اندھیرے میں روشنی کرنے اور راستہ بتانے والا انقلابی کانٹیکٹ لینس

دنیا کا پہلا اسمارٹ لینس موجو آپ کو حیران کرنے کے لیے کافی ہے (فوٹو: موجو وژن)

دنیا کا پہلا اسمارٹ لینس موجو آپ کو حیران کرنے کے لیے کافی ہے (فوٹو: موجو وژن)

لاس ویگاس: وہ دن دور نہیں جب خاص کانٹیکٹ لینس سے آپ اندھیرے میں بھی دیکھ سکیں گے، سڑک سے آگے کا راستہ معلوم کرسکیں گے، کسی بھی جگہ کا احوال پتا کرسکیں گے لیکن ساری معلومات براہِ راست آپ کی آنکھوں پر اترے گی جس کے لیے کسی عینک کی ضرورت نہیں ہوگی۔

آپ چلتے پھرتے موسم کا حال، کھیل کا احوال، اسٹاک کا بیان، سرکاری فرمان اور بین الاقوامی معاملات اور خبریں اپنی آنکھ میں ہی پڑھ سکیں گے۔ اگر لینس کو آنکھ کے قریب لاکر دیکھا جائے تو اس میں ننھے روشن الفاظ دیکھے جاسکتے ہیں جو لینس پہننے کے بعد دکھائی دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ دل کی دھڑکن اور جسمانی کیفیات بھی ظاہر کرتا ہے۔

اس کےعلاوہ اگر آپ کسی انجانی راہ پر چل رہے ہوں تو لینس آگے کا راستہ اور رکاوٹوں سےبھی آگاہ کرسکے گا۔

اس کی تیاری میں بہت ساری کمپنیاں ایک ساتھ کام کررہی ہیں جن میں گوگل، ایمیزون، زیئس اور فلپس وغیرہ شامل ہیں۔ ان کمپنیوں نے مل کر اکیسویں صدی کا حقیقی کانٹیکٹ لینس ڈیزائن کیا ہے جس میں ہر طرح کے لوازمات موجود ہوں گے لیکن ابھی یہ لینس بازار میں دستیاب نہیں کیونکہ ایف ڈی اے کی جانب سے اب تک اسے سند نہیں مل سکی ہے۔

یہ الفاظ دکھانے والا بے جان لینس نہیں بلکہ یہ تمام اشیا کا احساس کرتا ہے، آنکھوں کی حرکت کا پتا دیتا ہے اور کمزور بصارت والوں کو دیکھنے میں مدد بھی دے سکے گا۔ اسی وجہ سے موجو لینس اسمارٹ عینک یا اسمارٹ واچ جیسا نہیں ہے۔ فی الحال لینس کے اندر ہی ایک چھوٹی بیٹری لگائی گئی ہے لیکن اگلے مرحلے میں اسے وائرلیس کے ذریعے توانائی پہنچائی جائے گی۔

You might also like More from author