فاصلہ لاکھوں میل کا ہے، صرف ایک  فٹ کم ہوجائے تو غنیمت ہے

جو موضوعات ہمیشہ زندہ رہتے ہیں ان سے متعلق لکھی گئی تحریوں کا

یہ سلسلہ ءنشر مکرّر آپ کے لئے دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا۔۔۔

 

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ وطن عزیز میں بہت سارے لوگوں کے پاس بہت سارا پیسہ آگیا ہے۔ عام فہم بات یہ ہے کہ جب اتنے سارے لوگوں کے پاس اتنا سارا پیسہ آتا ہے تو اس کا مطلب اس کے سوا اور کوئی نہیں لیا جاتا کہ زراعت اور صنعت میں بے پناہ ترقی ہورہی ہے۔ اور ہم اپنی مصنوعات بے تحاشہ بیرونی ممالک کو برآمد کرکے اتنا ڈھیر سارا زرمبادلہ کما رہے ہیں کہ سمجھ میں نہیں آتا کہ فالتو آمدنی کہاں خرچ کریں۔؟ چنانچہ بڑی بڑی کاریں اور دیگر ” سامان تعیش و امارت“ درآمد کرکے اپنے سکھ چین میں اضافہ کررہے ہیں۔

لیکن ایسا ہے نہیں ۔ ہم دو روپے کماتے ہیں تو تین روپے خرچ کرتے ہیں۔ صرف زرمبادلہ کی صورت میں ہی نہیں ¾ اپنی کرنسی کے ساتھ بھی ہمارا سلوک کچھ ایسا ہی ہے ۔ بلکہ اب تو کرنسی کی بھی ضرورت باقی نہیں رہی۔ کریڈٹ کارڈ گھر گھر پہنچ گئے ہیں اور اب یہ مسئلہ بھی نہیں رہا کہ بچت کرکے کار نمبر دو خریدی جائے۔ اب تو ہر کمرے کے لئے ایئرکنڈیشنر بھی ” کارڈ“ پر مل جاتا ہے۔

یہ بات میں متوسط طبقے کے حوالے سے کررہا ہوں۔ جہاں تک امراءکا تعلق ہے اور ایسے لوگوں کا معاملہ جو دس برس قبل کچھ بھی نہیں تھے ان کے پاس اب بے انداز دولت کہاں سے آئی اس کا جواب ماہرین معاشیات کے پاس تو ہوسکتا ہے ¾ اور ان ” ارباب اقتدار“ کے پاس بھی جن کی پالیسیوں کی بدولت اس ” ریل پیل“ نے جنم لیا ہے۔ مگر میرے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں۔

مجھے صرف یہ معلوم ہے کہ زندگی کی تمام لازمی بنیادی سہولتیں ایسے لوگوں کی پہنچ سے دور۔ بہت دور ہوتی چلی جارہی ہیں جو پیاس بجھانے کے لئے بیس روپے کی بوتل نہیں خرید سکتے۔ انہیں بتایا جاتا ہے کہ پانی ابال کر پئیں ورنہ بیماریاں موت بن کر نازل ہوں گی۔ مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ ابالیں کیسے ؟ گیس کہاں سے آئے گی؟

لکھتے لکھتے میں کچھ زیادہ جذباتی ہوگیا ہوں۔ مگر شاید میرے دل کو ایسے بجٹ کا انتظار ہے جو غریب اور امیر کے درمیان فاصلہ کم ازکم ایک فٹ ضرور کم کر دے گا۔ فی الحال تو یہ فاصلہ لاکھوں میلوں کا ہے۔۔۔

)یہ کالم اس سے پہلے بھی 11-06-2007کو شائع ہوا تھا(

 

 

You might also like More from author