خطرے میں کون ہیں ؟ 06-06-2007

میری حقیر رائے یہ ہے کہ خطرہ جنرل پرویز مشرف کو نہیں، پاکستان کی فوج کو بھی نہیں۔۔۔ خطرہ ان افراد م ان گروہوں اور ان حلقوں کو ہے جن کی بقاءکا انحصار ایک طرف جنرل پرویز مشرف کی خوشنودی پر ہے، اور دوسری طرف یہ تاثر پیدا کرنے اور ابھارنے پر کہ وہ ” پاک فوج“ کی حرمت پر کٹ مرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔دوسرے الفاظ میں ایسے تمام عناصر کا سیاسی مستقبل ایک سوالیہ نشان بن چکا ہے ۔ جن کا سیاسی وجود ایک طرف جنرل پرویز مشرف کے دم سے ہے اور دوسری طرف ایک ایسے ” صدر مشرف“ کے ” دائم و قائم“ رہنے سے جس نے وردی پہن رکھی ہو۔
کس قدر ستم ظریفی کی بات ہے کہ جن لوگوں کو صدرجنرل پرویز مشرف کی سیاسی قوت بننا چاہئے تھا وہ اپنی سیاسی قوت کے لئے صدر جنرل پرویز مشرف کی وردی کے محتاج ہیں۔
بات ” فوج“ کے ایک ایسے محترم ادارہ ہونے کی ہورہی ہے جس پر پوری قوم کو اعتماد کا اظہار کرناچاہئے۔
کوئی بھی محب وطن اس بات سے انکار نہیں کرےگا مگر کیا ” فوج “ کی ” تقدیس “ پر اس بات سے حرف نہیں آتا کہ صدر جنرل پرویز مشرف اپنے علاوہ کسی بھی فوجی کو اس بات کا اہل نہیں سمجھتے کہ وہ چیف آف سٹاف کی وردی پہن سکے ؟ کیا مادر وطن نے ایک بھی ایسا ” دوسرا“ سپوت پیدا نہیں کیا جس کی حب الوطنی , لیاقت اور فرائض منصبی سے وابستگی شک و شبہ سے بالاتر ہو ۔؟
وقت آگیا ہے کہ ہم سب اپنے اپنے گریبان بھی ٹٹولیں۔ مجھے اپنی فوج پر فخر ہے۔ مگر میری دلی تمنا ہے کہ میرے اس فخر کا احترام میری فوج بھی کرے۔ سیاست ایک ایسا کیچڑ ہے جس میں پاﺅںرکھنے سے جو چھینٹے اچھلتے ہیں۔ وہ ہر جگہ پڑتے ہیں۔ میںدعا کرتا ہوں کہ میرے پیارے وطن کے جیالے محافظ ان چھینٹوں سے محفوظ رہیں!

You might also like More from author