بھارت ۔۔۔ آبی دہشتگرد (آخری قسط) افواج پاکستان دفاع وطن کے لئے ہر دم تیار!

اکھنڈ بھارت کے پرچار کوں کو خردار رہنا چاہئے کہ اگر اب انہوں نے پاکستانی کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا بھی ، تو 22کروڑ عوام اور ان کی بہادرو جانباز افواج نئی دلی کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دیں گے۔

اگلے چھ سال تک فریقین کے مابین مذاکرات جاری رہے یہاں تک کہ19ستمبر1960کو کراچی میں پاکستان اور بھارت کے مابین دریائی پانی کی تقسیم کا ایک معاہدہ طے پا گیا جسے ”سندھ طاس معادہ“ کا نام دیا گیا۔ پاکستان کی طرف سے اس وقت کے صدر جنرل ایوب خان اور بھارت کے پہلے وزیر اعظم پنڈٹ جواہر لعل نہرو نے دستخط کئے۔ معاہدے کی رو سے طے پایا کہ مستقبل میں دریائے سندھ اور اس کے معاونین میں سے تین مشرقی دریا بیاس ستلج اور راوی بھارت کے تصرف میں رہیں گے جبکہ تین مغربی دریاو¿ن چناب جہلم اور سندھ کا پانی پاکستان کے حصے میں ہوگا۔
سندھ طاس معاہدہ کی دیگر شرائط کے ساتھ ایک شرط یہ بھی تھی کہ بھارت پاکستان کے حصے میں آنے والے تین دریاو¿ں یعنی چناب، جہلم، سندھ کے پانیوں کو چند مخصوص ضروریا ت کے لئے اپنے استعمال میں لا سکتا ہے۔ مثلاً کشتی رانی، فش فارمنگ اور محدود مقدار میں برقی پیداوار وغیرہ۔ اس ضمن میں معاہدے کی ایک شق کی رُو سے بھارت پانی کی بیس فیصد مقدار سے زیادہ حجم کو اپنے برتاوے میں نہیں لا سکتا۔
اس ضمن میں عالمی بنک نے دونوں ممالک میں انڈس واٹر بورڈ کے قیام کی تشکیل کی بھی سفارش کی۔
سندھ طاس معاہدے کو بروئے عمل آئے60برس ہو چکے ہیں۔ اس دوران معاہدے کی رو سے دریائی پانی کے استعمال کے حوالے نشیب و فراز کا ایک سلسلہ چلتا رہا۔ دونوں ممالک کے آبی بورڈ بھی باہمدگر اشتراک عمل سے منسلک رہے۔ تاہم بھارت کی طرف سے ہمارے دریائی پانی کے ناجائز استعمال کی شکایات عام رہیں۔ تین مشرقی دریاو¿ں کا تصرف تو معاہدے کی رو سے بھارت کے پاس تھا ہی مگر ہوا یہ کہ اس نے ہمارے حصے کے تینوں دریائی پانی پر کھینچا مارنے کی سفارشیں کرتارہا۔ اور اب تازہ ترین دھمکی نے بھارتی عزائم کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ اس دھمکی کی رو سے کہا گیا ہے کہ بھارت پاکستانی دریاو¿ں کا پانی روک کر اسے بنجر بنا کر رکھ دے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ بھارت اب تک اس سازش پر بہت حد عمل پیرا ہو چکا ہے۔ ہمارے تینوں دریاو¿ں چناب ، جہلم، سندھ پر اس نے سینکڑوں چھوٹے اور بیسیوں بڑے ڈیم بنا کر عالمی قوانین کی شدید خلاف ورزی کا ارتکاب کیا ہے۔ اس ضمن میں دریائے چناب پر تعمیر کردہ کشن گنگا ڈیم کا تنازعہ تو عالمی بنک کے ثالثی کمیشن کے ہاں زیر سماعت ہے۔ مزید براں چناب پر ہی چھ ہائیڈرد پاور پروجیکشن اور آب پاشی کے بیسیوں منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچا کر بھارت نے پاکستان دشمنی کے گھناو¿نے جرم کاارکاب کیا ہے۔
مقام صد افسوس ہے ایک طرف بھارت پاکستان کے خلاف ایسی سنگین خلاف ورزیاں کئے جا رہا تھا مگر ہمارے ہاں باری کی یاری والی پی پی پی اور نون لیگی حکومتیں حالات کی سنگینی سے بے نیاز اور لاپروا ہوتے ہوئے ملکی دولت کی لوٹ کھسوٹ میں مصروف رہیں۔ اس ضمن میں نون لیگ اور بطور خاص نواز ناشریف کا کردار محل نظر ہے۔
اب کہ بھار ت ایک بار پھر اپنے مخصوص حالات اور پاکستان دشمنی کے پرانے ایجنڈے پر عمل کرتے ہوئے ایک بار پھر پاکستان کے دریائی پانیوں کو رو ک کراسے آبی دہشتگردی کے نشانے پر رکھنا چاہتا ہے اور اس نے آنے والے ایام میںپاکستانی دریاو¿ں کا پانی روک دینے کا الٹی میٹم بھی دے دیا ہے۔ عمران خان کی حکومت نے دو ٹوک انداز میں بھارت کو متنبہ کر دیا ہے کہ وہ اس نوعیت کی کسی حماقت کا سوچے بھی نہیں۔ بصورت دیگر پاکستان کی بہادر افواج اپنے 22کروڑ عوام کے اشتراک سے بھارت کو ایسا سبق سکھانے کو تیار ہیں کہ بھارت کی آنے والی کئی نسلیں اسے یاد کر کے روتی رہا کریں گی۔۔

You might also like More from author