رومیل اور ہٹلر کا مکالمہ اور آج کا پاکستان

جو موضوعات ہمیشہ زندہ رہتے ہیں ان سے متعلق لکھی گئی تحریوں کا
یہ سلسلہ ءنشر مکرّر آپ کے لئے دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا۔۔۔

ہرداستان میںکوئی نہ کوئی سبق پنہاں ہوتا ہے۔ پڑھنے والوں میں سے کچھ یہ سبق سیکھتے ہیں اور کچھ نہیں۔ مولانا روم کی مثنویٰ ایسی داستانوں کا ہی مجموعہ ہے۔ مگر میں آج یہاں مولانا روم کی تحریر کردہ کوئی داستان پیش نہیں کروںگا۔ میرا موضوع آج ہٹلر اوراس کے ایک معروف جنرل رومیل کے درمیانے ہونے والا مکالمہ ہے۔
جب نازی افواج نے سوویت یونین پر حملہ کیا تو رومیل افریقی مہم پر مامور تھا۔ متذکرہ حملہ پورے چھ ہفتوں کی تاخیر سے کیا گیا تھا۔ اصل منصوبہ بندی کے مطابق حملہ کیا جاتا تو جرمن افواج کو روس کی تباہ کن سردی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔
رومیل کو جیسے ہی حملے کی اطلاع ملی وہ پریشان ہو گیا۔ اور اس نے اپنے باس یعنی ہٹلر سے رابطہ قائم کیا۔ مارٹن بورمین نے لکھا ہے کہ رومیل نے ہٹلر کو مشورہ دیا کہ حملہ فوراً روک کر پسپائی اختیار کرلی جائے ورنہ جرمن افواج کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔
” حملہ اس قدر بھرپور ہے رومیل کہ اگلے 72گھنٹوں میں ہم ماسکو پر قبضہ کرلیں گے ۔ یہی ہمارا منصوبہ ہے۔ ہم جنگ کو طول نہیں دیں گے۔ ماسکو پر ہمارے قبضے کے بعدروسیوں کے حوصلے پست ہوجائیں گے اور وہ ہتھیار ڈال دیں گے۔ “ ہٹلر نے رومیل کو بتایا۔
” میری عسکری سوجھ بوجھ کے مطابق ابتدائی یلغار کی تیز رفتاری کے باوجود ماسکو پر اتنی جلدی قبضہ نہیں ہوسکے گا۔ اگر ہو گیا تو میں آپ کو ایک عظیم کامیابی پر پیشگی مبارکباد دیتا ہوں لیکن اگر 72گھنٹے دنوں کا روپ دھارنے لگیں تو میرا مشورہ ہے کہ پسپائی اختیار کرکے اپنی فوجوں کو ہلاکت آفرین روسی سردیوں سے بچالیں۔“
یہ ایک دانشمندانہ مشورہ تھا جس پر ہٹلر نے عمل نہ کیا۔اگر ہٹلر ذرا تاخیر سے بھی رومیل کی بات سمجھ لیتا ¾ اور روسی کمپین کو اپنی انا اور ضد کا مسئلہ نہ بناتا تو دنیا کی تاریخ مختلف ہوتی۔
تاریخ بڑی ستم ظریف ہے۔
جرمن افواج سٹالن گراڈ پر قابض ہوگئیں۔ بعد میں روسی فوجوں نے فاتحین کو محاصرے میں لے لیا اور جرمنوں پر پسپائی کے بھی تمام راستے بند کردیئے گئے۔
پسپائی کے راستوں کو بند کردینے والے جنرل تاریخ کی نظروں میں کبھی سرخرو نہیں ہوتے۔۔۔۔
)یہ کالم اس سے پہلے بھی 23-04-2007 کو شائع ہوا تھا(

You might also like More from author