پاکستان کے معصوم ڈاکو !

جو موضوعات ہمیشہ زندہ رہتے ہیں ان سے متعلق لکھی گئی تحریوں کا یہ سلسلہ ءنشر مکرّر آپ کے لئے دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا۔۔۔
نیب معصوم لوگوں کو تنگ نہ کرے ورنہ کارروائی کریں گے۔ یہ الفاظ ملک کے وزیراعظم میاں نوازشریف کے ہیں۔ انہوں نے یہ دھمکی بغیر وجہ کے نہیں دی ہوگی۔ اس دھمکی کی وضاحت انہوں نے یہ کہہ کر کی ہے کہ نیب کے اہلکار تصدیق کئے بغیر دفاتر میں گھس جاتے ہیں جس کی وجہ سے سرکاری افسر کام سے ڈرتے ہیں۔ عوامی نمائندوں کی بھی عزتوں کو اچھالا جارہاہے ۔ الزامات اور مقدمات کے غلط یا صحیح ہونے کی تصدیق اور تمیز نہیں کی جاتی۔
وزیراعظم نے یہ تمام باتیں بہاولپور میں لیگی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہی ہیں۔ انہوں نے نیب کے علاوہ نیپرا اور پیپرا کا نام بھی لیا ہے اور کہا ہے کہ اِن اداروں کے پتہ نہیں کون کون سے ضابطے ہیں۔ حکومت کو ووٹ عوام دیتے ہیں توڑ کوئی اور دیتا ہے۔ یہ سلسلہ ختم ہونا چاہئے۔ کام کرنے کا پورا موقع ملنا چاہئے۔
میاں نوازشریف صاحب کا ایکدم یوں پھٹ پڑنا بے حد معنی خیز ہے۔ بالواسطہ طور پر انہوں نے فوجی قیادت پر یہ الزام لگایا ہے کہ وہ عوامی مینڈیٹ سے قائم کی جانے والی حکومتیں توڑتی رہی ہے۔ اب یہ سلسلہ ختم ہونا چاہئے۔
کیا وزیراعظم یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ ملک کی موجودہ فوجی قیادت بھی ان کی حکومت کے ساتھ وہی کچھ کرنا چاہتی ہے جو 1993ءاور 1999ءمیں کیا گیا تھا ؟ اگر نہیں تو انہیں خطرہ کہاں سے ہے؟ وہ دھمکی کسے دے رہے ہیں؟ اور کیوں دے رہے ہیں۔ ؟
جہاں تک ” معصوم لوگوں “ کو تنگ کرنے اور ان کی پگڑیاں اچھالنے کا تعلق ہے تو اگر حکومت کے تمام لوگ معصوم ہیں تو پھر کرپشن کون کرتا ہے ؟۔ یہ اربوں کھربوں کی ہیرا پھیریاں کہاں ہوتی ہیں ؟ غیر ملکی بینکوں میں ہمارا سرمایہ کون منتقل کرتاہے اور کیسے منتقل ہوتا ہے۔؟
اِس بات کا امکان موجود ہے کہ نیب کے حکام تمام کارروائیاں صحیح طور پر نہ کررہی ہوں لیکن جن لوگوں کے خلاف کارروائیاں ہوتی ہیںوہ تو ببانگ دہل یہی کہیں گے کہ ” ہم معصوم ہیں۔ ہمارے ساتھ زیادتی ہورہی ہے۔ نیب ہمیں کام کرنے نہیں دے رہی۔“
اس نظام میں جو لوگ معصوم ترین ہیں وہی امیر ترین بھی ہیں۔ میری مراد خود وزیراعظم میاں نوازشریف اور سابق صدر زرداری سے ہے۔
ان دونوں کی دولت کا کوئی شمار نہیں۔ یہ ساری دولت انہوں نے اپنی ” معصومیت “ کے ذریعے کمائی ہے۔ وہ لوگ جو ان کی ٹیم کا حصہ ہیں وہ بھی معصومیت میں اپنی مثال آپ ہیں۔ ان معصوموں میں شاید ہی کوئی ایسا ہوجوارب پتی نہ بن چکا ہو اور کھرب پتی بننے کا خواب نہ دیکھ رہا ہو۔
اس معاملے میں کسی ایک پارٹی سے وابستگی ضروری نہیں معصوم آدمی کا نام شرجیل میمن بھی ہوسکتا ہے اور حنیف عباسی بھی۔ فریال تالپور بھی ہو سکتا ہے اور رانا مشہود بھی۔
میاں صاحب نے اپنے بیان میں حکومتیں بنانے کا کریڈٹ جن عوام کو دیا ہے ان کے خواب وخیال میں بھی نہیں ہوتا کہ وہ اپنے ہاتھ کاٹ کر چند خاندانوں کے حوالے کررہے ہوتے ہیں۔ کیا عوام میاں صاحب کو پابند بناتے ہیں کہ وہ اپنے خاندان کے ہر فرد کو حکومت کا حصہ بنائیں۔؟ کیا عوام زرداری صاحب سے حلف لیا کرتے ہیں کہ وہ اپنے منہ بولے بھائی اور اپنی ہمیشرہ کو لوٹ مار کا ٹھیکہ دے دیں۔؟
اگر میاں صاحب کو شبہ ہے کہ فوجی قیادت ان کے خلاف سازش کررہی ہے۔ اور نیب پیپرا اور نیپرا وغیرہ کی سرگرمیاں اسی سازش کا حصہ ہیں تو وہ یہ باتیں اپنے کارکنوں سے کرنے کی بجائے آرمی چیف سے کریں جن کے ساتھ ان کی ملاقاتیں باقاعدگی سے ہوتی رہتی ہیں۔ جہاں تک میاں صاحب کے اس دعوے کا تعلق ہے کہ وہ ہمیشہ سچ بولتے ہیں اورجھوٹ سے انہیں نفرت ہے تو انہیں چاہئے کہ ایسی تمام ویڈیوز منگوا کر دیکھیں جن میں انہوں نے عہد کیا تھا کہ زرداری صاحب نے لوٹ مار کا جتنا بھی پیسہ باہر کے بینکوں میں بھیجا ہے وہ واپس لائیں گے۔
اب و ہ عہد کہاں گیا ؟ اب میاں صاحب زرداری صاحب کی ہمیشرہ فریال تالپور کو یہ یقین کیوں دلا رہے ہیں کہ ان کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوگی۔
ایک کرپٹ آدمی کے ساتھ سب سے بڑی زیادتی کیا ہوسکتی ہے ۔ ؟ اسے احتساب کے کٹہرے میں لایا جائے !
)یہ کالم اس سے پہلے بھی 18-02-2016کو شائع ہوا تھا(

You might also like More from author