حکومت۔۔ حکم سے زیادہ حکمت!

عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی رواں، قیمتیں برقرار،
سعودیہ سے موخر ادائیگی پر تیل درآمد کی سہولت،
اس کے باوجود عوام پر پٹرول بم اور بجلی کیوں گرائی گئی

بہت بار لکھا جا چکا ہے کہ
حکومت محض حکم نہیں حکمت بھی ہے۔
اور حکمت یہ ہے کہ حاکم کا ہر حکم حکمت کے تابع ہونا چاہئے۔
یکم جنوری۔۔ سال کا نیا دن، خوشی، مسرت اور امید کا دن ہوتا ہے
لوگ زندگی کرنے کے لئے نئے ولولے ، جذبے اور حوصلے مرتب کرتے ہیں
حکومت پر لازم تھا کہ وہ اس دن کے ماحول کی مطابقت کے مطابق اقدامات لے، اوگرا نے اگر بوجوہ اسے اپنی اس سفارش کی سمری بھیج ہی دی تھی کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا جائے اور اسی طرح نیپرا نے کہدیا تھا کہ بجلی کے نرخوںمیں گراں بار اضافہ کر دیا جائے۔ تو وزیر اعظم پر لازم نہ تھا کہ وہ اپنے اپنے ماتحت ادارے کی سفارش کو تسلیم کریں۔ اسی طرح نیپرا کی سفارش کو بھی وزیر اعظم با آسانی مسترد کر کے ردی کی ٹوکریں میں پھینک سکتے تھے۔ کاش وزیر اعظم اس مرحلے پر حکمت سے کام لیتے، اپنا ذہن بروئے عمل لاتے اور حکم جاری کرنے سے پہلے حکمت کا راستہ ناپنے مگر افسوس وزیر اعظم بوجوہ حکمت کا دامن تھام نہ سکے۔ اور انہوں نے نہ صرف بجلی کے پہلے سے اضافی شدہ نرخوں میں یکبارگی زیادہ ٹیرف کی سمری منطور کر لی بلکہ پٹرولیم مصنوعات میں بھی غیر معمولی بڑھاوتی کی اجازت دے دی۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ عالمی سطح پر پٹرولیم کی تمام مصنوعات کی قیمتوں میں ہرگز کوئی اضافہ نہیں ہوا تھا۔
ماضی میں عالمی منظر نامے پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی کچھ وجوہ سامنے آتی رہی ہیں۔مثلاً کچھ عرصہ قبل جب سعودی عرب پر اس کے عالمی مخالفین نے درپردہ حملے شروع کر دیئے اور اس ملک میں برسر عمل پٹرولیم مصنوعات تیار کرنے والی بڑی کمپنی آرام کو کی پیداوار میں قابل لحاظ حد تک کمی پیدا ہوگئی تو دنیا بھر میں سعودی تیل کے خریداروں میں بے چینی کی لہر پیدا ہوگئی جس سے عالمی سطح پر تیل کی رسدو طلب میں پایا جانے والا تواز بگڑ گیا۔کئی صارف ممالک نے کسی ناگہانی صورت حال سے بچنے کے لئے تیک کی خریداری میں اضافہ کر دیا جس سے دنیا بھر میں تیل کی قیمتیں چڑھ گئیں۔ تب اگر کسی ملک نے اندرونی سطح پر تیل کی قیمتوں میں بڑھاوتی کی تو اس کی معقولیت سمجھ میں آتی ہے۔ مگر وقت تو دنیا کے کسی حصے میں ایسے کوئی ہنگامی حالات نہیں ہیں۔پھر یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ حکومت نے تیل کی مختلف مصنوعات میں غیر معمولی اضافہ کر دیا۔
اب یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ تیل جیسی بنیادی اور محوری جنس ہے جس میں اضافہ پوری سوسائٹی کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔، ہر قسم کی اشیائے ضرورت کی قیمتوں کو پر لگ جاتے ہیں۔ اور پاکستان کے منظر نامے میں تو یہ صورت حال مزید تشویش کا باعث بنے گی جہاں پہلے سے ہی بوجوہ مہنگائی کا طوفان آیا ہے۔پھر یک نہ شد دوشد والا کہلاڑا چل گیا یعنی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہی نہیں بڑھائی گئیں بلکہ بجلی کے ٹیرف میں بھی غیر معمولی اضافہ کر دیا۔ اور ستم بالائے ستم کہ ملک کے معاشی مرکز کراچی میں کراچی الیکٹرک کمپنی نے لگ بھگ پانچ روپے فی یونٹ کی شرح سے اضافہ کر دیا۔ اب صنعت کار اور تاجر اس (باقی صفحہ نمبر 7بقیہ 52)
اضافے کو جب اپنی پیداواری لاگت میں شامل کر کے تیارکردہ مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیں گے تو اس کا براہ راست شکار عام صارفین ہوں گے اور یوں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے ستائے ہوئے۔ غریب عوام بلبلہ اٹھیں گے۔
میں اس سے پہلے بھی فیس بک اور ٹوئٹر پر اپنی پوسٹ میں یہ لکھ چکا ہوں کہ پاکستان کی معاشی، سیاسی اور اخلاقی طور پر کرپٹ اپوزیشن عمران خان کا بال بیکا تک نہیں کر سکتی۔ہاں مگر عمران خان خود اپنے پاو¿ں پر کلہاڑا چلا دیں تو کوئی کیا کر سکتا ہے۔
معاف کیجئے اگر میں یہ کہوں کہ عمران کی حکومت کے حالیہ دونوں اقدامات کی ٹائمنگ انتہائی غلط اور ناقص تھی اور حکمت و دانش کے کسی معیار پر پوری نہیں اترنی۔
میں ایک بار پھر مکمل شروح صدر سے عرض کرتا ہوں کہ پاکستان کی کرپٹ ترین اپوزیشن میں کسی بھی اعتبار سے اتنی سکت و ہمت نہیں کہ وہ عمران خان کی حکومت کو اپنے دعوے کے مطابق گراسکیں یا مائنس ون فارمولے کے تحت ان ہاو¿س تبدیلی کے ذریعے خانصاحب کو گھر کی راہ دکھا سکے۔ ہر گز ہرگز ایسا نہیں ہو سکتا ، ہاں مگر ہمارے خاں از خود ایسا کوئی اقدام اٹھالیں جو اپنے ہی پاو¿ں پر کلہاڑا مارنے کے مترادف ہو تو پھر غیر خشگوار اور نا مطلوب نتائج تو بھگتنے ہی ہوں گے۔
حکمت سے تہی وصف مذکورہ دو احکام کے سوا بھی چند روز پہلے حکومت نے نیب ترمیمی آر ڈی نیشن متعارف کرایا ہے، جس میں بیورو کریسی اور بڑے کاروباری اور صنعتی شعبوں کو نیب کے ریڈار سے خارج کر دیا گیا۔ اس حکومتی اقدام بابت یقینا اس کے پاس کوئی معقول وجوہ بھی ہوں گی مگر اس اقدام کے جس پہلو نے عمران حکومت کی ساکھ کو غیر معمولی نقصان پہنچایا اس کا تعلقPERCEPTION کے اس بد لاو¿ سے ہے جس کے سبب اب عام لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ کرپشن مکاو¿ تحریک کی علمبردار حکومت نے بیوروکریسی اور بڑے کاروباری و صنعتی گرگوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں۔ حالاکنہ میرا اپنا خیال یہ ہے کہ اس میں پوری صداقت نہیں ہے۔ مگر چونکہ یہ فیصلہ بھی حکمت سے تہی وصف اسلوب میں کیا گیا اس لئے اس کے سبب سے عمران خان کی ساکھ کو نقصان ہوا۔ اس بابت میں آئندہ کسی نشست میں تفصیلی مکالمہ پیش کروں گا۔۔

You might also like More from author