کون کس کے خلاف کیا سازش کررہا ہے اللہ ہی جانے ۔۔۔ 22-05-2007

گزشتہ دنوں ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے کراچی کی انتظامیہ گورنر سندھ اور تنظیم کے دیگر رہنماﺅں کو لندن طلب کیا۔ اس ” کانفرنس“ کے مقاصد کیا تھے اس سوال کا جواب تو آنے والے ایام میں ایم کیو ایم کے رویے ہی دیں گے مگر اپنے پیروکاروں سے گفتگو کرتے ہوئے جو سب سے زیادہ دلچسپ بات جناب الطاف حسین نے کہی ہے اس کا ذکر یہاں کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ موصوف نے فرمایا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی تنخواہ دار سیاسی جماعتیں ایم کیو ایم کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ اور ان سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے ایم کیو ایم کو زبردست مستعدی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
دلچسپی کا پہلو اس بیان میں یہ ہے کہ جناب الطاف حسین نے ” اسٹیبلشمنٹ“ کو ان تمام جماعتوں کا سرپرست قرار دے دیا ہے جو چیف جسٹس کی حمایت میں رائے عامہ کو آرگنائز کررہی ہیں۔ ان جماعتوں میں مسلم لیگ )ن( پاکستان پیپلزپارٹی , ایم ایم اے , اے این پی اور تحریک انصاف بطور خاص قابل ذکر ہیں۔
یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کی اصطلاح پاکستان میں ” طاقت کے ان سرچشموں “ کے لئے استعمال ہوتی ہے جنہیں ایک طرح کا ” تسلسل “ حاصل ہے۔ طاقت کے ان سرچشموں میں فوج کو مرکزی حیثیت دی جاتی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ ” مشرف بھائی “ کے خلاف سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے کمربستہ ایم کیو ایم خود فوج کی ان سازشوں کا نشانہ بنی ہوئی ہے۔جو فوج کی ” تنخواہ دار جماعتوں“ کی مدد سے ہو رہی ہیں۔
الطاف بھائی کے اس بیان سے سب سے زیادہ جنرل مشرف کو چونکنا چاہئے کیونکہ انہیں بھی یہی شکایت ہے کہ متذکرہ جماعتیں ان کے خلاف سازشیں کررہی ہیں۔ اگر جنرل مشرف کے خلاف سازشیں کرنے والی جماعتیں الطاف بھائی کے نقطہ نظر کے مطابق واقعی فوج کے لئے کام کررہی ہیں تو پھر اس ملک کا خدا ہی حافظ!
موجودہ پس منظر میں بیانات در بیانات کا جو سلسلہ سامنے آرہا ہے اس سے ” سازشوں “ کا ایک ایسا پیچیدہ پلاٹ اپنے تانے بانے بنتا دکھائی دے رہا ہے کہ اصل حقیقت کی گہرائی تک جانے کے لئے اس ملک کے بے بس عوام کو امداد غیبی کی ضرورت پیش آئے گی۔

You might also like More from author