ہمیں کسی بھی لیڈر کو اندھی عقیدتوں اور بہری

 نفرتوں کے پیمانے پر نہیں پرکھنا چاہئے جو موضوعات ہمیشہ زندہ رہتے ہیں ان سے متعلق لکھی گئی تحریوں کا  یہ سلسلہ ءنشر مکرّر آپ کے لئے دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا۔۔۔

ایک عرصے تک یہ ” شہرت“ میرا تعاقب کرتی رہی کہ میں نے ” جھوٹ کا پیغمبر“ نامی ایک کتاب لکھی تھی جو 1977ءمیں متعدد بار شائع ہوئی اور بہت بڑی تعداد میں فروخت ہوئی۔ یہ کتاب اکتوبر1977ءکے بعد کبھی شائع نہیں ہوئی کیوں کہ بھٹو مرحوم کی گرفتاری پر میں نے اسے ” دفن “ کردیا تھا۔ اپنے سابقہ ہیرو کے خلاف میرے اندر غم و غصہ کا جو طوفان سقوطِ مشرقی پاکستان کے بعد اٹھا تھا وہ اس مقدمے کی وجہ سے تھمتاچلاگیا جو جنرل ضیاءالحق مرحوم کے دور میں ان کے خلاف قائم کیا گیا اور جس کے نتیجے میں وہ 37برس قبل آج کے روز تختہ ءدار تک پہنچا دیئے گئے۔

اگر بھٹو کے خلاف کوئی مقدمہ چلنا چاہئے تھا تو اس کا تعلق قتل کی ایک ایسی واردات کے ساتھ نہیں ہونا چاہئے تھا جو جس جگہ واقع ہوئی وہاں سے بھٹو سینکڑوں میل دور تھے۔

میری رائے میں یہ ایک ” اخلاقی جرم“ ہے جو جنرل ضیاءالحق سے سرزد ہوا اور جو میرے نزدیک ناقابل معافی ہے۔ لیکن یہ سارا کھیل بنیادی طور پر اقتدار کی جنگ کا حصہ تھا۔ ایک نجی گفتگو میں جنرل ضیاءالحق مرحوم نے اقرار کیا تھا کہ ” اگر میں بھٹو کو پھانسی پر نہ چڑھاتا تو وہ مجھے چڑھا دیتا۔“

اقتدار کی جنگوں میں ایسے ہی المیے جنم لیا کرتے ہیں۔ لیکن آج جب میں پلٹ کر دیکھتا ہوں تو مجھے بھٹو مرحوم اور ضیاءالحق مرحوم دونوں اپنی اپنی جگہ ” تاریخ ساز“ رجال عظیم نظر آتے ہیں۔ اگر یہ کہوں تو غلط نہیں ہوگا کہ دونوں کو راستے سے ہٹانے والا قاتل ایک ہی تھا۔ اور وہ قاتل کوئی ایک فرد نہیں تھا ¾ سوچ کا ایک انداز تھا جس کے مطاق پاکستان جیسے ملکوں کو ایسی مضبوط شخصیات کی قیادت سے محروم رکھا جانا چاہئے۔

دونوں کا جرم ایک ہی تھا۔ دونوں نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے میں بھرپور کردارادا کیا۔ زیادہ کریڈٹ ” بھٹو “ کو ملنا چاہئے کہ حقیقی ” ویژن“ یہ ان کا ہی تھا۔ ایک اور سیاسی ” ویژن “ بھی ایسا ہے جس کے لئے ہمیں بھٹو کا شکر گزار ہونا چاہئے۔ بھٹو نے پاکستان کو جنوبی ایشیاءسے نکال کر مغربی ایشیاءکا حصہ بنانے کی بھرپور کوشش کی۔ لاہور کی اسلامی سربراہی کانفرنس اسی ویژن کا حصہ تھی۔ بھٹو جانتے تھے کہ مغرب ہمیں جنوبی ایشیاءمیں دھکیل کر بھارت کا ایک طفیلی ملک بنانا چاہتا ہے۔ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کا خواب بھی بھٹو نے اسی خدشے کی بناکر دیکھا۔

میں نے ” جھوٹ کا پیغمبر“ بھی صدقِ دل سے لکھی تھی اور دیانتداری کے ساتھ اس احساس سے مغلوب ہو کرلکھی تھی کہ بھٹو نے پاکستان کو ایک عظیم ملک بنانے کا ایک بڑا موقع اقتدار کی کشمکش کا حصہ بن کر کھو دیا۔

اور آج میں بھٹو کو وطنِ عزیز کا ایک بڑا لیڈر تسلیم کرتے وقت بھی اپنے احساسات کے ساتھ مخلص ہوں۔

ہمیں کسی بھی لیڈر کو اندھی عقیدتوں اور بہری نفرتوں کے پیمانے پر نہیں پرکھناچاہئے۔

محترمہ بے نظیربھٹو کے یہ الفاظ میں نہیں بھول سکتا ۔ ” میں جانتی ہوں کہ آپ نے میرے والد کے خلاف ایک خوفناک کتاب لکھی تھی لیکن یہ کتاب ایک ایسے شخص کا غصہ تھا جو میرے والد سے بے پناہ عقیدت رکھتا تھا ۔ میرے نزدیک آپ جیسے لوگ قابلِ تعظیم ہیں۔“

)یہ کالم اس سے پہلے بھی 05-04-2016کو شائع ہوا تھا(

 

 

You might also like More from author