سلامتی کونسل کے اجلاس کا خیر مقدم کرتے ہیں: مسئلہ کشمیر کے حل کی تدبیر وقت کا اہم تقاضا ہے: عمران خان

جموں و کشمیر عالمی تنازعے کی حیثیت سے سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے کونسل کی جانب سے اس پر غورصورتحال کی نزاکت کے اعتراف و احساس کا مظہر ہے، پاکستان کشمیر کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا، وزیراعظم

اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم عمران خان نے مسئلہ کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہاہے کہ جموں و کشمیر ایک عالمی تنازعے کی حیثیت سے سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے اور کونسل کی جانب سے اس پر غور موجودہ صورتحال کی نزاکت کے اعتراف و احساس کا مظہر ہے۔سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں انہوںنے کہاکہ جموں و کشمیر ایک عالمی تنازعے کی حیثیت سے سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے اور کونسل کی جانب سے اس پر غور موجودہ صورتحال کی نزاکت کے اعتراف و احساس کا مظہر ہے۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کی روشنی میں مسئلہ کشمیر کے حل کی تدبیر وقت کا اہم تقاضا ہے۔اپنے پیغام میں انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہم اہلِ کشمیر کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک انہیں ان کا بنیادی (ناقابلِ انتقال) حقِ خودارادیت مل نہیں جاتا۔

نیویارک (این این آئی) پاکستان اور بھارت کے درمیان 70 سال سے زائد دیرینہ مسئلہ کشمیر پر سلامتی کونسل کا اہم اجلاس منعقد ہوا ہے جس میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر غور کیا گیا۔گزشتہ برس اگست 2019 کے بعد مسئلہ کشمیر پر سلامتی کونسل کا منعقد ہونے والا یہ تیسرا اہم اجلاس ہے جس کے لیے پاکستان نے دوست ملک چین کے ساتھ مسلسل کوششیں کیں اور یہ اجلاس عمل میں آیا۔اجلاس کا انعقاد اقوامِ متحدہ کے تحت ڈپارٹمنٹ آف پیس آپریشنز اور پولیٹکل اینڈ پیس بلڈنگ افیئرز کی جانب سے کیا گیا ہے جس میں 15 ممالک کے نمائیندوں نے شرکت کی۔اجلاس کا انعقاد مسئلہ کشمیر کی عالمی حیثیت کو ظاہر کرتا ہے اور عالمی برادری بھی اسے ایک اہم بین الاقوامی تنازعہ سمجھتی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی کشیدہ صورت حال اور لائن آف کنٹرول پر اشتعال انگیزی کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس ہوا۔یہ اجلاس پاکستان کی درخواست پربلایا گیا تھا، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے گذشتہ برس دسمبر میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کو خط لکھ کرکشمیر کی صورتحال پر توجہ دلائی تھی۔کشمیر کی صورتحال پر سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے میں چین نے کلیدی کردار ادا کیا۔ اجلاس میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر ایک بار پھر غور کیا ، اس دوران امن آپریشنز اور سیاسی امور کے محکموں نے سلامتی کونسل کو بریفنگ دی۔بریفنگ کے بعد کونسل کے ممبران کے درمیان صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا جس میں کونسل کے تمام 15 ممبران نے اس مباحثے میں حصہ لیا۔سلامتی کونسل کے کشمیر سے متعلق اجلاس کے بعد اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب زینگ جن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کشمیرکی صورتحال پر سلامتی کونسل کی میٹنگ ہوئی جس میں مقبوضہ کشمیر کی زمینی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔چینی مندوب کا کہنا تھا کہ کشمیر ہمیشہ سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے میں شامل ہے،چین کا کشمیر کے معاملے پر موقف بالکل واضح ہے۔اقوام متحدہ میں روس کے مستقبل مندوب دمتری پولیانسکی نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان کہا کہ سلامتی کونسل کے بند کمرہ اجلاس میں کشمیر کا معاملہ زیر بحث آیا ہے۔روسی مندوب کا کہنا تھا کہ روس پاکستان اور بھارت کے تعلقات معمول پر لانے کا خواہاں ہے۔دمتری پولیانسکی کا کہنا تھا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ شملہ معاہدے اور لاہور اعلامیہ کی بنیاد پر دو طرفہ کوششوں کے ذریعے دونوں ملکوں کےاختلافات دور ہوجائیں گے۔خیال رہے کہ یہ گزشتہ 6 ماہ کے دوران دوسری مرتبہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس ہے۔ اس سے قبل گزشتہ برس اگست میں تقریباً 50 برس بعد مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورت حال پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا تھا جس میں مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔مقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار نے اگست 2019 میں کرفیو نافذ کرتے ہوئے سابق وزرائے اعلیٰ اور سری نگر کے میئر سمیت مقامی سیاسی قیادت کو گرفتار کر لیا تھا اور بین الاقوامی میڈیا کے مطابق بھارتی فورسز کی جانب سے گرفتار افراد کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔پاکستان کی جانب سے بھی بھارتی اقدامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مودی سرکار سے کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے کا مطالبہ کیا گیا۔

You might also like More from author