پلوامہ ڈرامہ2: ہم بھی تیار ہیں قسط1 امن کی خواہش و کوشش پاکستان کی کمزوری نہیں

ان دنوں بھارت کے بیشتر شہر پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج رہے ہ یں
بھارتی رائے عامہ میں ایک بڑ اپلٹا دیکھنے میں آرہا ہے۔
پاکستان دشمنی کا چورن بکنا بند ہو رہا ہے۔
صرف سات ماہ میں مودی سرکار کی مقبولیت کا گیراف بھارت کے ستر فیصد علاقے سے سمٹ کر صرف تیس فیصد حصے تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔
بھارت کے موقر اخبار ہندوستان ٹائمز میں شائع ہون والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جمعے میں خاکروبوں کی 549اسامیوں کے لئے 7ہزار انجینئرز کی درخواستیں موصول ہوئی تھیں۔ ان میں سے بعض کو منتخب کر لیا گیا اخبار نے ایک انجینئر خاکروب کو سٹرک پر کچرا صاف کرتے وہئے بھی دکھایا ہے۔
ایک طرف ”غریبی مٹاو¿“ کے انتخابی نعرے سے انحراف، بے روزگاری اور مہنگائی میں گراں بار اضافہ اور اوپر سے مقبوضہ کشمیر میں 5اگست سے جاری ریاستی ظلم و جبر کا سلسلہ جس نے دنیا بھر یں مودی سرکار کو ہدف طعن و تشنیع نیا رکھا ہے۔
اور اس پر طرہ بھارتی پارلیمنٹ کا منظور کردہ حالیہ متنازع شہریت قانون ہے جس نے پورے ملک میں اٹھنے والے ابتدائی احتجاجی لاوے کو اب ملک گیر طوفان میں بدل دیا ہے۔ آسام سے مہاراشٹر تک مودی حکومت کے خلاف قریب قریب بغاوت کا منظر نامہ تیار ہو چکا ہے۔ حالیہ ایام میں اس بغاوت نے بھارتی ریاستوں راجستھان، تلنگاتہ،، چیتش گڑھ، میزو رام، مدھیہ پردیش اور اتر پردیش میں روزمرہ معمولات زندگی کو تلمپٹ کر کے رکھ دیا ہے۔
ریاستی معاملات بابت یہ ایک مسلمہ ریت رواج سمجھا جاتا ہے کہ جب ملک میں بوجوہ شورش، بغاوت یا بغض امن کے حالات پیدا ہو جائیں تو ایسے حالات میں مقتد حلقوں کے سنجیدہ، متین اور صلح جو مدبرین کو میدان میں اتارا جاتا ہے جو معاملات کو عاقبت اندیشی سے سلجھانے اور تناو¿ کچھاو¿ کی آگ پر پالی ڈالنے اور زخمی دلوں پر مرہم رکھنے کے جتن کرتے ہیں۔
بھارت کا مگر باوا آدم ہی نرالہ ہے۔ اور بطور خاص مودی سرکار میں تو فاختاو¿ں کا قحط اور عقابوں اور لڑاکوں کی بہتات ہے۔ اور پھر مودی کے اردگرد آر ایس ایس کے انتہا پسندوں کا جو جھرمٹ لگا ہوا ہے وہ اسے کسی طور پر میانہ روی کی راہ اپنانے نہیں دیتے اور پھر خود مودی جبلی طور پر ایک انتہا پسند اور دہشتگرد ہے،2002میں جب وہ گجرات کا وزیر اعلیٰ تھا اس نے اپنی نگرانی میں اس سال28فروری کی رات70مسلمان عورتوں کو زندہ جلا دینے کا حکم دیا تھا، اور پھر گجرات میں ہندو مہا سبھاو¿ں نے مسلم کش بلووں کا جو شیطانی کھیل کھیلا تھا اس میں ایک ہزار سے زیادہ مسلمان عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور نوجوانوں کو قتل کر دیا تھا، سو اب بھی وہی عقابی اور شونی مائنڈ سیٹ مودی سرکار پر غالب ہے اور روز افزوں بغاوت کو ٹھنڈا کرنے کی بجائے عوامی بے چینی کی آگ پر پٹرول چھڑکنے کو ترجیح دی جارہی ہے۔
سو اب عالم یہ ہے کہ حکمران بی جے پی اور آر ایس ایس کے انتہا پسندوں کی میں نہ مانوں کی پالیسی کے نتیجے میں پورا بھارت ہندو توا کے تصور اور وژن سے باغی ہوتا جا رہا ہے۔ ملک کے مختلف شہر فسادات کی آگ میں بری طرح جل رہے ہیں۔ اور سوسائٹی کا کوئی شعبہ نہیں جو مودی انتہا پسندی سے کھلے بندوں اظہار نفرت نہ کر رہا ہو۔ اس ضمن میں بھارتی نوجوان اور بطور خاص کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ و طالبات حکومت کے انتہا پسندانہ اقدامات، ہندوتوا اور بطور خاس متنازعہ شہریت قانون کے خلاف اٹھ کھڑے ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق آزاد یونیورسٹی ، جامعہ ملیہ دہلی۔ دیو بند اور دیگر شہروں کے اہم تعلیمی اداروں کے نوجوان طلباو طالبات صبح و شام حکومت مخالف تحریک کو نئی توانائیاں فراہم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
سو یہ ہے آج کے بھارت کا سیاسی منظر نامہ، اس حوالے سے اگر ہم دسمبر18اور رواں سال کے ابتدائی ایام کے بھارتی منظر نامے کا تقابلی جائزہ لیں تو اس کا درجہ حرات بہت کم تھا۔مودی سرکار کو اپنی کار گزاری بابت زعم تھا کہ وہ بہت آسانی کے ساتھ پیش آمدہ انتخابات میں کامیابی حاصل کر لے گی۔
اس ضمن میں اسے دسمبر کے اواخر اور جنوری کے اوائل میں ہونے والے5ریاستی انتخابات میں کامیابی سے بہت امیدیں باندھ رکھی تھیں۔ مگر جب انتخابی نتائج سامنے آئے تو بی جے پی اور آر ایس ایس کے حلقوں میں تو گویا بھونچال ہی آگیا۔ اپوزیشن کا21جماعتی اتحاد مودی سرکار کو پورے طور پر لے ڈوبا تھا۔ راجستھان، تلنگانہ، چتیش گڑھ، میزو رام اور مدھیہ پردیش میں بی جے پی کو صفایا ہو گیا تھا۔ اس بدترین شکست نے مودی اور اس کے حواریوں کو بری طرح حواس باختہ کر کے رکھدیا۔ سارا نزلہ امیت شاہ اور اجیت دودل پر گرا دیا گیا۔ آر ایس ایس کے دہشت گردوں نے انہی پر الزام عائد کیا کہ ان کی حکمت ِ عملی کے نقائص نے مودی کی سیاسی و انتخابی بالادستی کو ملیا میٹ کر کے پستی میں گرا کر رکھ دیا۔
پانچ ریاستی اکائیوں میں بد ترین شکست نے بی جے پی اور آر ایس ایس کے حکمت سازوں کو چکرا کر رکھ دیا۔ ان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج اپریل مئی کے اس صورت حال سے نبرد آزما ہونے کے لئے آخر کار طے ہوا کہ ملک بھر میں لوگوں کی جذباتی طلب کے مطابق سیاسی نعرے فروخت کئے جائیں ۔ آخری تجزیے میں مودی اور اس کے حواری اس نتیجے پر پہنچے کہ بھارت کے جذباتی عوام اکھنڈ بھارت اور ہندوتوا کے نام پر پاکستان دشمنی کا چورن خوب خریدسکتے ہیں۔ مگر سوال یہ تھا کہ اس دشمنی کو انتہائی نکتے تک کیسے پہنچایا جائے۔
ایک روز نئی دلی کے وزیراعظم سیکرٹریٹ کے خفیہ میٹنگ روم میں حساس اداروں کا ایک اہم اجلاس ہوا۔ جس میں پلوامہ ڈرامے کا سکرپٹ تیار کیا گیا اور اس کے بعد اپریل مئی تک بھارتی انتخابات سے پہلے تک پاکستان دشمنی کا چورن خوب بکا۔ مودی جتھے کی سکیم کامیاب ٹھری اور بی جے پی اپنی تمام تر خامیاں اور کمزوریوں کے باجود انتخابات جیت گئی۔
آج پھر مودی کو انتخابات سے پہلے کے مخالفانہ طوفانوں کا سامنا ہے۔ مودی کے حواری بھارتی عوام کے غم و غصے کا رخ موڑنے کے لئے پھر سے پلوامہ ڈرامے کا اگلا پارٹ سٹیج کر سکتے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان بھی بجار طور پر اس خدشے کا اظہار کر چکے ہیں۔ پاک فوج بھی دشمنی کی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے پوری طرح تیار ہے۔ مودی جلدی کروآگے بڑھو موت تمہاری گھات میں ہے۔(جاری )

You might also like More from author