عمران خان اس سونامی کا مقابلہ کسطرح کریں گے

لندن اور کراچی میں عمران مخالف وارداتیں زوروں پر ، حکومتی اتحاد میں شامل پانچ میں سے چار اتحادی”بغاوت“ کی راہ پر چل نکلے

سسلین مافیاز اور الکپون کے انڈے بچے اپنے ملک میں کئے گئے معاشی جرائم اور عوامی لوٹ کھسوٹ کے گناہوں سے بچنے کے لئے پاکستان کے بوسیدہ سٹیٹس کو کوغچہ دے کر ان دنوں اسی شہر فسوں کار کے بالا خانوں اور سیون سٹار ریستورانوں میں بیٹھ کر ملک کے خلاف ریشہ دوانیوں اور سازشوں کے جال بُن رہے ہیں۔ پاکستان سے فرار ہونے کے لئے نا اہل اور سزایافتہ قیدی نواز نا شریف اور دوسرا ملزم “ مجرم“ برادر اصغر شوباز نا شریف اور اپنے اہل خانہ میں شامل متعدد مغرورین اور مقربین کے ساتھ مل کر اپنے خلاف احتساب کرنے والے افراد اور اداروں کو متنازعہ اور ، بے اثر بنانے کی بیش از بیش ”کامیاب“ سکیمیں وضع کیں۔ یہاں تک کہ ملک میں ”قریب المرگ“ سابق حکمرانوں نے ایسا ماحول کھڑا کر دیا کہی ملک میں اعلیٰ ترین سطح پر فیصلہ ساز بھی انکے دام فریب میں آگئے۔ اس کامیاب فریب کاری نے ان کے منفی عزائم پر مشتمل صلاحیتوں کو ایک بار پھر کھل کر کھیلنے کا موقع مل گیا اور وہ کمال ہنر مندی سے عمران خان اور ان کی حکومت کے نیچے سے قالین کھینچ لینے کے داو¿ پیچ برتاوے میں لا رہے ہیں۔ اور ایک معین مفہوم میں ان کی حالیہ وارداتیں ان کی اپنی ترجیحات کے مطابق بہت حد تک کامیاب جارہی ہیں۔
لندن میں مقیم پاکستانی سسلین مافیاز کی تازہ ترین واردات کا ایک عکس حالیہ ایام میں حکومتی اتحادیوں کی طرف سے عمران خان کے خلاف ایک نرم رو ”بغاوت“ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ پہلے ایم کیو ایم اور اس کے بعد قاف لیگ نے وعدے ایفا نہ ہونے کی شکائت کے لئے کابینہ کے فورم یا وزیر اعظم سے براہ راست مذاکرات کی بجائے میڈیا کا انتخاب کیا۔ ایم کیو ایم کے کنویئنر خالد مقبول صدیقی نہ صرف اسلام آباد سے کراچی چلے گئے بلکہ وہاں ایک دھواں دھار پریس کانفرنس میں حکومتی ”بے اصولوں“ کا بھانڈا بھی پھوڑ دیا۔ جیسا کہ ہر کوئی باخبر ہے کہ ایم کیو ایم دباو¿ بھاو¿ تاو¿ اور جھکاو¿ کے حربوں کا ملکہ رکھتی ہے۔ کہا گیا کہ خالد مقبولی صدیقی اب اپنی وزارت میں نہیں رہے۔ ہاں البہ ہم حکومت سے اتحاد کا رشتہ نبھاتے رہیں گے۔ رات گئے ان کے ایک دوسرے اہم رہنما عامر خان نے ایک انٹرویو میں برملا کہہ دیا کہ ان کی پارٹی صرف ایک ہفتہ انتظار کر ے گی اگر اس دوران حکومت نے اپنے وعدہ پر عمل کر دکھایا تو ٹھیک، بصورت دیگر ہماری راہیں اسلام آباد سے جدا ہو جائیں گی۔
ابھی ایم کیو ایم کی در فنطنی کی گونج فضا میں موجود تھی کہ ق لیگ والے بھی میدان میں اتر آئے۔ انہوں نے اپنی گلہ گزاری کے لئے اپنے کوٹے کے وزیر طارق بشیر چیمہ کا انتخاب کیا اور خود چوہدری برادران” فیس سیونگ“ کے لئے پس پردہ رہے۔ چیمہ کا کہنا ہے ہم وضعدار لوگ ہیں۔ صبر شکر کا دامن بھی آسانی سے نہیں چھوڑتے البتہ اس بار یعنی سولہ ماہ گزر جانے کے باوجود عمران حکومت نے اپنے وعدوں کی پاسداری کرتے وہئے کوئی مثبت پیش رفت نہیں کی۔ ہم حکومت کو کسی طور گرانے والوں میں شامل نہیں ہوں گے۔ البتہ ہمیں چونکہ عوام کو جوابدہ ہونا پڑتا ہے لہٰذا اگر حکومت نے وعدوں کے مطابق ہماری بات نہ سنی تو ہم علیحدگی پر مجبور ہو سکتے ہیں۔
یہی بلوچستان نیشنل پارٹی ( بی این پی) کا ہے۔ گو کہ تا حال انہوں نے دوسرے اتحادیوں کے برعکس میڈیا میں واویلا ایکشن نہیں کیا مگر ماضی قریب میں اس کے سربراہ اختر مینگل کی تلون مزاجی کے پیش نظر کچھ بعید نہیں کہ وہ بھی دوسرے ناراض اتحادیوں کی پیروی میں میڈیا میں اپنی شکایات کے انبار لگا دیں۔
اتحاد میں شامل چوتھی پارٹی گریند ڈیمو کرٹیک الائنس یعنی جی ڈی اے ہے۔ سندھ کے چھوٹے چھوٹے پریشر گروپس کے اس مجموعے کی سربراہی پرلگالگاڑا کے پاس ہے۔ انہوں نے بھی عمران حکومت کو آنکھیں دکھا دی ہیں۔ حکومتی اتحاد کی پانچویں جماعت یک نشتی پاکستان عوامی مسلم لیگ ہے جس کے سربراہ شیخ رشید ہیں۔ شیخ صاھب کے بارے میں مکمل یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ کسی طور عمران کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔
تازہ ترین صورت حال کے مطابق ناشریف برادران کی سربراہی میں لندن میں بیٹھا سسلین مافیا نہ صرف ان تمام ناراض اور باغی اتحادیوں سے رابطے میں ہیں بلکہ پیپلز پارٹی بھی ایم کیو ایم کو سندھ حکومت میں شمولیت کی پیشکش کے ساتھ باقی سیاسی باغیوں سے بھاو¿ تاو¿ میں مصروف ہے۔ اس صورت حال نے قومی سیاسی منظر نامے کو متزلزل بنا دیاہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان اس یکدم اٹھنے والے سونامی کا مقابلہ کس طرح کرتے ہیں۔ (جاری ہے)

You might also like More from author