طبقہ بدمعاشیہ کے گرگوں کی وارداتیں

دھولے شاہ کے سیوا کار!
بدن بڑھتے ہوئے ، کھوپڑیاں مگر پچکی ہوئیں۔
عمریں پھیلتی ہوئی سوچیں سکڑتی ہوئیں
چال ڈھال بے ڈھنگی، حال احوال بے ڈھبا
دن بھر مگر جابر ٹھیکیدار کے اجڈ کارندے ان معصومین اور مظلومین کو بھیڑ بکریوں کی طرح گلیوں، کوچوں اور بازاروں میں ہانکتے پھرتے ہیں، ان کے ہاتھوں میں تھمائے کشکولوں میں گرنے والی بھیک کو اپنی جیبوں میں ٹھونستے اجتے ہیں، جو رات گئے تک ”رل کے کھا۔ رج کے کھا“ اور “کٹھے کھائیے کھنڈ کھائیے۔ کلے کھائیے ونڈ کھائیے“ کے سنہرے اصول کے تحت ٹھیکیدار کو توال، چھوٹے بڑے حاکموں، گماشتوں اور دیگر زوراں وروں میں تقسیم ہو جاتی ہے۔ بھکاری رعایا کے بھکاری حکمران۔
کئی بار خیال آتا ہے کہ یہ تو دھولے شاہ کے ان سیوا کاروں کا حوالہ ہے جن کے جسم بے ڈھنگے اور کھوپڑیاں پچھلی ہوئی ہیں۔ وگرنہ اگر میں اپنے گردوپیش، اپنے شہر، سارے شہروں اور پورے ملک پر نظردوڑاو¿ں۔ تو چند استثناوں کے ساتھ پورا ملک ہے دھولے شاہ کے سیوا کاروں کی بھیڑ دکھائی دیتا ہے۔ جنکی سوچ، جن کی اپروچ۔۔ غرضیکہ سب کچھ کسی اوپر والے کسی طاقتور کے ہاتھ میں ہے اور ہم محض کٹھ پتلیاں بنے ناچے چلے جا رہے ہیں، چند سکوں کی خاطر روٹی کے چند ٹکڑوں کے نام پر۔
72سال گزر گئے اسی تپسیا میں!
حالات، واقعات اور معاملات کا ایک جھمیلا ہے، جھڑمٹ اور جھنجھٹ ہے، کس کا ذکر ہو کسے پس انداز کر دیا جائے۔ ایک کالم کا کاغذی پیرہن اتنی گنجائش اور سعت کہاں رکھتا ہے کہ تمام تر معاملات کو ایک ہی نشست میں کھویا جا سکے۔
آخر کو طے ہوا کہ ہم پاکستانی برانڈ کی ایک جمہوری چال پر بات کر لیتے ہیں۔ یعنی وہ چال جسے ہمارے سیاسی منظر نامے میں باری کی یاری کے نام سے جانا جاتا ہے اور جسے لاہور میں جاتی عمرہ کے نام نہاد شریفوں اور نواب شاہ کے زرداری گینگ نے اپنی چالاکیوں، مکاریوں اور عیاریوں سے خوب سینچاہے۔ اور جب کبھی طبقہ بدمعاشیہ کے یہ دونوں گینگ کسی مشکل میں پھنسے ہونے کے سبب سے خود کسی واردات کے اہل نہ ہوتے تو یہ ”رینٹ اے ریلی“ والے ملا فضلو کو بھتہ خرچہ دے کر میدان میں اتار دیتے ہیں جیسا کہ پچھلے برس ستمبر اکتوبر کے مہینوں میں انہوں نے اس بھاڑے کے گماشتے کے ذریعے نام نہاد آزاد ی مارچ اور دھرنے کی ناٹک نوٹنکیاں کر وائیں۔
طبقہ بدمعاشیہ ان دونوں گینگوں کا ایک مجرم نسخہ یہ ہے کہ جس طرح دھولے شاہ کے کے سیوا کار لوگوں کے مذہبی اور جذباتی معاملات کو ایکسپلائٹ کرتے ہوئے بھیک مانگتے ہیں اسی طرح یہ بھی جمہوریت شہری آزادیوں، صوبائی خود مختاری 18ویں ترمیم ، گورنر راج اور بعض مذہبی اصطلاحوں کے نام پر لوگوں کو بیوقوف بناتے ہیں۔
کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے ۔ زرداری نے اندرون سندھ کے سادہ لوح دیہاتیوں کے سامنے ایک سیاسی تھیڑلگائے رکھا۔ یہ وہ وقت تھا جب تھر کے صحراوں میں بھوک اتری ہوئی تھی اور ساتھ ہی گوٹھوں اور قصبوں میں کم خورا کی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے سبب سے شیر خوار بچے دھڑا دھڑ موت کے منہ میں جا رہے تھے ۔ اور آصف زرداری دارالحکومت میں بیٹھے عمران خان اور نیب پر بزعم خودیہ یہ رعب کرو اس کی کرپشن پر کیس بناو، اور اس کے جعلی بنک کھاتوں بابت سوال اٹھا۔ زرداری نے تو ایک روز اندرون سندھ میں ایک وڈیرے کے اوطاق پر یہ تک کہہ ڈالا کہ جعلی بنک اکاو¿نٹس کے بغیر تو کوئی کاروبار ہو ہی نہیں سکتا۔ اور یہ کہ کرپشن تو کاروبار کا ایک لازمی حصہ ہے وغیرہ وغیرہ۔
ایک طرف زرداری ایسی بڑھکیں مار رہا تھا تو  دوسری طرف وہ اندرون سندھ میں سادہ لوح لوگوں کی عظیم الشان جلسیوں میں یہ بے تکی ہانک رہا تھا اور غریب عوام کے سامنے بڑھکوں کے انداز میں دعوے کر رہا تھا کہ اٹھارویں ترمیم کو چھیڑا تو قیامت برپا کروں گا۔ گورنر راج تو میری لاش پر سے گزر کر ہی سندھ میں نافذ ہوگا۔
اب غور فرمائیے سندھ میں کئی سالوں سے حکمرانی کے باوجود ان لوگوں نے وہاں کے سادہ لوح دیہاتیوں کو دانستہ طور پر اور ایک سوچی سمجھی سکیم کے تحت تعلیم اور شعور سے محروم رکھا ہوا ہے محض اس لئے کہ انکی جہالت ہی میں طبقہ بدمعاشیہ کے ان گرگوں کی لوٹ کھسوٹ ممکن ہے۔ اب جبکہ زرداری ان لوگوں کے روبرو موٹی موٹی سیاسی اصطلاحوں پر سوار ہو کر بڑھکیں مارتا ہے تو انہیں بس لہجے کی کاٹ اور غصے سے یہ اندازہ تو ہوتا ہے کہ بڑا سائیں بہت طیش میں ہے مگر جب وہ زرداری سے پوچھتے کہ سائیں بابا یہ جو تم 18ویں ترمیم، صوبائی خود مختاری اور گورنر راج بتا رہے ہو یہ ہے کیا تو زرداری اس کی تشریح یہ کرتا کہ بابا یہ وہ بلائیں ہیں کہ اگر میں نے انہیں نہ روکا تو تمہاری زمین بجر کر جائیں گی یا سرے سے تم سے چھین ہی لی جائیں، زرداری کے پہلو میں کھڑے ایک بھاڑے کے ملا نے لقمہ دیا کہ بابا لوگو اور تو اور تم لوگوں کے نکاح بھی ٹوٹ سکتے ہیں۔ آپ جان سکتے ہیں اس خوفناک تشریح کے بعد سادہ لوح سندھ دیہاتیوں کا ردِ عمل کیا ہوا ہوگا۔ ساری فضا دیر تک زرداری سائیں کے نعروں سے گونجتی رہی۔
اور اب آئیے زرداری کے دوسرے پارٹنر اور باری کی یاری والے نا شریف خانوادے کی چالاکیوں کی طرف۔ یہ خاندان بھی قومی دولت کی دولت کھسوٹ میں چمپئن کے درجے پر فائز ہے۔ پچھلے سال بی بی سی کے ایک سروے کے مطابق دنیا کی ٹاپ ٹین کرپٹ سیاسی پارٹیوں اور کرپٹ سیاستدانوں میں مبر 1کی پوزیشن پر نواز شریف اور نون لیگ تھی۔
قومی دولت لوٹنے کے سلسلے میں نواز شریف اور شہباز شریف نے مل کر جو وارداتیں کیں اس کے نتیجے میں ملک اربوں روپے کا مقروض ہو گیا۔ منی لانڈرنگ کے ذریعے قومی دولت بیرون ملک بنکوں میں پہنچاتی اور تعمیراتی منصوبوں کی آڑ میں اگر ایک ارب قومی خزانے سے نکلوائے گئے تو نصف اپنی اوجھڑیوں اور تجوریوں میں ڈالے اور بقیہ سے منصوبہ بنایا جو ظاہر ہے نا پائیدار ثابت ہوتے رہے۔ اور ان کی چالاکیوں و مکاریوں کا عالم یہ ہے کہ کیا انتظامیہ یعنی نوکر شاہی ، کیا سرمایہ شاہی ملا شاہی اور میڈیا شاہی۔۔ ہر جگہ اپنے زر خرید لوگ متعین رکھے گئے جو آج ان بھائیوں کی معزولی کے بعد بھی ان کے مفادات کی نگرانی کرتے ہوئے عمران حکومت کے کرپشن خاتمے کے مشن میں رکاوٹیں کھڑی کرتے رہے ہیں۔(جاری ہے)

You might also like More from author