کیا ہمارے مقدر میں یہ لکھا ہے کہ ہر نیا سال پرانے سال کا تسلسل ہو ؟

ہونا تو یہ چاہئے تھاکہ آج کے روز میں یہ لکھتا کہ ایک عہد گزر گیا اور ہم ایک نئے دور میں داخل ہورہے ہیں۔ لیکن ایسا نہیں۔ جب آپ میرے یہ الفاظ پڑھیں گے تو اس سال کا آخری سورج طلوع ہوچکاہوگا اور آپ ایک دوسرے کو سالِ نو مبارک کہنے کی تیاریاں کررہے ہوں گے۔ اگر آپ زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر سوچیں گے تو یہ تلخ سچ آپ کا منہ چڑاتا محسوس ہوگا کہ آنے والا سال بھی جانے والے سال کا تسلسل ہوگا۔ کم ازکم اپنے بارے میں تو میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ کئی دہائیوں سے میں اپنی قوم کو کسی ایسے نئے سال کے انتظار میں دیکھ رہا ہوں جو گزرے ہوئے سالوں کی تلخیوں کو پوری طرح نہیں تو کم ازکم ایک حد تک ضرور پیچھے چھوڑ دے گا۔
میں خود اس طویل انتظار کے شدید کرب کا حصہ رہا ہوں۔ دل میں یہ امید ضرور زندہ ہے کہ شاید 2020ءہمارے لئے کسی ایسی خبر کا سال ثابت ہوجو نئے ولولوں کی حرارت سے روح کو گر مادے لیکن دماغ دل کا ساتھ نہیں دے رہا۔ دماغ یہ کہتا ہے کہ جب تک پرانی عمارتیں مسمار نہیں ہوں گی نیاشہر تعمیر نہیں ہوگا۔ اور ہمارے لئے نیا سال تب ہی شروع ہوگا جب نئے شہر کی تعمیر کے لئے پہلی اینٹ رکھی جائے گی۔
آج کے روز میری دعایہ ہے کہ خدائے رحیم و کریم ہمارے اندر سے مایوسی کے وہ اندھیرے دور کردے جو مسلسل پھیلتے ہی جارہے ہیں۔۔۔

You might also like More from author