آرمی چیف کی وزیراعظم سے ملاقات: ملکی سکیورٹی صورتحال اور لائن آف کنٹرول بارے تبادلہ خیال

وزیراعظم پاکستان کی سربراہی میں اجلاس، رواں سال 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر بھرپور طریقے سے منانے کا فیصلہ،مقبوضہ وادی کی موجودہ صورتحال کے مختلف پہلوو¿ں کا جائزہ ،مشرق وسطیٰ کی تیزی سے تبدیل ہوتی صورتحال پر بات چیت

اسلام آباد (این این آئی) وزیراعظم عمران خان سے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملاقات کی جس میں ملکی سیکیورٹی صورتحال سمیت لائن آف کنٹرول کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق جمعرات کو وزیراعظم عمران خان سے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملاقات کی ۔ نجی ٹی وی کے مطابق دونوں رہنماﺅںکی ملاقات میں ملک کی سیکیورٹی صورتحال سمیت لائن آف کنٹرول کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔دریں اثناءوفاقی حکومت کی طرف سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ رواں سال 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر بھرپور طریقے سے منایا جائے گا۔وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت مقبوضہ کشمیر سے متعلق اعلیٰ سطح اجلاس ہوا، اجلاس میں مقبوضہ وادی کی موجودہ صورتحال کے پہلوو¿ں کا بغور جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم کے زیر صدارت اجلاس کے دوران پاک فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ، آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید شریک ہوئے۔اجلاس کے دوران سیکرٹری خارجہ سہیل محمود، وزیراعظم کے معاون خصوصی معید یوسف اور دیگر سینئر حکام نے بھی شرکت کی اور مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارتی اقدامات کی مذمت کی۔یاد رہے کہ بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی ہوئی ہے جس کے بعد وادی بھر میں لاک ڈاو¿ن کا سلسلہ جاری ہے جبکہ مقبوضہ وادی دنیا کی سب سے بڑی جیل بنی ہوئی ہے جہاں پر 80 لاکھ مسلمانوں کے لیے 9 لاکھ بھارتی فوجی تعینات کیے گئے ہیں۔شرکا نے مقبوضہ کشمیر میں 165 روز سے جاری بھارت کے غیر انسانی لاک ڈاو¿ن اور 9 لاکھ قابض بھارتی افواج کے ہاتھوں کشمیریوں کے حقوق کی پامالیوں کی مذمت کی۔شرکا کا کہنا تھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت کے متشدد بیانات اور جارحانہ اقدامات کے باعث علاقائی امن و استحکام کو خطرہ ہے۔شرکا کا مزید کہنا تھا کہ آر ایس ایس سے متاثر بی جے پی حکومت کی مسلمان اور کشمیر مخالف ہندوتوا کی سوچ خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرناک صورتحال پیدا کرنے کی ذمہ دار ہے۔شرکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں 15 جنوری کو مسئلہ کشمیر پر غور کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیر پر غور صورتحال کی سنگینی کا عالمی سطح پر اعتراف ہے۔
وزیر اعظم نے کشمیریوں کی ان کا حق خودا رادیت ملنے تک غیر متزلزل سیاسی، اخلاقی و سفارتی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔اس سے قبل ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک بار پھر مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل اراکین نے پانچ اگست کے بھارتی اقدامات کو تناو¿ میں اضافے کی وجہ قرار دیا۔ پاکستان مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی میں کمی کے لیے بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔ہفتہ وار بریفنگ میں عائشہ فاروقی کا کہنا تھا کہ دنیا کشمیریوں کی آواز سن رہی ہے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مقبوضہ کشمیر کو ایک بار پھر متنازع تسلیم کرنا اس بات کا ثبوت ہے۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا واضح موقف ہے کہ جنگ مسائل کا حل نہیں، کشیدگی میں کمی کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔عائشہ فاروقی کا مزید کہنا تھا کہ دنیا کے 28 ممالک میں 10 ہزار سے زائد پاکستانی قید ہیں۔ ولی عہد محمد بن سلمان کے اعلان کے بعد سعودی عرب نے 579 پاکستان قیدی ریا کئے۔ افغان امن عمل پر پاکستان، امریکا اور طالبان کے حالیہ اقدامات کا خیر مقدم کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو خوشی ہے کہ سیکورٹی کونسل نے ایک مرتبہ پھر مقبوضہ جموں وکشمیر کی صورتحال پر غور کیا ہے۔ اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل کے گزشتہ روز کے سیشن میں ایک مرتبہ پھر تصدیق کی گئی کہ مقبوضہ کشمیر عالمی تسلیم شدہ تنازع ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ نے ریاض اور تہران میں ملاقاتیں کیں، خطے اور دیگر ممالک کے کئی وزرائے خارجہ سے رابطے کیے۔ وزیر خارجہ نے پاکستانی موقف پہنچایا کہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔

You might also like More from author