تہذیبوں کا تصادم پاکستان میں ہوگا

جو موضوعات ہمیشہ زندہ رہتے ہیں ان سے متعلق لکھی گئی تحریوں کا
یہ سلسلہ ءنشر مکرّر آپ کے لئے دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا۔۔۔

مجھے اس بات میں ذرا سا بھی شک نہیں کہ پاکستان کا وجود ”دل اہرمن“ میں کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے۔ ” اہرمن“ کا نام میں محض علامتی طور پر استعمال کررہا ہوں ۔ قدیم ایرانی مذہب میں ”خدا“ کو دو ” وجودوں“ میں تقسیم کیا گیا تھا۔ ایک خدا نیکی کا تھا جسے یزداں کہتے تھے اور دوسرا برائی کا جسے اہرمن کہہ کر پکارا جاتا تھا۔
دنیائے اسلام کے لئے ” اہرمن“ کا کردار امریکہ ادا کررہا ہے۔
اور اہرمن چاہتا ہے کہ ” قرآنی احکامات“ پر مبنی ” نظام حیات“ کو ماننے والوں نے 1947ءمیں جو دیس اپنے لئے حاصل کیا تھا ¾ وہ ” منشائے الٰہی“ کے مطابق ” احکامات قرآنی“ میںڈھلنے اور امت محمدی کے ظہور نو کا پرچم بردار بننے کی بجائے ¾ مغربی تہذیب کی ” جولان گاہ“ اور رقص ابلیس کا ” بال روم“ بن جائے۔
میں الفاظ بڑے سخت استعمال کررہا ہوں۔ مگر تھیوکریسی یعنی پاپائیت کے ٹھیکیداروں کا شمار اسلام کے پرچم برداروں میں نہ کرنے کی شدید خواہش رکھنے کے باوجود میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان عنقریب دو تہذیبوں کے تصادم کا میدان بننے والا ہے۔ ایک ٹیم اہرمن نے تیار کرلی ہے اور وہ اسے عنقریب میدان میں اتارنے والا ہے ¾ اور دوسری ٹیم کا ” بصورت ٹیم “ دور دور تک کوئی نشان نہیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ جنگ نہیں ہوگی ¾ اور اہرمن کی ٹیم کو ” واک اوور“ مل جائے گا۔
دل یزداں پر جب بھی ہتھوڑے کی ضرب پڑے گی تو ایک چیخ کے ساتھ جاں نثاران محمد میدان جنگ کی طرف بھاگنا شروع کردیں گے۔
تہذیبوں کے تصادم کی تھیم اپنی عملی شکل میں پاکستان کی سیاست پر حاوی ہونے والی ہے۔
)یہ کالم اس سے پہلے بھی 27-05-2007 کو شائع ہوا تھا(

You might also like More from author