہے۔ان کے لئے لوگوں کو یہ سمجھانا بھی مشکل رہا ہے کہ جو پھل وہ کھا رہے ہیں وہ اس پودے کا ہے جو ان کی پیشروحکومتوں نے بویا تھا۔ کوئی شک نہیں کہ ان کے پاس ایسی ٹیم موجود نہ تھی جو اس صورتحال کا سامنا کرنے کی صلاحیت رکھتی۔کتنا بڑا المیہ یہ بات ہے کہ اسد عمر جیسے اعلیٰ پائے کی شہرت رکھنے والے شخص نے ابتداءمیں ہی عمران خان کو مایوس کردیا۔ مگر اس کی وجہ اسد عمر میں جوہرِقابل کی کمی نہیں تھی ۔ وجہ یہ تھی کہ عبدالقادر سے لیگ سپن کرانے کی بجائے فاسٹ بالنگ کرانے کی کوشش کی گئی تھی۔ اسد عمر مارکیٹنگ کے آدمی ہیں ¾ اکنامکس کی دنیا کچھ اور ہی ہے۔
بہرحال یہ باتیں اب ماضی کا حصہ بن چکی ہیں۔ اب وہ وقت آچکا ہے کہ عمران خان اپنابیج بوئیں تاکہ آنے والے وقتوں میں اپنی کھیتی کاٹ سکیں۔
میرے خیال میں عاطف خان سمیت کے پی کے کے تین وزراءکی برطرفی ایک علامتی اقدام ہے جو ظاہرکرتا ہے کہ اب خان صاحب مشکل فیصلے کرتے وقت مصلحتوں سے کام نہیں لیں گے۔
ہمارے تجزیہ کاروں نے خان صاحب کو اُن بیانات کی روشنی میں پرکھ کر مسترد کرنے کی کوشش کی ہے جو انتخابی مہم کے دوران دیئے گئے تھے۔
جب کوئی نوجوان رشتہ لینے کے لئے جاتا ہے تو ہمیشہ جاذب نظر لباس پہنتا ہے ۔ مگر جب اسے کھیت میں مزدوری کرنی پڑتی ہے تو اس کا لباس جاذب نظر نہیں ہوتا۔
عمران خان کی حقیقت کیا ہے اس کا فیصلہ آنے والے وقتوں میں ہوگا۔ ان کے پاس choicesاور آپشنز کی ہمت شکن کمی تھی۔ انہیں عاطف خان جیسے لوگوں کو بڑی بڑی ذمہ داریاں دینی پڑیں۔ میں بڑے دکھ کے ساتھ کہتا ہوں کہ کرپشن پر صرف نون لیگ کے وزراءکی اجارہ داری نہیں تھی۔ سیاست میں لوگ پیسہ لگا کر جاتے ہیں اور اگر انہیں موقع مل جائے تو اپنے خزانے کا پیٹ لبالبّ بھرنے سے گریز نہیں کرتے۔
اگر سیاست میں جانے والا ہر شخص قائداعظم ؒ جیسا ہوتا تو پھر یہ داستان اتنی کرب انگیز کیوں ہوتی جتنی یہ ہے۔
بہرحال مجھے یقین ہے کہ عمران خان کی تحریر کردہ داستان کا آخری باب روشنی کی نوید ہوگا۔۔۔

You might also like More from author