مورخ لکھے گا”ایک تھا بھارت“ قسط (2)

کنگا جمنی دھرتی: ایک بار پھر دو قومی نظریے سے گونج اٹھی

 

جبری طور پر ترکِ اسلام کی ہرسازش ناکام ، شہریت بل میں چھپے بارود نے سکیولرازم یکو بحیرہ ہند میں ڈبو کر رکھ دیا

”برصغیر میں پاکستان تو اسی دن بن گیا تھا جب یہاں پہلا شخص مسلمان ہوا تھا۔“
یہ جنی پر حقیقت اور وجدانی سچ ہمارے قائد اعظم بابائے قوم کا کہا ہوا ہے۔ اور اب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔
بھارت کی بنیاد ذہنیت مگر اس حق اور سچ کو آج تک ہضم نہیں کر سکی۔
ایک صدی سے پہلے اس نے اسی حق اور سط کے بطلان کے لئے بر صغیر میں مہا سبھائی تحریک کا آغاز کیا تھا۔ ہندو نیتا پنڈت مدن موہن مالویہ کی رہنمائی میں آل انڈیا مہند ومہا سبھا کے نام سے ایک سیاسی جماعت کھڑی کی گئی جس کا مقصد تھا کہ یہاں مسلمانوں کی فروغ پذیر قوت کو ختم کرنے کے لئے برابری کی ایک منظم قوت تیار کی جائے جو بر صغیر سے مسلمانوں کے نہ صرف اثرات مٹا دے بلکہ مسلمانوں کو پھر سے ان کے اصل مذہب یعنی ہندوست کے دائرے میں شامل کر لیا جائے۔تبدیلی مذہب کی اس مذموم کاوش کو ہندو نیتاو¿ں نے اپنے تین نام نہاد اصولوں کی بنیاد پر منظم کیا۔ یعنی
1۔ سنگٹھن
2۔ ہندوتوا (ہندوراج)
3۔ شدھی
سنگٹھن کا مطلب ہے تنظیم سازی۔ ہندوو¿ں کو ہندوتوا کے مقاصد کے حصول کی خاطر جتھے بندی کی تربیت اور اس کے بل بوتے پر بزور قوت برصغیر میں ہندومت اور اس کے پیروکاروں کو ایک قوت میں ڈھال کر ہندومت کو فروغ دینا۔
ہندوتوا ، ہندوراج کا احیا اور نفاذ،اور بھارت دیس کو بلا شرکت غیرے ہندوو¿ں کا ملک قرار دے دینا۔ دوسرے لفظوں میں آزادی ہند کے دوران ابھرنے والی گاندھی اور نہرو کی سکیولرازم کی پالیسی کو بحرہ میں ڈوب دینا۔
شدھی کا مطلب ہے پاک کرنا، تشریح اس کی یہ کی جاتی ہے کہ مسلمان چونکہ ابتدا میں غیر مسلم اور اکثریتی طور پر ہندو تھے مگر بعد بوجوہ وہ ہندومت ترک کر کے ناپاک ہوگئے اب انہیں پاک کرنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ انہیں پھر سے ہندوبنا دیا جائے۔ موجودہ ہندوتوا تحریک اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
ان تینوں مقاصد یعنی سنگٹھن، شدھی اور ہندوتوا کے مقاصد کو مزید تقویت پہنچانے کے لئے اکھنڈ بھارت کا بھی پرچار شروع کیا جا چکا ہے۔ یعنی بھارت سے الگ ہو جانے والے جغرافیائی حصوں کو بزور قوت اور ہائبرڈ وار کے بل بوتے پر پھر سے بھارت میں شامل کرنے کی سکیم۔ اس سلسلے میں بی جے پی اور راشٹر یہ سیوک سنگھ یعنی آر ایس ایس نامی نسل پرست اور دہشت گرد تنظیموں کی بھرپور سرپرستی کی جاتی ہے۔
سو میرے محترم قارئین یہ ہے وہ انتہا پسندانہ بنیا سوچ جس نے بھارتی معاشرت اور معیشت میں اس وقت ادوھم مچا رکھا ہے۔ بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ، قومی سلامتی کے امور کا ٹھیکیدار اجیت دو دل اور آر ایس ایس کا کمانڈر کی تگڑم ہندو توا کے تصور کو عملی شکل دینے میں ہمہ تن مصروف ہیں۔
بھارت میں متعدد 14،اور19کے عام انتخابات اسی ہندو مہا سبھائیت اور اکھنڈ بھارت کے تصور کو عملی شکل دینے کے نعرے پر جیتے گئے۔
اپریل مئی میں میسر آنے والی اس غیر معمولی انتخابی کامیابی نے مقتدر حلقوں بی جے پی اور آر ایس ایس کے مذموم عزائم کو آسماں تک پہنچا دیا، اور انہوں نے اسی بھرتے اور زعم میں سب سے پہلے مقبوضہ کشمیر پر وار کیا اور بھارتی آئین کی دوشقوں کے خاتمے کے ساتھ اس متنازعہ علاقے کی انفرادی حیثیت ختم کر کے اسے یکطرفہ طور پر بھارتی یونین میں ضم کر دیا۔ اور پھر کشمیری حریت پسندوں کے متوقع شدید ردِ عمل کے توڑ کے لئے 5اگست سے لاکھوں کشمیری باشندوں کو کرفیوں کی ناروا پابندیوں میں جکڑ کر رکھ دیا۔ ۔
بھارت سرکاری کی اس یک طرفہ کارروائی کے نتیجے میں جہاں اس نے یو این او کی مسلمہ قرار دادوں کی نفی کردی ہیں عالمی سطھ پر تسلیم شدہ انسانی حقوق کی بھی بد ترین خلاف ورزی کا ارتکاب کر ڈالا۔ اور ضمیر عالم کے شدید احتجاج کے باوجود بھارت اپنی ظالمانہ ہٹ دھرمی سے باز نہیں آرہا ۔
معامہ اسی پر بس نہیں ہوتا۔
بھارت کے انتہا پسند ہندو نیتاو¿ں نے مقبوضہ کشمیر کی آبادی کے مسلم غلبے کو ختم کرنے کے لئے کی گئی آئینی ترمیم کے تحت ہندوو¿ں کو مقبوضہ کشمیر میں زمین جائیداد خریدنے کی اجازت بھی دے دی۔ اس پیش قدمی نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور وادی میں کرفیو کے باوجود مسلمانوں نے حکومتی جبر کے خلاف اقدامات شروع کر دیئے۔ اس پر نئی دلی نے وہاں پہلے سے موجود دس لاکھ کی فوج میں ایک لاکھ کی مزید کمک بھجوانے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔
مقبوضہ کشمیر کے خلاف ریاستی جبرکے اوپر تلے اقدامات کا سلسلہ تھما نہیں تھا کہ مودی سرکار نے ایک انتہائی متنازعہ اور مسلم دشمن شہریت بل منطور کر کے اسے قانونی درجہ دے ڈالا۔ جس کے تحت مسلمانوں کو بھارت دیس سے نکال دیا جانا مقصود ہے۔ اس ایک بل نے جہاں بھارت کے بنیادی نظریہ سکیولرازم کی نفی کر دی ہے وہیں بھارت بھر میں مرکز گریز اور ہندوتوا مخالف تحریکیں بھی سر اٹھانے لگی ہیں۔اس وقت عالم یہ ہے کہ آسام سے لے کر بمبے تک بیسیویں بھارتی ریاستوں میں بی جے پی اور آر ایس حکومت کی مخالفت میں شورشیں بیا ہیں۔ خود دارالحکومت کے گردونواح اور یو پی ریاست شدید ہنگامہ آرائی کا شکار ہے، ایک حالیہ عالمی سروے کی رو سے اگر اپریل مئی کے انتخابی معرکے کے نتیجے میں بی جے پی بھارت کے 70فیصد علاقوں پر حکمرانی کا سکہ جماچکی تھی تو اب اس کا اثرورسوخ عملی طور پر فقط بھارت کے 30فیصد حصے تک محدود ہو چکا ہے۔
علیحدگی کی تحریک الگ زور پکڑ رہی ہیں۔ میزوقبائل اور ناگالینڈ اور سکھ کمیونٹی بھارت سے الگ اپنی جداگانہ شناخت کی راہ پر نکل کھڑے ہوئے ہیں۔ اور22کروڑ بھارتی مسلمان بھی دو قومی نظریہ کی اہمیت و افادیت کے گن گاتے نظر آتے ہیں۔ یہ سلسلہ گریونہی جاری رہا تو وہ دن دور نہیں جب بھارت قصہ پارینہ بن چکا ہوگا۔ اور مورخ لکھے گا۔” ایک تھا بھارت“(جاری ہے)

You might also like More from author