فردواحد خود کو عقل کل قرار نہیں دے سکتا

جو موضوعات ہمیشہ زندہ رہتے ہیں ان سے متعلق لکھی گئی تحریوں کا
یہ سلسلہ ءنشر مکرّر آپ کے لئے دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا۔۔۔

اگر ” ہیروز کی پوجا“ یا ” شخصیت پرستی“ اللہ تعالیٰ کو قبول ہوتی تو آنحضرت کی رہنمائی کے لئے ” نزول قرآن“ کا سلسلہ یوں برسہا برس تک جاری نہ رہتا۔ پھر آنحضرت روز اول سے ہی ” مجسم قرآن“ بن کر آتے اور آپ کی ذات ہی مکمل اسلام قرار پاتی۔
لیکن روز اول سے ہی یہ واضح کیا گیا کہ کوئی معبود نہیں اللہ کے سوا اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ دوسرے الفاظ میں ”معبودیت “ اور ” رسالت“ کو دو مختلف خانوں میں رکھ دیا گیا۔
انسان کی فطرت کو اللہ تعالیٰ سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے بنایا ہی اس طرح ہے کہ وہ نافرمانی اور بغاوت کی طرف مائل ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ نافرمانی اور بغاوت سے باز رکھنے کے لئے ہی اللہ تعالیٰ نے رسول بھیجے۔ حضرت محمد تمام رسولوں کے سردار ہیں۔ دوسرے الفاظ میں آپ اللہ تعالیٰ کی تخلیق کردہ تمام مخلوقات میں افضل ترین ہیں۔ کوئی آپ کا ثانی یا برابر نہیں۔
پھر اگر اللہ تعالیٰ نے خلق خدا کی رہنمائی کے لئے طریقہ یہ اختیار کیا کہ اپنے محبوب ترین رسول کو بھی برسہا برس تک ” انتظار ہدایت “ کا پابند رکھا تو اس کا مطلب صرف اور صرف یہ ہے کہ ” شخصیت پرستی “ قادر مطلق کو منظور نہیں تھی کیونکہ اس سے ” خداپرستی“ کا تصور مجروح ہوتا ہے۔
اگر صدیوں سے رائج شخصیت پرستی کا قلع قمع اللہ تعالیٰ کو مقصود نہ ہوتا تو آپ اپنا جانشین بڑے ہی واضح اور اعلانیہ انداز میں مقرر کرکے اس فانی دنیا سے رخصت ہوتے۔ آپ نے ایسا نہیں کیا۔ صرف اصول اور پیمانے متعین کردیئے اور اپنا سردار خود منتخب کرنے کا فیصلہ خلق خدا پر چھوڑ دیا۔ اگر آپ اپنا جانشین خود مقرر کرتے تو وہ جانشین ہر قسم کے ” عوامی احتساب“ سے بالاتر ہوتا۔ کون جرات کرتا کہ رسول کے مقرر کردہ سردار کے بارے میں کوئی سوالیہ نشان اٹھائے ؟
کہنا میں یہ چاہتا ہوں کہ خود ہی اپنے آپ کو خلق خدا کاسردار بنا ڈالنا اور خود ہی اپنے آپ کو عقل و شعور اور قواعد وضوابط کا سرچشمہ قرار دے ڈالنا ¾ اللہ تعالیٰ کے متعین کردہ نظام کی نفی ہے۔
دنیا میں جتنے بھی مطلق العنان حاکم اور خود ساختہ ” ہادی“ گزرے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے خلاف ” بغاوت کے مجرم “ تھے۔
ہمارا ایمان ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اس لئے اگر کوئی ” بشر“ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس کے پاس خلق خدا کی فلاح کا کوئی ” آسمانی نسخہ“ موجود ہے تو خلق خدا پر واجب ہوتاہے کہ اسے راہ راست پر لانے کے لئے اٹھ کھڑی ہو۔
)یہ کالم اس سے پہلے بھی 29-05-2007کو شائع ہوا تھا(

You might also like More from author