2019ئ۔۔ کیا کھویا کیا پایا؟

طبقہ بدمعاشیہ نے اپنی ہوس گیری سے معاشرت اور معیشت کو دلدل میں دھکیل دیا تھا
اندھیری سرنگ کے آخری کنارے پر ہمیشہ ایک جگنو موجود رہتا ہے
کمال و زوال کا قرآنی اصول ہی ہمارا رہنما ہے
کرپشن کے خلاف معاشرے میں نفرت کا فروغ روں سال کا بہترین تحفہ
مایوسی کو کھودینے اور امید کو پالینے کے حوالے سے 2019ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

قسم ہے زمانے کی
انسان در حقیقت بڑے خسارے میں ہے
سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کرتے ہیں
قرآن کریم کی103ویں سورہ مبارکہ، العصر، صرف تین مختصر آیات مطہر، مگر جن میں معافی و مفاہم کے جہاں در جہاں سمیت دیئے گئے ہیں۔ سورہ شریف کا اختصار یہ اعجاز رکھتا ہے کہ اس میں مغوی و فکری کشادگی تک رسائی کے لئے انسان جسقدر غوروفکر، تدبر اور تعقل کرتا ہے انسانی معاشروں کے عروج و زوال کے لافانی بھید اتنی ہی جامعیت کے ساتھ اس پر کھلتے چلے جاتے ہیں۔ ایک سماج یا سو سائٹی کن خطوط پر عمل پیرا ہو کر تبدیلی، ترقی اور خوشحالی کی منزل پا سکتے ہیں اور وہ کون سے اسالیب میں جن پر عمل کرنے کی صورت میں تنگی، تنزلی اور تباہی و بربادی کسی معاشرے کا مقدر بن جاتی ہے۔
اس صورہ مبارکہ سے یہ حقیقت ایک بار پھر دن کے اجالے کی طرح واضح ہوگئی کہ زمانے کو کبھی برا نہ کہو کہ ایک روائت کی رو سے اللہ کہتا ہے کہ زمانہ تو میں خود ہوں۔یہ تو انسانی اعمال کا اچھا یا براپن ہے جو اس عہد کے انسان کے سرفرازی دیتا ہے یا بربادی نصیب کرتا ہے۔
میں پچھلے پچاس سال یعنی نصف صدی سے زیادہ کے دورانیے میں سال کے اس آخری دن جب بھی اپنے سالانہ نام اعمال پر غوروفکر، تدبر اور تعقل کرتا ہوں تو میں اسی الہٰی قرآنی صداقت کی روشنی میں حالات و واقات کی پرکھ پرچول کرتے ہوئے اس نتیجے پر پہنچتا ہوں کہ لاریب کا میابی اور ناکامی کا معیار اورپیمانہ وہی ہے جو قرآن بیان کرتا ہے۔ یعنی جن افراد، معاشروں اور حکومتوں نے مذکورہ قرآنی کلیے کی روشنی میں عمل کیا وہ منافع میں رہے اور باقی خسارے میں۔
آئیے اب اس کلیے کی روشنی میں ہم2019کے حوالے سے اپنے نامہ اعمال کا جائزہ لیں۔ یکم جنوری سے31دسمبر تک بیسیوں نہیں سینکڑوں واقعات ہیں جنہوں نے ہماری معاشرت اور معیشت کو متاثر کیا۔اگر ہم ایک عمومی اور طائرانہ نظر سے سال بھر کے واقعاتی نشیب و فراز کا جائزہ لیں تو ہمیں نفع نقصان کے دو واضح کھاتے ملتے ہیں۔ نقصان یعنی خسارے کا کھاتہ البتہ اپنے حجم میں بہت زیادہ ہے۔ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم بحیثیت مجموعی اللہ کے راستے اور حکم پر عمل پیرا نہیں۔ ہماری معاشرت اور معیشت دونوں پر ایک بڑے خسارے کی چھاپ لگی ہوئی ہے۔
ہماری معاشرتی ساخت حرص و ہوس، افراتفری، نفسا نفسی کرپشن، ٹھگی اور ٹکے ماری کے گرد گھومتی ہے جبکہ معیشت نے بھی اسی رنگ کو اپناتے ہوئے قوم کو ناروا قرضوں اور دیگر معاشی عذابوں میں مبتلا کئے رکھا ہے ۔ ہم بحثیت قوم آشوب تہذیب میں مبتلا ہیں۔ منافقت اور دو غلے پن نے ہمیں ہمارے وجود کو واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم کر کے رکھ دیا ہے ہم ایک اللہ رسول کو مانتے ہیں مگر اللہ رسول کی ایک نہیںمانتے۔ ہم اسلام کی خاطر زندگی قربان کر سکتے ہیں مگر زندگی اسلام کے مطابق بسر کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ یہی سبب ہے کہ ہمارا سارا معاشرتی اور معاشی ڈھانچہ ہی خسارے میں جا رہا ہے۔
ہاں مگر اللہ کا فرمان ہے کہ میری رحمت سے مایوس مت ہوں۔ اس لئے کہ اس نے ہر اندھیری سرنگ کے دوسرے کنارے پر روشنی کے ایک جگنو کا وعدہ کررکھا ہے۔
2019میں اندھیروں میں بھٹکنے والی قوم نے روشنی کے اسی جگنو پر اعتماد کرتے ہوئے ایک بڑا تاریخی فیصلہ کیا۔18ءکی 25جولائی کو اس نے ایک رجل رشید اور بطل جلیل یعنی عمران خان کو اپنے اعتماد کے قابل سمجھتے ہوئے اسے مسنداقتدار پر براجمان کرد یا۔
عمران خان کا چناو¿ ایک تاریخی فیصلہ تھا اور حقیقی معنوں میں ایک گیم چینجر بننے کے لائق ۔ عمران خان کا بنیادی اور محوری منشور ہی یہ ہے کہ سماج کو ہر قسم کی ذہنی، روحانی اور مادی کرپشن سے پاک صاف کرنا۔ مگر اسے جو دلدلی زمین ملی ہے اس میں اسے اپنے منشور پر عمل درآمد کرنے کی رفتار تیز تر کرنے کا وموقع میسر نہیں آرہا۔ایک طرف معاشرت میں کرپشن کو ایک روزمرہ کا قابل قبول سماجی معمول بنایا جا چکا ہے جبکہ دوسر ی طرف طبقہ بدمعاشیہکی دو بڑی سیاسی جماعتوں یعنی نون لیگ اور پیپلز پارٹی نے ملکی خزانہ اپنی لوٹ کھسوٹ اور کرپشن کے ذریعے خالی کر دیا تھا۔ معیشت کو اندرونی اور بیرونی قرضوں کے شکنجے میں جکڑ کر رکھا دیا تھا۔
میں اس تحریر کو اعداد و شمار کے گورکھ دھندے سے بوجھل اور گراں بار نہیں بنانا چاہتا بس یوں جان لیجئے کہ ظالم طبقوں نے اپنی غلط کاریوں اور معاشی جرائم کے ذریعے پوری قوم کو قرض در قرض کی گرانیوں میں الجھا اور دبا رکھا ہے۔ اور آج عالم یہ ہے کہ پاکستانی قوم کا بچہ بچہ ڈیڑھ لاکھ روپے سے زیادہ کا مقروض ہو چکا ہے۔
اسی مقروض معیشت کو دلدل سے نکالنے کے لئے عمران خان نے دوست ممالک سے معاشی اعانت کا بندوبست کیا ہے جس کے نتیجے میں ہم بحثیت قوم دیوالیہ ہونے سے محفوظ رہ گئے ہیں۔
عمران خان کا ایک اہم کارنامہ یہ ہے جو 2020کے حوالے سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور یہ ہے قومی دولت کے لیٹروں کا کڑا محاسبہ۔ جس کے نتیجے میں نواز نا شریف اور زرداری جتھوں کے بیسیوں افراد زی تفتیش ہیں پابند سلاسل۔
معاشرت اور معیشت کو بگاڑ اور خسارے کی دلدل سے نکالنا ایک جان جوکھم کا کام ہے مگر ایک بار ہم بحثیت قوم عمران خان کی قیادت میں اس دلدل سے نکل آئے تو انشا اللہ ہمارا اگلا سال2019اللہ کے فرمان کی روشنی میں خسارے سے آزاد اور منافع سے شادباد ہوگا۔ اس کا ذکر ہم ان شا اللہ کل کریں گے۔(جاری ہے)

You might also like More from author