جب بے بسی کی کوکھ میں پلنے والا غصہ طوفان بن کر اٹھتا ہے ۔۔  

 

جو موضوعات ہمیشہ زندہ رہتے ہیں ان سے متعلق لکھی گئی تحریوں کا

یہ سلسلہ ءنشر مکرّر آپ کے لئے دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا۔۔۔

 

غصہ جب آسمانوں پر آتا ہے اورآدمی کا جی چاہتا ہے کہ آسمانوں کا منہ نوچ ڈالے تو وہ کرتا کیا ہے ؟

آسمان تو اس کے طیش کی پہنچ سے بہت دور ہوتے ہیں۔

اس کے غیظ وغضب کی رسائی چند فٹ اوپر پرواز کرنے والے پرندوں تک بھی نہیں ہو پاتی ۔

پھر خالی ہاتھ وہ اپنا غصہ کیسے اور کس پر اتارتا ہے؟

اگر دیوار سامنے آجائے تو ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے مکے دیوار پر برسانے لگے۔ یا پھر دیوار کے ساتھ اپنا سر ٹکرانے لگے۔

آپ نے غصے کی حالت میں لوگوں کو سر کے بال نوچتے بھی دیکھا ہو گا۔

آپ نے یہ بھی دیکھا ہوگا کہ لوگ اپنا غصہ اپنے آپ پر اتارنے کے علاوہ اپنوں پر بھی اتارتے ہیں

یہ ساری تمہید میں نے اس واقعے کے حوالے سے باندھی ہے جس کی خبریں آپ نے دلچسپی اور تشویش کے ملے جلے احساس کے ساتھ پڑھی ہوں گی۔

ایک بے حس نظام میں کام کرنے والا ایک بے بس پولیس مین ¾ اپنے ماحول کی مجرمانہ عدم توجہی اور ظالمانہ بے اعتنائی کا شکار بن کر چل بسا ¾ تو اس کے ساتھی اپنے اندر اٹھنے والے غم وغصے کے طوفان کو نہ دبا سکے۔

وہ سرتا پا وحشت بھرااحتجاج بن گئے۔ اور اپنا غم وغصہ نکالنے کے لئے انہوں نے اپنے نشانے تلاش کرلئے۔ مگر کیا یہ کہانی اسلام آباد پولیس کے خلاف پنجاب پولیس کے قہر و غضب کی تھی ۔؟

یا پھر یہ کہانی ہمیں اس کہانی کی یاد دلاتی ہے جب اہل فرانس کی وحشت نے شاہی محل کی فصیلیں توڑ ڈالی تھیں۔؟

یہ بات کسی اور نے نہیں ¾ روسونے کہی تھی کہ بے بسی اور ناامیدی کا غصہ ¾ بپھری ہوئی موج کا روپ دھارلے تو اس کے سامنے صدیوں سے قائم چٹانیں بھی نہیں ٹکتیں۔

تو اے آسودگی کی گود میں پلنے۔۔۔

اور خدا کی زمین میں ظلم کا بیج بونے والو۔۔۔

ڈرو اس غصے سے جو بے بسی کی کوکھ میں پلتا ہے !

)یہ کالم اس سے پہلے بھی 23-06-2007کو شائع ہوا تھا(

 

 

You might also like More from author