کیا عمران خان اس سونامی کو پسپا کردیں گے؟ نون لیگ میں پت جھڑ کا موسم وقتی طور پر ٹل گیا

اشریف برادران اس بار جو چال چلی ہے اس کے ذریعے وہ یہ تاثر ابھارنے میں بہت حد تک کامیاب ہو گئے ہیں کہ وہ ملک میں واپس آرہے ہیں اور محض واپس ہی نہیں آرہے بلکہ اقتدار کی کرسی پر براجمانی ہونے کے لئے واپس آرہے ہیں اور یہ کہ ملک میں طاقتور حلقوں کے ساتھ ان کی مفاہمت ہو چکی ہے

چالاک ، مکار اور عیار ناشریفوں نے 2000والے تلخ تجربے سے سبق حاصل کرتے ہوئے اس بار ملک سے ” دھڑکی“ لگائی اس کے آفٹر شاکس کس سے بچنے کے لئے اپنا جو ”لندن پلان 2020“ بنایا اس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ اپنی پارتی کو یتیمی کی تہمت سے بچائیں اور اپنے ارکان اسمبلی سمیت کارکنوں پر یہ باور کرادیں کہ وہ20سال پہلے کی طرح کسی خفیہ این آر او کے تحت لندن ” فرار“ نہیں ہوئے بلکہ انہوں نے یہ اقدام پارٹی اور اس کے وابستگان کے وسیع تر مفاد میں اٹھایا ہے۔
ناشریف برادران اس بار جو چال چلی ہے اس کے ذریعے وہ یہ تاثر ابھارنے میں بہت حد تک کامیاب ہو گئے ہیں کہ وہ ملک میں واپس آرہے ہیں اور محض واپس ہی نہیں آرہے بلکہ اقتدار کی کرسی پر براجمانی ہونے کے لئے واپس آرہے ہیں اور یہ کہ ملک میں طاقتور حلقوں کے ساتھ ان کی مفاہمت ہو چکی ہے۔
اپنے اس موقف کو تقویت پہنچانے اقتدار میں واپسی کے تاثر اور مقتدر حلقوں سے مفاہمت و قربت کے ثبوت کے طور پر انہوں نے حسب ذیل اقدامات اٹھائے۔
1۔ ”ووٹ کو عزت دو“ اور ”سویلین بالادستی“ کا چورن بیچنے اور ”خلائی مخلوق“ پر نشر زنی کے پس منظر میں پارلیمنٹ میں ” آرمی ترمیمی ایکٹ“ کی منظوری کے لئے غیر مشروط حمائت کا اعلان ۔
اس سے جہاں عام سیاسی مبصرین اور ہم عصر سیاسی جماعتیں ورطہ حیرت میں ڈوب گئیں وہیں خود نون لیگی وابستگان، دوسری تیسری صف کے قائدین اور کارکن تک ایک دھچکے کی کیفیت سے دوچار ہوئے۔ڈیل اور ڈھیل کی چہ مگوئیاں ہونے لگیں۔ پارٹی باقیات میں تقسیم در تقسیم واضح طور پر سامنے آگئی۔ ” آرمی ترمیمی ایکٹ“ پر غیر مشروع حمائت کا لندنی قیادت کا فیصلہ چونکہ خواجہ آصف کے ذریعے پاکستان میں نون لیگ کے لواحقین تک پہنچا تھا لہٰذا اب یہی جوہے جوہے فیم خواجہ نون غنوں کے ایک بڑے دھڑے کی تنقید سے زیادہ طعن و تشنیع کا نشانہ بنا ہوا ہے۔
دوسری طرف مگر لندن میں موجود نونی مافیا یعنی جاتی عمرہ کے ناشریفوں کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے پارٹی کے سبھی دھڑوں کو بڑی کامیابی کے ساتھ رام کر لیا ہے کہ آرمی ترمیمی ایکٹ پرغیر مشروط حمائت کے ذریعے دراصل انہوں نے پارٹی اور اس کے وابستگان کے مفادات کو محفوظ بنا دیا ہے اس ضمن میں ان کی دلیل یہ ہے کہ اس طرح انہوں نے ملک کے مقتدر حلقوں سے مفاہمت پیدا کر لی ہے۔ اور اب وہ ان کے لئے نرم گوشہ پیدا کر لیں گے۔
2۔ اس محاذ پر اپنے تئیں کامیابی کے بعد ناشریف برادران نے جو دوسری چال چلائی اور جس کا ذکر اس سلسلہ مضامین کے پہلے جزو میں کیا چکا ہے، وہ ہے عمران حکومت کو اس کے اتحادیوں سے محروم کر دینا۔ نون لیگ اپنی اس چال میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں پر ایک بات تو یہ ہے کہ اس نے عمران حکومت کے اس نازک حصے پر وار کیا ہے جس سے واعی اسے ایک زبردست پسپائی کاسامنا کرنا پڑسکتا ہے۔اور عمرانی حکومت کا یہ نازک حصہ ہے اس کی اتنہائی کمزور پارلیمانی عددی قوت۔
یہ حقیقت ہے کہ 342ارکان کی قومی اسمبلی میں پاکستانی تحریک انصاف کے پاس صرف156نشستیں ہیں۔ بلاشبہ اس عددی قوت کے ساتھ وہ ایوان کی سب سے بری جماعت تو ہے مگر حکومت سازی کے لئے درکار172نشستوں سے ، اس کے پاس6نشستیں کم ہیں۔ اس ضعف کو ختم کرنے کی غرض سے پی ٹی آئی نے پانچ ہم عصر جماعتوں یعنی ایم کیو ایم
(باقی صفحہ7 بقیہ نمبر11 پر)
(7) بی این پی مینگل(5)، قاف لیگ(5) جی دی اے(3)، اور عوامی مسلم لیگ(1)، کے ساتھ اتحاد بنا کر حکومت تشکیل دے رکھی ہے۔
اب صورت حال یہ ہے کہ ان میں سے کوئی ایک یا دو جماعتیں بھی حکومت سے الگ ہوتی ہیں تو عمران خان کو گھر کا راستہ دیکھنا پڑ سکتا ہے۔
اب اس وقت کیفیت پر ہے کہ نون لیگ کی لندن میں براجمان مافیائی قیادت وقت طور پر اپنے مقاصد میں بہت حد تک کامیاب نظر آرہی ہے۔
یعنی 1۔ مقصد حلقوں سے مفاہمت کا ”کامیاب “ تاثر،
2۔ حکومت کو اس کے اتحادیوں سے محروم کر دینے کا اقدام
3۔ اور ان دونوں کے تناظر میں میڈیا کے ذریعے یہ عمومی تاثر اجاگر کر دیا گیا ہے کہ عمران حکومت اب چند روز ہی کی مہمان ہے۔ اور یہ کہ اس کی جگہ شریف برادران ہی مسند اقتدار پر براجمان ہوں گے۔ اقتدار کی اس گاجر کو دکھا کر ناشریفوں نے اپنی پارٹی کے باطن سے کسی نئی قاف لیگ کے جنم کو فوری طور پر تو معرض التوا میں ڈال دینے کی کامیابی حاصل کر لی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ عمران خان اور ان کی پارٹی اپنے خلاف امندھتے طوفان کو کس طرح روکیں گے(جاری ہے)

You might also like More from author