بات اُس بڑے جھوٹ کی جو اکثر بولا جاتا ہے !

جو موضوعات ہمیشہ زندہ رہتے ہیں ان سے متعلق لکھی گئی تحریوں کا یہ سلسلہ ءنشر مکرّر آپ کے لئے دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا۔۔۔

رائج الوقت جمہوریت کے ثناءخوان بڑے فخر کے ساتھ اس رائے کا اظہار یا اعلان فرمایا کرتے ہیں کہ وزیراعظم میاں نوازشریف کو بیس کروڑ عوام نے منتخب کیا ہے۔ اورکسی بھی ادارے کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ بیس کروڑ عوام کے منتخب وزیراعظم کے اختیارات یا حیثیت کو چیلنج کرے۔

یہ ایک ایسا جھوٹ ہے جس کو جھٹلانے کے لئے کسی بڑی ریسرچ کی ضرورت نہیں۔ اگر گزشتہ انتخابات کو سو فیصد دھاندلی سے پاک اور شفاف تسلیم کرلیا جائے تو بھی وزیراعظم کی جماعت کو زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ کروڑ ووٹ ملے ہوں گے۔ بیس کروڑ عوام کی نمائندگی کا دعویٰ ڈیڑھ کروڑ ووٹوں کے ساتھ کیسے کیا جاسکتاہے ؟ اگر یہاں صرف ووٹ کا حق رکھنے والے ووٹروں کی فہرستوں کو مدنظر رکھا جائے توجو ووٹ میاں نوازشریف صاحب کی جماعت کو ملے وہ کل ووٹروں کا انیس فیصد بنتے ہیں۔ گویا ہمارے وزیراعظم درحقیقت ملک کے 19فیصد ووٹروں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اگر پوری آبادی کو سامنے رکھا جائے تو وہ ساڑھے سات فیصد عوام کے نمائندہ ہیں۔

یہی ہماری جمہوریت کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ اس قدر کم آبادی کا اعتماد حاصل کرنے والا شخص پورے ملک اور اس کے عوام کی تقدیر کے فیصلے کرنے کا اختیار حاصل کرلیتا ہے۔

اگر ہم صرف عمر کے مطابق ووٹ کا حق رکھنے والی آبادی کو مدنظر رکھیں تو تقریباً آٹھ کروڑ کی تعداد سامنے آتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق تقریباً پچاس فیصد ووٹر اپنا حق رائے دہی استعمال کرتے ہیں دوسرے الفاظ میں باقی پچاس فیصد انتخابات کے عمل سے لاتعلقی ظاہر کرکے بالواسطہ طور پر اِس جمہوری نظام پر عدم اعتماد کا اظہار کردیتے ہیں۔

یہاں مجھے رچرڈ نکسن کے وہ الفاظ یاد آرہے ہیں جو انہوں نے 1968ءکی انتخابی مہم کے دوران کہے تھے۔

(” You, the silent majority of America, stand up and be counted.”)

)امریکہ کے خاموش باسیو ۔۔ اٹھو اور اپنے آپ کو شمار کرواﺅ۔۔(

لیکن ایسا آج تک نہیں ہوسکا۔

جو بھی چیف ایگزیکٹو اِس نظام میں اپنے آپ کو ملک کی پوری آبادی کا نمائندہ قرار دیتا ہے وہ خود اپنے آپ سے ¾ اپنے عوام سے اور سب سے بڑھ کر تاریخ سے جھوٹ بولتا ہے۔۔۔

)یہ کالم اس سے پہلے بھی 19-02-2016کو شائع ہوا تھا(

 

 

You might also like More from author