2020 ء۔۔۔۔عزم وہمت کا ایجنڈا

”جس کا آج اس کے کلسے بہتر نہیں وہ ہم میں سے نہیں،،
(حدیث نبوی)
معیشت اور معاشرت میں کاملہم آہنگی، کامیابی کی ضامن!
تحریک انسداد کرپشن اور عوام کیلئے معاسی ریلیف لازم وملزوم
حکومتی وابستگان ، کم گوئی مگر بسیار کا ری، ناگزیر!
سابق کرپٹ حکمران اور ان کی ذاتی ملکیتی پارٹیاں، بلیک میلنگ کی اہلیت وصلاحیت سے محروم ہوچکیں۔

حدیث نبوی۔
” جس کا آج اس کے کل سے بہتر نہیں وہ ہم میں سے نہیں،،
کتنا بڑا حق اور سچ ہے ہمارے آقا کریم کی طرف سے امت کے لئے زندگی بسر کرنے کا سنہری اصول!
ہم اپنے آقا کریم کے اسی سنہری اصول کی روشنی میں2018 ءسے بہتر بنانا ہے بلکہ بہت بہتربنانا ہے۔ زندگی کے کسی ایک شعبے میں نہیں زندگی کے ہر شعبے میںبہتری اور بھلائی کے اقدام لینے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری ستر سالہ تاریخ اس عزم سے خالی گزری ہے۔ مگر اب ایسا نہیں ہوگا۔2018 ءوہ تاریخی سال ہے جس میں عمران خان کی22سالہ طویل جدوجہد کے نتیجے میں عوام نے انہیں تبدیلی کے ایجنڈے پر اپنی تائید سے سرفراز کیا۔ اور یہ تبدیلی ہے ظالمانہ اور غیر عادلانہ سسٹم(سٹیٹس کو) کی جگہ ایک عادلانہ اور منصفانہ سسٹم کے احیاءکی۔ جس کا ایک نمایاں نکتہ ہے کرپشن فری کلچر کا فروغ ،کیونکہ ایک معین نہیں میں ہمارے بیشتر مسائل بطور خاص معاشی تنگدستی، غریبی، محتاجی،بیماری اور بے گھری وغیرہ اسی کرپشن کے سبب سے پائے جاتے ہیں۔
آگے بڑھنے سے پہلے ہمیں اس حقیقت کو ضرور پیش نظر رکھنا ہوگا کہ عام حالات میں ہمارا آج ہمارے کل ہی کا تسلسل ہوتا ہے۔ ہاں مگر ہماری درست سمت میں کی جانے والی بھرپور کوشش سے اس تسلسل میں تبدیلی یقینی طور پر لائی جا سکتی ہے۔ اور یہی فرمان رسول کریم کا سنہری جوہر ہے۔
ہم سب سے پہلے2020 ءمیں معاشرت اورمعیشت کے شعبوں کے لئے اپنا ایجنڈا سامنے رکھتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ معیشت ہی وہ مرکزی اور محوری عامل ہے جو کسی معاشرت کی ساخت اور کیفیت کو متاثر کرتا ہے۔
پچھلے ستر سال سے پاکستان پر مسلط مقتدر طبقوں نے چند محترم استشناﺅں کے ساتھ اس ملک کے انتہائی قیمتی خزانوں پر خوب سجا بھر کر ہاتھ صاف کئے۔ جس کے نتیجے میں قومی معیشت کو غیر ملکی قرضوں کی بیساکھیوں کے سہارے کا محتاج بنا کررکھ دیا گیا۔ چنانچہ جب عوامی تائید کے بل بوتے پر جناب عمران خان نے ملک کی زمانہ اقتدار کےبل بوتے پر جناب عمران خان نے ملک کی اقتدار سنبھالی تو ملک کا رواں دواں ملکی وغیر ملکی قرضوں میں جکڑا ہوا پایا۔
حالات اس قدر ناگفتہ بہ تھے کہ ملک بہت جلد دیوالیہ ہونے کے قریب تھا۔
یہ تو جناب عمران خان کا عزم صمیم تھا کہ انہوںنے دوسروں کی پھیلائی ہوئی تباہی وبربادی کی اصلاح کا بیڑہ اٹھا لیا۔ بہت جلد دیوالیہ ہونے کے قریب تھا۔
یہ تو جناب عمران خان کا عزم صمیم تھا کہ انہوں نے دوسروں کی پھیلائی ہوئی تباہی وبربادی کی اصلاح کا بیڑہ اٹھا لیا۔ انہوں نے براہ راست آئی ایم ایف کے پاس جانے کا آسان راستہ اختیار کرنے کی بجائے اپنی ذاتی کاوش سے دوست ممالک رابطے کئے جس کے نتیجے میں انہیں سعودی عرب، چین، قطر اوریو اے ای سے بہت اچھے معاشی پیکیج مل گئے۔چنانچہ ہم وقتی طور پر عالمی سطح پر دیوالیہ ہونے سے تو بچ گئے تاہم ملکی معیشت کو اپنے پیروں پر کھڑاکرنے میں ہنوز بہت کاوشیں درکارہوں گی۔(باقی صفحہ7 بقیہ نمبر48
اس وقت عمران حکومت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ اربوں روپے کے مقروض تین ریاستی اداروں پی آئی اے، ریلویز اور پاکستان سٹیل ملز کو کس طرح خود کفیل بنایا جائے۔ تاکہ ان دنوں ان کے اربوں روپے خسارے کا بوجھ قومی خزانے سے ٹل جائے۔
یہی معاملہ بجلی کمپنیوں کا ہے۔ پچھلی حکومتیں قرضوں کی معیشت کے باعث ان اداروں کے اربوں روپے کے گردشی قرضوں کی نادہندہ ہیں جو اب عمران حکومت کی گردن کاطوق بن چکے ہیں۔ اس صورت میں بجلی اور گیس کا پیداواری حجم میں حسب ضرورت نہیں رہا۔ موسم سرما کی شدت میں بجلی اور گیس کی مانگ میں از حد اضافہ ہو جاتا ہے ۔ مگر ان دنوں پر یہ مانگ پوری نہیں ہو رہی۔ نئے سال2020 میں عمران حکومت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یوٹیلٹی سروسز کی بہتر اور سستی فراہمی ہوگا جس پر انہیں سنجیدگی سے موثر اقدامات لینا ہوں گے اور یہ بھی ناگزیر ہے کہ یہ عوام دوست اقدامات سال کے وسط تک لے لئے جانے چاہئیں۔ اگر نہ عوام تنگ آمد بجنگ آمند کے مصداق مخالف سیاسی جماعتوں کے جھانسے میں آ کر عمران حکومت کے خلاف بھی اٹھ کھڑے ہو سکتے ہیں۔
یہاں میں ایک بات وضاحت سے کہہ دینا چاہا ہوں کہ عمران خان نے کرپشن کے خلاف سالہا سال کی جدوجہد سے سوسائٹی میں ایک ناپسندیدگی کی فضاءپیدا کر دی ہے۔ وہ ان کی یقینا ایک بڑی جیت ہے مگر انہیں اس حقیقت کو بھی یاد رکھ لینا چاہئے کہ ایک ایسی سوسائٹی جس کی تین چار نسلوں نے ایک کرپشن زدہ ماحول میں آنکھ کھولی اور کرپشن اس کے لئے معمولات زندگی کا ایک حصہ بن چکی ہو اگر اس نے ان کی ہاں میں ہاں ملا کر کرپشن مخالفت میں ان کا ساھ دینا شروع کردیا ہے و وہ کرپشن کے خاتمے کے نتیجے میں اپنے لئے معاشی آسودگی کی بھی آرزو مند ہے۔ اگر کرپشن کرپشن کا نعرہ لگتا رہا اور کرپشن کے خاتمے کی تدابیر بھی جاری رہیں مگر عوام کو کسی درجے پر کوئی معاشی ریلیف میسر نہ آیا تو لوگ بدظن ہو جائیں گے۔ ان حالات میں شکست خوردہ کرپٹگ سیاستدان پلٹ کر عمران خان پر پھر سے حملہ آور ہو جائینگے۔ یہ ممکنہ صورت حال کسی طور پر عمران کی 22 سال طویل اینٹی کرپشن تحریک کے لئے نیک فال نہیں ہوں گے لہذا میں خہوں گا کہ پی ٹی آئی قیادت حکمت سے کام لیتے ہوئے کرپشن کے خاتمے کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کو معاشی ریلیف دینے کا کام بھی کرتی رہے۔
مجھے یقین ہے اگر عمران حکومت نے اپنی سادگی کی موجودہ پالیسی جاری رکھی۔ اربوں کی لانڈرنگ کی روک تھام میں کامیابی حاصل کرلی۔ زرداری اور نوازشریف جیسے ڈکیتوں سے لوٹ مار کے اربوں روپے
واپس لے کر قومی خزانے میں ڈال دیئے تو عوام کو معاشی ریلیف میسر آنا شروع ہو جائے گا۔ اس طرح عام لوگوں کے لئے کرپشن ایک بامعنی عمل بن جائے گا اور وہ موجودہ معاشی دباﺅ کے سبب سے مخالف سیاسی جماعتوں کے دلفریب نعروں سے آزاد ہو جائیں گے۔
معیشت اور معاشرت میں اطمینان بخش ہم آہنگی پیدا ہوگئی تو ملکی گاڑی رواں دواں ترقی کے راستے پر دوڑنے لگے گی۔ پھر کرپٹ سیاسی پارٹیاں عمران حکومت کے لئے ہر گزکوئی چیلنج کھڑا نہ کر سکیں گی۔
پیپلزپارٹی کی عوامی پذیرائی کی عوامی پذیرائی کا گراف انتہائی پست مسلح تک پہنچ چکا ہے اس کی صفوں میں باغی ارکان کا فارورڈ بلاک ایک دن میں سامنے آنے والا ہے ادھر نون لیگ کا یہ عالم ہے کہ اس کی صفوں میں موجود موسمی پرندے بھی نئے آشیانے کے لئے اڑان بھرنے کی تیاریوں میں ہیں۔ نون لیگ کی شکت خوردگی کا یہ عالم ہے کہ گزشتہ روز اس کا نام نہاد 112واں یوم تاسیس بری طرح فلاپ ہوگیا(تفصیل پھر سہی)
مجھے یقین ہے ان حالات میں کرپٹ سیاسی پارٹیاں اپنے دعوے کے برعکس عمران حکومت کا بال بیکا تک نہیں کر سکیں گی۔
اب یہ عمران خان صاحب کا کام ہے کہ وہ اپنے روائتی عزم کے ساتھ اپنے منشور کے حصول کے لئے سرگرم عمل رہیں۔2020 ءان کے لئے مزید کامیابیوں کا سال ہے۔

You might also like More from author