قبائلی علاقہ جات جیسے کم ترقی یافتہ علاقوں پر خصوصی توجہ ہے: محمود خان

تمام صوبے کا وزیر اعلی ہوں ،سب کےساتھ انصاف کروں گا،ڈیرہ کے دیرینہ مطالبے لفٹ کینال کے منصوبے کو 120ارب کی لاگت سے سی پیک کا حصہ بنا دیاگیا

ڈیرہ اسماعیل خان(اےن اےن آئی) وزیراعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ ہماری حکومت پورے صوبے باالخصوص جنوبی اضلاع اور قبائلی علاقہ جات جیسے کم ترقی یافتہ علاقوں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے جبکہ ماضی میں صرف اپنے آبائی علاقوں پر توجہ دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ میں تمام صوبے کا وزیر اعلی ہوں تمام کے ساتھ انصاف کروں گا۔ وہ جمعرات کو وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈہ پور کی رہائش گاہ پر اپنے اولین دورہ ڈیرہ اسماعیل خان کے موقع پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر وزیر اعلی کے مشیر برائے قبائلی علاقہ جات اجمل خان وزیر، ممبر نیشنل اسمبلی یعقوب شیخ، سابق تحصیل ناظم عمر امین بھی موجود تھے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی نے کہا کہ ہم نے ڈیرہ کے دیرینہ مطالبے لفٹ کینال کے منصوبے کو 120ارب کی لاگت سے سی پیک کا حصہ بنا دیا ہے۔ 350اربکی مالیت سے پشاور سے ڈیرہ اسماعیل خان تک ایکسپریس وے تعمیر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈیرہ کے علاقے پنیالہ کو جلد ہی تحصیل کا درجہ دے رہے ہیں جبکہ زرعی یونیورسٹی کی عمارت پر جلد کام شروع ہو گا اور گومل یونیورسٹی اور ہسپتالوں کو درپیش مسائل کے حل ہماری ترجیحات میں شامل ہیں۔ انہوں نے ڈیرہ اسماعیل خان میں دو سپورٹس جمنیزیم، ٹریفک وارڈن کا نظام اور دو فلائی اوورز کی تعمیر کا اعلان کیا جبکہ تحصیل پہاڑپورمیں گومل یونیورسٹی کا کیمپس بنایا جائیگا۔ وزیر اعلی نے کہا کہ واپڈا اور گیس سے متعلق مسائل سے ہم واقف ہیں۔ 9ملین روپے سے کرک میں پراجیکٹ کا اعلان کر چکا ہوں جس سے سپلائی اور پریشر میں بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ضلع ٹانک میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے 30کروڑ کا ترقیاتی پیکج دیا ہے جبکہ جنڈولہ کی 42کلومیٹر پر مشتمل سڑک کی تعمیر کی جائیگی، 83ارب روپے کا ہمارا قبائلی علاقہ جاب میں بجٹ کی پہلے مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ پروآ تا چودھوان اور ڈیرہ تا کلاچی روڈ کی تعمیر کے علاوہ آرکیالوجی ورثہ کو محفوظ کرنے کیلئے بھی فنڈز دینے کا اعلان کیا۔قبل ازیں ڈیرہ آمد کے فورا بعد وزیر اعلی نے ڈیرہ سپورٹس کمپلکس سے متصل 64ملین روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والے یوتھ کمپلکس کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈہ پور، ڈی آئی جی امتیاز شاہ، ڈپٹی کمشنر ڈیرہ محمد عمیر بھی موجود تھے۔یوتھ کمپلکس میں 100افراد کے رہنے کی گنجائش ہو گی۔انہوں نے وفاقی حکومت کے تعاون سے مکمل ہونیوالے پاکستان ایگری کلچر ریسرچ کونسل (PARC)کے تحقیقاتی سنٹر کا بھی افتتاح کیا اس کے بعدوزیر اعلی نے وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈہ پور کے ہمراہ دریائے سندھ کے کنارے سیاحتی مقام پر زیر تعمیر فوڈ سٹریٹ کا معائنہ بھی کیا۔اس موقع پر بریفنگ دیتے ہوئے وزیر اعلی کو بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا اپ لفٹ اینڈ بیوٹیفیکیشن پروگرام کے تحت اس فوڈ سٹریٹ کے علاوہ ڈیرہ اسماعیل خان میں دریائے سندھ کے کنارے سیر گاہوں کی تعمیر، نخلستان/کشمیر پارک کا قیام اور سرکلر روڈ سمیت شہر کی دیگر شہراہوں کی تعمیر کروڑوں روپے کی لاگت سے مکمل کی جا چکی ہے۔ وزیر اعلی نے ان تینوں منصوبوں کی تختیوں کی نقاب کشائی کر کے افتتاح کیا۔ اس موقع پر ریسکیو 1122 کے چاق و چوبند دستے نے وزیر اعلی کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔ ریسکیو 1122کے ایمرجنسی آفیسر نے وزیر اعلی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں 144.236ملین روپے کی لاگت سے مین آفس اور دیگر ایمرجنسی سہو لیات کی فراہمی مراکز قائم کیے جا رہے ہیں جس سے ضلع کی عوام کو ہنگامی صورتحال میں فوری ابتدائی امداد فراہم کی جا سکے گی۔

You might also like More from author