اب وہ لکیر پیٹتے رہ جائیں گے

ووٹ کو عزت دینے کے دعوے دار ذلت کا سامان جمع
کرنے میں جُت گئے۔ نون لیگ اور پیپلز پارٹی اپنے ہی ووٹروں سپورٹروں کے نشانے پر آگئیں دونوں پارٹیوں کے دروازوں پر پٹ جھڑ کی دستک!

لاریب اسے خیر مستور ہی کہا جائے گا۔
سیاسی جماعت یا شخصیت کے ساتھ رومان پال لینے والوں کے لئے ایک زبردست سبق!
لوگ اپنی سادہ لوحی میں ایک سیاستدان کی ذات، اس کے سنہرے وعدوں اور لچھے دار تقریروں کے جال میں خودبری طرح پھنسا اور الجا لیتے ہیں یہاں تک کہ جب گاہے انہیں احساس ہوتا ہے کہ ان سے دھوکہ ہوا ہے، انہیں فریب کاری کا شکار بنایا گیا ہے، تب وہ اس سیاسی جماعت یا شخصیت سے جان بھی چھڑانا چاہیں تو ایسا آسانی سے نہیں کر پاتے۔ کہ رومانس کا جال انہیں بری طرح اپنے تانے بانے میں جھکڑے رکھنا ہے۔
نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے متوالے اور جیالے ان دنون اسی الجھن اور ادھیڑ بن کا شکار ہیں۔ اور اس کی وجہ بنا ہے وہ بہت بڑا یو ٹرن جس کی کوئی ان پارٹیوں یا ان کی قیادتوں پر مسلط سیاستدانوں سے توقع نہ رکھتا تھا۔
کل تک صبح شام خلائی مخلوق کے بیانیے کو ہوا دینے والے، ووٹ کو عزت دو کے نعرے لگانے والے اور خود کو نظریاتی ڈیکلر کرنے ولاے سیاستدان اس روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں اور پھر سینٹ فلور پر اوندھے منہ گرے ہوئے تھے۔ اور ہاں جن کی زبانیں عمران خان کے لئے سلیکٹڈ کے طعنوں اور نا اہل ونالائق وزیر اعظم کے القاب سے لتھڑی ہوئی ہرزہ سرائی سے لدی رہتی تھیں اور جو اسے کسی بھی سطح پر پارلیمانی تعاون کا مستحق سمجھنے کے روا دارانہ تھے ، وہ آج اپنی جون ملکی طور پر بدل چکے تھے، کیا نون لیگ اور کیا پیپلز پارٹی آج پی ٹی آئی کے ناہجاروں ، نالائقوں اور نا اہلوں کے ساتھ یوں شیرو شکر ہو رہی تھی ں گویا وہ تینوںایک ہی نظیرے ، ایک ہی مقصد اور ایک ہی حکمت عملی کی نمائندہ جماعتیں ہیں۔
آرمی ایکٹ کی منظوری کے سلسلے میں حکومتی پارٹی کو قومی اسمبلی اور بطور خاص سینٹ میں ٹف ٹائم دینے کی ساری دھمکیاں اور تڑیاں نقش بر آب ثاقب ہو چکی تھیں، مذکورہ ایکٹ قومی اسمبلی میں تو با ٓسانی منظور ہو ہی جانا تھا، سینٹ میں جہاں حکومتی پارٹی حد رجہ ضعف کا شکار ہے وہاں تو حکومت کو اپنا مقصد اور ہدف حاصل کرنے میں فقط بارہ منٹ لگے۔
پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے اینٹی عمران اور اس کی حکومت مخالف پالیسی اور حکمت عملی میں اس120ڈگری کے یوٹرن بابت دونون پارٹیوں نے حسب معمول وسیع تر مفاد کی ترکیب کا سہارا لیا۔
پر سیاسی کارکن اب اتنے بھی سادہ لوح اور بھولے بھالے نہیں رہے۔ ان پارٹیوں کے متوالوں اور جیالوں کا کہنا ہے کہ جن قوتوں بابت یہ دونون جماعتیں خلائی مخلوق کی اصلطاحیں استعمال کرتی رہیں، وہ تو آج بھی پہلے کی طرح قائم و دوائم ہیں۔ بلکہ ان پارٹیوں نے ان کی ملازمتی توسیع میں اپنی حمائت کا ووٹ بھی دے دیا ہے۔ پھر کیا ان پارٹیوں کی قیادتیں اپنے کارکنوں سے ماضی میں جھوٹ بول رہی تھیں یا پھر اب جھوٹ بول رہی ہیں۔ کارکن اس حوالے سے بھی اپنی اپنی قیادت سے بد ظن ہیں کہ وہ انہیں اپنے مفادات کے لئے استعمال کرتی ہیں، جب چاہا کارکنوں کو” ووٹ کو عزت دو“ کے نعرے کی لاٹھی سے ہانکنا شروع کر دیا اور جب چاہا انہیں خلائی مخلوق کی بھول بھلیوں سے ڈراتے رہے۔ اور اب جب ان کا رواں دواں مختلف معاشی جرائم کے سبب سے قانون کے شنکنجے میں پھنسا ہوا ہے تو انہوں نے کل کی مزاحمتی سیاست کو آج مفاہمتی سیاست سے بدل دیا ہے اب تو کارکن کھلے بندوں نون لیگ اور پیپلزپارتی کی مفاداتی قیادتوں پر شدید تنقید کرنے لگے ہیں کہ انہوں نے اپنی اولادوں کو تو بیرون ملک آرام دہ پناہ گاہوں تک محدود رکھا ہوا ہے مگر انہیں لاٹھی گولی کا ایندھن بنانے پر ہر دم تیار رہتی ہیں۔ اسی طرح پیپلز پارتی والے جیالوں کا خون گرمانے کے لئے زرداری ایک موقع پر ہیئت مقتدر کی ”اینٹ سے اینٹ“ بجا دینے کی بڑھکیں لگاتا ہے کارکن اس کی بہادری پر تعریفوں کے قلابے ملاتے ہیں مگر (باقی صفحہ7 بقیہ نمبر11 پر)

جوہنی کسی سمت سے ”گرم ہوا“ کا جھونکا آتا محسوس ہوا زرداری صاحب دم دبا کر دبئی بھاگ گئے اور اگلے ماہ تک وہیں دبکے بیٹھے رہے۔ حد تو یہ سندھ حکومت کی کابینہ کی اکثر میٹنگیں بھی انہون نے وہیں طلب کیں۔
نون لیگ اور پیپلز پارٹی کی مفاداتی قیادتیں اپنے دیرینہ بیانیے سے رجوع کرتے ہوئے اب ایک معین مفہوم میں حکومتی ترجیحات کے بہت قریب آچکی ہیں۔ تو اس پر ان دونوں پارٹیوں کے ایسے کارکن کی اکثریت جو پہلے سے ہی اپنی قیادتوں سے بدظن چلی آرہی تھی، کھلے بندون پی ٹی آئی کی صفون میں شامل ہونے کے اعلان کر رہی ہے۔ جسے روکنے کے لئے اب دونوں ہی پارٹیون کی قیادتیں عذر گناہ بد تراز گناہ کی تصویر بنی نظر آتی ہیں۔ دونون کا بیانیہ ایک سا ہہے۔ جن لوگوں نے حکومتی موقف کی ہاں میں ہاں ملائی ہے انہیں ان پارٹیوں کی حقیقی قیادت کی آشیرباد حاصل نہ تھی۔
سیانے کہتے ہیں نانی نے خصم کیا اچھا نہ کیا، کر کے چھوڑ دیا اور برا کیا۔ کچھ یہی حال پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی قیادتوں کا ہے ۔
دونوں پارٹیوں کی بچھی کچھی لیڈر شپ اپنی دم توڑتی ساکھ کو بچانے کے لئے حکومت کے ساتھ مفاہمت کے تاثر کو زائل کرنے کے لئے مختلف تاویلات سے کھیل رہی ہے۔ مگر بے سود، مبصرین کے نزدیک پی پی پی اور نون لیگ والے سانپ نکل جانے کے بعد اب صرف لیکر ہی پیٹتے رہیں گے۔۔۔

You might also like More from author