مُوذی مودی۔ ۔ بھارت کا گوربا چوف

نخوت اقتدار اور غرور قوت میں شرابور ہندو بنیا ذہنیت کی تنگ نظری اور تعصب نے بھارت کی ہر رنگ، نسل اور مذہب کی اقلیتوں کو آزادی کی راہ پر ڈال دیا ہے

دیا جلانے کے لئے جنگل کو آگ نہیں لگائی جاتی۔

انسان مگر جب حیوان بن جائے بلکہ وحشی درندہ تو اس سے کچھ بعید نہیں رہتا۔

بھارتی بلائے ناگہانی موذی مودی اکیسیوں صدی کا ایسا ہی ایک وحشی درندہ ہے جس نے محض اپنی انتقامی سرشت کے تحت اپنی پارٹی، اقتدار اور بالا دستی کو دوام دینے کی غرض سے پہلے مقبوضہ کشمیر کی آئینی و جغرافیائی تبدیل کرنے کی سازش کی اور جب اس سے بھی من نہ بھرا تو ملک میں ایک متنازعہ شہریت بل لے آیا جس نے آسام نے گجرات تک کہرام مچا دیا۔ مسلمان ہی نہیں دوسرے مذاہب کے پیروکاران بھی احتجاجی لہر میں شامل ہوگئے۔ پارسی ، عیسائی، سکھ، بدھ، جین حتی کہ ہندومت کے نام لیو ا تک سٹرکوں پر نکل آئے۔ اور آج عالم یہ ہے کہ پچھلے180سال میں یوپی میں سب سے زیادہ ٹھٹھرتی راتوں میں دارالحکومت نیو دلی کی شاہراہیں بلا تمیز رنگ نسل اور ہدایت احتجاجی مردوں، عورتوں، بچوں اور بوڑھوں سے بھری نظر آتی ہیں یہ مظاہرین رات رات بھر مودی حکومت کے نسلی اور امتیازی قوانین اور حالیہ آئینی اقدامات کے خلاف احتجاج جاری رکھتے ہیں۔

بھارتی تناظر میں یہ صورت حال مزید سنگین ہو جاتی ہے جب اس ملک کے طول و عرض میں ایک عرصے سے جاری علیحدیگی کی تنظیمیں بھی احتجاج تحریک اور مظاہروں میں شامل ہوتی چلی جارہی ہیں اور جوش و جذبے سے اور غصے و اشتعال سے مغلوب مظاہرین اب مقبوضہ کشمیر اور متنازعہ شہرت بل کے خلاف ہی سینہ کوبی اور نعرہ بازی محدود نہیں رکھتے بلکہ ان کے نعرے اور مطالبے ”اب لے کے رہیں گے آزادی“ اور ” آزادی یا موت“ ” ہماری آزادی مودی پر بھاری“ جیسے بارودی بم کی صورت پورے بھارت میں پھیلتے چلے جا رہے ہیں۔

بھارت میں نسل پرست مودی بی جے پی اور اس کی لے پالک راشٹر یہ سیوک سنگھ یعنی آر ایس ایس بجرنگ دل نے پچھلے سال بابری مسجد کے ایشو پر جس طرح اپنی سپریم کورٹ پر اثر انداز ہو کر اسلام دشمنی پر مبنی فیصلہ حاصل کر لیا تھا اس سے وہ سب نسل پرست جتھے نسل پرستی کینسر میں مبتلا ہوگئے اور انہوں نے آنے والے ہفتوں اورمہینوں کے دوران بی جے پی حکومت اور پارٹی کو عملی طور پر ہٹلر کی نسل پرستانہ پالیسی کو زیادہ تیز رفتاری سے عمل کرنے پر آمادہ کر لیا تھا مقبوضہ کشمیر کی جغرافیائی حیثیت کی تبدیلی اور حالیہ متنازعہ شہریت بل اسی کا شافسانہ ہے۔ پچھلے سال کا آخری سرماہی تو بھارت کے گلی کوچے اسلام مخالف اور اقلیت دشمنی کے نعروں سے گونجتے رہے، جس کے نتیجے میں ماضی میں اگر محض مسلمانوں کی آبادیوں میں بے چینی، اضطراب اور احتجاج کا لاوا بنتا تھا تو اب سکھ، عیسائی، جین اور بدھ بھی خود کو آر ایس ایس اور بجرنگ دل کے غنڈوں کے سامنے غیر محفوظ محسوس کرنے لگے تھے۔ اس صورت حال کا ایک بہت بڑا مظہر ان دنوں بھارتی دارالحکومت میں کڑاکے کی سردی کے باوجود ہر مذہب اور رنگ نسل کے لوگ سبانہ روز سراپا احتجاج بنے نظر آتے ہیں۔ اور تو اور کل تک جو بھارتی مسلمان رہنما فارو عبداللہ، محبوبہ مفتی، ایم اویسی،(باقی صفحہ نمبر 7بقیہ 27)

اکبر الدین اور غلام بنی آزاد اکھنڈ بھارت کے نغمے گانے تھکتے نہ تھے، آج وہ بھی ببانگِ دہل یہ اعتراف کرتے نظر آتے ہیں کہ ان کے بڑوں نے 1947میں جناح صاحب کی مخالفت کر کے بہت بڑی تاریخی غلطی کی تھی۔ آج ہمیں احساس ہوگیا ہے کہ ہندو بنیا ذہنیت کبھی بھی نسل پرستی کے روگ سے نجات نہیں پاسکتی۔ ان حالات میں اگر بھارت دیس میں ہندوو¿ں کے علاوہ دوسری نسلی یا مذہبی اقلیتوں کو اپنی بقا چاہئے تو انہیں ہندوو¿ں سے الگ تھلگ کسی نہ کسی درجے پر اپنی جغرافیائی شناخت درکار ہوگی۔ اور ا سکے لئے انہیں یقینا بھارت میں اپنے اپنے مسلک اور دھرم کے مطابق الگ ریاستی ڈھانچہ اور اقتدار اعلیٰ بہرصورت حاصل کرنا ہوگا۔ بھارت میں غیر ہندو اقلیتوں کی سوچ و فکر میں آنے والی یہی وہ ہمہ گیر تبدیلی ہے جس کا اظہار ان دنوں مقبوضہ کشمیر سے ماورا پورے بھارت میں اس مقبول عام نعرے سے ہوتا ہے۔

” ہم کیا چاہتے ہیں۔ آزادی“۔

مجھے موقر امریکی جریدے کے سرورق پر مودی کی تصویر اور اس کے ساتھ لکھی گئی کیپشن یاد آگئی۔

جس کے الفاظ ہیں

”INDIA’S DIVIDER IN CHEIF“

”انڈیا(بھارت) کا سب سے بڑا بٹوارہ کار“

جی ہاں، اب بھارت کو کسی بیرونی دشمن کی ضروت نہیں مودی کے ہوتے ہوئے وہ اس معاملے میں خود کفیل ہو چکا ہے۔

مجھے گوربا چوف یاد آگیا۔ میخائل گوربا چوف سابق سویت یونین کا آخری سربراہ، وہ سویت یونین جس کا رقبہ29کروڑ مربع کلو میٹر سے زیادہ اور اس اعتبار سے کرہ ارض کے چھٹے حصے کا مالک، لاکھوں کی افواج اور انتی ہی تعداد میں خطرناک جوہری ہتھیاروں سے لیس۔

طاقت کے اسی زعم میں اس نے(89-1979) کے عشرے میں افغانستان پر چڑھائی کردی۔ 15ہزار سے زیادہ سپاہی مروا دیئے۔ ملک میں معاشرتی ناانصافی کا بازار الگ گرم، اقتصادی پالیسیاں ایسی کہ عوام کے غالب حصے نان جویں سے محروم ہوتے گئے۔ ملک بھر میں احتجاج شروع ہوگئے اور گوربا چوف کی پارٹی اور پولیس اس احتجاجی لاوے کو کچلنے کے لئے ہرقسم کے مظالم پر اتر آئی۔

ادھر افغان جنگ میں پے بہ پے پسپائیوں نے جہاں افواج کا مورال گرا دیا وہاں ملکی معیشت پر بھی انتہائی مضر رساں اثرات مرتب ہونے لگے یہاں تک کہ آخر کار26دسمبر1991کو دنیا کی عظیم سپر پاور تمام تر مہلک جوہری ہتھیاروں کے باوجود زمین بوس ہوگئی ۔ سویت یونین کے ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے۔

آج میں بھارت کے اتنہائی دگرگوں حالات اور موذی مودی کے بھیانک کردار کو دیکھتا ہوں تو میرا وجدان کہتا ہے کہ مودی بھی بھارت کا گورباچوف ہی بننے جا رہا ہے۔ بھارت کے ٹکڑے ٹکڑے ہوئے اور آخر کار ختم ہونے کا انجام مودی ہی کے ہاتھوں پایہ تکمیل کو پہنچے گا۔۔

You might also like More from author