پاکستان صرف امن میں حصہ دار ہے، کسی جنگ کاحصہ نہیں بنیں گے: شاہ محمود قریشی

اول دن سے کشیدگی کے خاتمے اور غلط فہمیوں کو دورکرنے کی کوششوں کے حامی ہیں،اختلافات کو پرامن طورپرحل اور تنازعات کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے میں کردار ادا کیاجائے

اسلام آباد (این این آئی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ پاکستان صرف ”امن میں حصہ دار ہے“ خطے میں کسی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا،پاکستان اول دن سے کشیدگی کے خاتمے اور غلط فہمیوں کو دورکرنے کی کوششوں کا حامی رہا ہے،اختلافات کو پرامن طورپرحل اور تنازعات کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے میں سہولت کاری کا کردار ادا کیاجائے،تمام فریقین سے انتہائی ضبط وتحمل کے مظاہرے، تناﺅ میں کمی کےلئے کشیدگی کا باعث بننے والا کوئی قدم نہ اٹھانے اور تعمیری انداز اپنانے پر زور دیا،امید ہے ہماری اجتماعی کوششیں وہ اثر دکھائیں گی جس سے متعلقہ فریقین کی حوصلہ افزائی ہوگی اور وہ کشیدگی کے خاتمے کا اعلان کریں گے اور امن کے قیام کے لئے عملی اقدامات اٹھائیں گے، ہمارے ملک اور خطے میں اس وقت تک حقیقی امن نہیں ہوسکتا جب تک افغان بھائی اور بہنیں افغانستان کے داخلی اور خارجی سطح پر امن سے ہمکنار نہیں ہوتے،ہماری معیشت کو اس سبب 150 ارب ڈالر کا براہ راست نقصان اٹھانا پڑا، دہشتگردی کے خلاف جنگ کی بالواسطہ قیمت قومی معیشت کے شدید متاثر ہونے کی صورت اٹھائی جس کا کوئی اندازہ ہی نہیں لگایاجاسکتا، افغانستان کا کوئی فوجی حل نہیں،افغانستان میں امن سے دونوں جانب بہتری آئے گی اور ہمارے بھرپور تاریخی تعلقات مزید تقویت پائیں گے، بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی اور جبرواستبداد اور بی جے پی حکومت کی مذہبی انتہاءپسندی و مذہبی نفرت ،خطے کی امن وسلامتی کے لئے سنگین خطرہ ہے،بھارت کے ساتھ امن کے لئے کوئی قیمت ادا کرنے کو تیار نہیں، ہم اپنی عزت پر کسی صورت سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں اور نہ ہی کشمیر کے تنازعہ کے حل کے بغیر ایسا ہوسکتا ہے،پاکستان اور بھارت کو ایک دوسرے سے لڑنے کی بجائے مل کر غربت وافلاس سے لڑنا چاہئے،سی پیک پر شکوک وشبہات کے بجائے خطے میں امن کے حامیوں کو اس منصوبے کا خیرمقدم کرنا چاہئے ،پاکستان اور امریکہ کے درمیان مضبوط تعلقات کی اہمیت پر کوئی دو رائے نہیں ہوسکتی۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے سینٹر فار اسٹرٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (CSIS) میں پاک امریکہ تعلقات کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ سب سے پہلے میں صدر ہیمرے کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے جنوبی ایشیا اسٹڈیز کے حوالے سے عالمی سطح کے ادارے سینٹر فار اسٹرٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز میں مجھے خطاب کی دعوت دی۔انہوںنے کہاکہ میرے لئے بڑے اعزاز کی بات ہے کہ میں یہاں معززین کی اس محفل میں شریک ہوں جس میں سکالرز اور رائے عامہ بنانے والے اور جانے پہچانی شخصیات موجود ہیں۔ انہوںنے کہاکہ میں ایسے وقت میں امریکہ کے دورے پر ہوں جب علاقائی اور عالمی سطح پر ہمیں بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوکںنے کہاکہ ہمارے مشرق اور مغرب میں اہم تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق اور انسانی بحران مسلسل جاری ہے جہاں گزشتہ پانچ ماہ سے اسی لاکھ کشمیری غیرانسانی بندشوں اور قیدوبند کے مصائب کاسامنا کررہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ افغان امن و مفاہمتی عمل اہم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے،اسی دوران ایران اور امریکہ کے مابین اچانک کشیدگی نے علاقائی وعالمی امن اور معیشت کے لئے خطرات پیدا کردئیے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ علاقائی اور عالمی سطح پر اس غیریقینی صورتحال میں ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان ایک مضبوط شراکت داری نہایت اہم ہے۔ انہوںنے کہاکہ میں امید کے ساتھ اپنا نکتہ نظر پیش کررہا ہوں کہ خطے میں ہم کہاں کھڑے ہیں اور ابھرتے ہوئے منظرنامے کیسے ہمارے دونوں ممالک کے اہم تعلقات پر اثرانداز ہوتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے انتخاب کا آج بنیادی محور اور موضوع امن اور ترقی کا فروغ ہے۔ انہوںنے کہاکہ امن وترقی کے درمیان لازمی تعلق داخلی اور خارجی سطح پر ہماری کوششوں کی بنیاد ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ خارجی پہلووں پر بات کرنے سے قبل میں اپنے دوستوں کو مختصرا آگاہ کرنا چاہوں گا کہ ہماری حکومت نے اگست2018ءمیں ذمہ داری سنبھالی۔ انہوںنے کہاکہ اس عرصے میں وزیراعظم کی داخلی سطح پر اعلی ترین ترجیح معیشت کا استحکام، گورننس کی بہتری، کرپشن کا انسداد اور اکیس کروڑ سے زائد ہمارے عوام کی سماجی ومعاشی ترقی کے اہداف رہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ بھرپور کوششوں کے نتیجے میں معاشی بہتری کا عمل پہلے ہی واضح دکھائی دے رہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ کلیدی اشارئیے بہتری دکھارہے ہیں، عالمی سطح پر ہماری درجہ بندی بہتر ہورہی ہے،پاکستان 2020ءمیں سب سے زیادہ سیاحوں کے لئے پرکشش مقام اور منزل کے طورپر اجاگر ہورہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ بدلتی حقیقت پاکستان کے تشخص کو بھی تبدیل کررہی ہے۔ انہوںنے کہاکہ قومی ترقی کی اس کوشش کو برقرار رکھنے کے لئے ہمیں مستقل مدت کے لئے خارجی طورپر پرامن ماحول کی ضرورت ہے۔ انہوںنے کہاکہ اب میں خطے کی طرف آتا ہوں۔ اس وقت ایران ہر کسی کے ذہن میں گردش کررہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ درحقیقت امریکہ کا دورہ ایران اور سعودی عرب کے میرے حالیہ دوروں کے اگلے مرحلے کا حصہ ہے۔ انہوںنے کہاکہ وزیراعظم عمران خان نے مجھے ہدایت کی ہے کہ تہران، ریاض اور واشنگٹن کے دارالحکومتوں میں پاکستان کا یہ پیغام پہنچاﺅں کہ پاکستان صرف ”امن میں حصہ دار ہے۔“ یہ خطے میں کسی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان کے سعودی عرب اور ایران کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں،ہمارا سعودی عرب کے ساتھ خصوصی تعلق ہے۔ آزمائش کی ہر گھڑی میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہنا ہمارے درمیان ایک دیرینہ روایت رہی ہے۔ ہماری حکومت کے ابتدائی دنوں میں معاشی مشکلات سے نمٹنے میں ہمیں جو مدد ملی، اس پر ہم ان کے شکرگزار ہیں۔

You might also like More from author