جنرل ہوں یا سیاستدان، ایک ہی بات ہے، یا نہیں؟

جو موضوعات ہمیشہ زندہ رہتے ہیں ان سے متعلق لکھی گئی تحریوں کا
یہ سلسلہ ءنشر مکرّر آپ کے لئے دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا۔۔۔

حکومت کرنے کی تمنا ہر دل میں دھڑکا کرتی ہے۔ آپ ہم جیسے لوگ اس تمنا کو چھپائے رکھتے ہیں۔ سیاستدان چھپانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔اور چھپانے کی ضرورت جنرلوں کو بھی محسوس نہیں ہوتی۔ یہ بات البتہ ضرور ہے کہ عوام کی خدمت کرنے کے بے پایاں جذبے کو سیاستدان۔۔۔ اور ملک و قوم کی ڈوبتی کشتی کو کنارے لگانے کے عزم صمیم کو جنرل ¾ اپنی ” طلب اقتدار“ کی وجہ بتایا کرتے ہیں۔
ایک حقیقت واضح ہے کہ حکومت کسی نہ کسی نے ضرور کرنی ہوتی ہے۔ حکومت کے بغیر کوئی ملک نہیں چل سکتا۔
ایک رائے یہ ہے کہ اگر کسی نہ کسی نے حکومت کرنی ضرور ہے تو اس بات سے کیا فرق پڑتا ہے کہ حکومت کوئی ایسا سیاستدان کرے جس کو اپنی پارٹی یا پارٹیوں کے اتحاد کی حمایت حاصل ہو۔ یا پھر کوئی ایسا جنرل کرے جس کے احکامات کی تعمیل میں سپاہی بندوقیں تان لینے کے لئے تیار ہوں۔ اس رائے کے مطابق اہم بات یہ نہیں کہ حکومت کرنے والا ایک سول سیاستدان ہے یا ایک وردی پوش جنرل۔ اہم بات یہ ہے کہ وہ حکومت کرنے کی اہلیت لیاقت اور فراست رکھتا ہے یا نہیں ۔؟
دوسری رائے یہ ہے کہ حکومت بہرحال خدا کی ہونی چاہئے۔ اور خدا نے چونکہ اپنی کتاب میں ” ملک و معاشرے“ کو چلانے کے لئے قواعد و ضوابط طے کردیئے ہیں۔ اور چونکہ وہ قادر مطلق ہونے کی وجہ سے خود حکومت چلانے کے لئے کوئی روپ نہیں دھار سکتا ¾ اس لئے اس نے یہ کام اپنے خلیفے یعنی انسان کے سپرد کردیا ہے ۔ اس رائے کے مطابق انسان سے مراد خلق خدا ہے۔
یہ وہ رائے ہے جو عوام کے حق حاکمیت اور سلطانی جمہور کے تصور سے جڑی ہوئی ہے۔
جتنے بھی ” طلب گاران اقتدار“ ہیں ان کی صوابدیدپر ہے کہ وہ اس حق اور تصور کو تسلیم کریں یا نہ کریں۔ اور یہ بات بھی ان کی صوابدید پر ہے کہ وہ اپنی حکومت اس حق اور اس تصور کی آڑ میں قائم کرتے ہیں یا براہ راست اعلان کرتے ہیں کہ ” میں تو وردی میں ہوں ¾ اور وردی میں ہی رہناچاہتا ہوں۔۔۔!“
)یہ کالم اس سے پہلے بھی 14-06-2007کو شائع ہوا تھا(

You might also like More from author