آبِ حیات بھارت۔۔ ایک آبی دہشت گرد

پاکستان کو بنجر بنا دینے کی ہر سازش کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

ہمارے تینوں دریاو¿ں پرچھوٹے بڑے لاتعداد ڈیمز تعمیر کر کے بھارت عالمی جرائم کا مرتکب ہوا ہے۔

زرداری اور نواز شریف نے ہمیشہ بھارتی آبی جرائم سے چشم پوشی کی۔

سوچنا ہوگا کہ 1960میں طے پانے والے سندھ طاس معاہدے سے ہم نے کچھ اب تک کیا کھویا کیا پایا؟

بھارت کی دریائی پانی روک دینے کی تازہ دھمکی،

پلوامہ کے ڈرامے کے تناظر میں ایک نیا پاکھنڈ،

پانی کے حوالے سے اس دھمکی سے ہندو مسلم معاشرتوں سے جڑی پرانے زخموں کی کسک ایک بار پھر جاگ اٹھی ہے۔

ہندو پانی، مُسلا پانی

قیام پاکستان سے پہلے برصغیر کے شہروں، ریلوے سیٹنشوں اور لاری اڈوں پر پانی بیچنے والے سقے انہی آوازوں کے ساتھ گاہکوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے تھے۔

ہندو پانی، مُسلا پانی،

شکر الحمداللہ، میں اس نسل میں سے ہوں یا میرے بعد آنے والی تین چار نسلوں نےپانی کو عقیدے، فرقے یا مذہب میں تقسیم ہوتے نہیں دیکھا۔

پانی جو متاعِ حیات ہے۔

کتاب میں ہے کہ خالق کائنات اور انسان کی تخلیق میں پانی کو غیر معمولی اہمیت و افادیت کے ساتھ ایک دوسرے سے جوڑ دیا ہے۔ یہی وہ پس ِ منظر ہے کہ آب حیات ہمارے معمولات کا مرکزو محور منبع ہے۔ یہی آب حیات ہماری روحانی تہذیب کا ایک محترم و مکرم استعارہ اور علامت ہے کشتی نوح سے سیدنا موسیٰ کے عہد میں عصائے یکمی کی ضرب مگر حکم الہٰی سے جگر حجر سے چشموں کا پھوٹ پڑنا، اور اسی طرح معصوم اسماعیل ذبیع اللہ کی ایڑھی سے پھوٹنے پڑنے والا آب زم زم ۔۔ جس کا سرچشمہ آج بھی پہلے دن کی مائند رواں دواں ہے۔

اور پھر دریائے فرات کا وہ پانی جسے یزید لعین کے حکم سے قافلہ حسینی سے روک دیا گیا تھا۔

یہاں تک 14اگست 1947کے طلوع کے ساتھ ہی برصغیر کے مسلمانوں کے کان ”ہندو پانی مُسلا پانی“ کی تقسیم سے نجات پاگئے۔

یہ بچپن کا زمانہ تھا ۔ عشرہ پچاس، جب تب کے اخبارات امروقز، نوائے وقت، جبن، پاکستان ٹائمز اور سول اینڈ ملٹری گزٹ آئے روز پاکستان اور بھارت کے مابین دریائی پانی کے تنازعات سے بھر پڑے رہتے تھے۔

دریائی پانی کے تنازعات سے بھرے پڑے رہتے تھے۔

برصغیر کی جغرافیائی ساخت ایسی ہے کہ اس کے پاکستان حصے کے پانی کے تمام منابع مقبوضہ کشمیر میں واقع میں جس پر بھارت کا سراسر غیر اخلاقی ، غیر قانونی اور مجرمانہ وجارحانہ قبضہ ہے، جغرافیائی، روحانی اور دینی اعتبار سے خط کشمیر کا فطری رشتہ وتعلق پاکستان سے جڑا ہوا ہے۔ مگر بھارت نے ایک نوزائیدہ ریاست یعنی پاکستان کی ابتدائی دور کی کمزوریوں کو ایکسپلائٹ کرتے ہوئے اس خطے پر اپنا جارحانہ تصرف قائم کر لیا۔ اس کے باوجود کہ اس ضمن میں اقوام متحدہ کی ایک سے زیادہ قرار دادیں بطور خاص اولین قرارداد نمبر47منظور شدہ21اپریل 1948موجود ہیں۔مگر دنیا میں سب سے ٹیری جمہوریت کے دعویدار بھارت نے تمام تر عالمی دباو¿ کے باوجود کشمیر پر اپنا تصرف برقرار رکھا ہوا ہے۔ بھارت کا یہی وہ ناجائز طرز عمل ہے جس کے سبب سے اس وقت تک پاکستان اور بھارت کے مابین65,48اور71میں خونیں جنگیں ہو چکی ہیں۔

پچاس کی دہائی میں پاک بھارت پہلی جنگ 48کے تناظر میں عالمی ادارون اور دوست ممالک کے تعاون سے مسائل و معاملات مذاکرات کے ذریعے طے کرنے پر زور دیا۔ اس ضمن میں عالمی امور کے ایک ماہر ڈیوڈ لیلنتھل کی ایک رپورٹ پر انحصار کیا گیا جس میں سفارش کی گئی تھی کہ دونوں ہمسایہ ملک کشمیر جیسے گھمبیر اور اہم مرکزی مسئلے کے حل ہونے تک ضمن مسائل حل کرنے کو ترجیح دیں تا کہ خطے میں بتدریج اعتماد کی بہتر فضا قائم ہوتی چلی جائے۔

اس دور میں موجود عالمی بنک تعمیر نو اور ترقی کے بین الاقوامی بنک کے نام سے کام کرتا تھا، ڈیود لیلنتھل رپورٹ پر کافی غوروخوض ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ 1954میں عالمی بنک کے ماہرین نے پاکستان اور بھارت کے ماہرین کے اشتراک سے دریائی پانی کے بہتر استعمال بابت ایک معاہدے کا مسودہ تیار کیا جس پر اگلے چھ سال تک فریقین میں مذاکرات جاری رہے(جاری ہے)

 

You might also like More from author