فیصلے،پچھتاوے اور انسانی تقدیر

جو موضوعات ہمیشہ زندہ رہتے ہیں ان سے متعلق لکھی گئی تحریوں کا یہ سلسلہ ءنشر مکرّر آپ کے لئے دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا۔۔۔
فیصلے انسان کی زندگی میں بڑی اہمیت رکھتے ہیں اگر یہ کہاجائے تو نا درست نہیں ہوگا کہ فیصلوں سے ہی انسانی زندگی کی سمتیں متعین ہوتی ہیں۔ کبھی انسانی فیصلے عظمتوں کو جنم دیا کرتے ہیں تو کبھی ایک ہی غلط فیصلہ تمام تر کامیابیوں پر پانی پھیر ڈالتا ہے۔ کچھ فیصلوں کو یاد کرکے آدمی اپنی تقدیر پر نازاں ہوئے بغیر نہیں رہتا اور کچھ فیصلے آدمی کا ” پچھتاوہ “ بن جایا کرتے ہیں ۔ جب ہٹلر کی افواج شمال و جنوب اور مشرق و مغرب میں فتوحات کے جھنڈے گاڑ رہی تھیں اور نازی لیڈر نے سوویت یونین پر حملہ کرنے کا منصوبہ تیار کرلیا تھا تو اس سے ایک غلط فیصلہ ہوا جو اس کا پچھتاوا بن گیا۔
ابتدائی منصوبے کے مطابق اس نے سوویت یونین پر یلغار کے لئے ایسا مہینہ منتخب کیا تھا کہ سردیوں کی آمد سے پہلے پہلے ماسکو پر قبضہ کرلیا جائے۔مگر اچانک ہٹلر کو یوگوسلاویہ میں جاری مزاحمت پر غصہ آگیا اور اس نے روس پر حملے سے پہلے ٹیٹوکا مزاج درست کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ اس کے کمانڈر اصل منصوبے میں تبدیلی کے خلاف تھے لیکن ہٹلر کے سامنے کسی کی نہ چلی۔ اور ” یوگوسلاوین کمپین“ کی وجہ سے چار ہفتے نازی افواج نے ضائع کردیئے۔ یوں ہٹلر بھی اپنے پیش رونپولین کی طرح ” موسم سرما“ کی دلدل میں پھنس کر تباہ ہوگیا۔
جن فیصلوں کی کوکھ سے پچھتاوﺅں نے جنم لیا ان میں ایک فیصلہ بھٹو کے ہاتھوں ضیاءالحق اور دوسرا نواز کے ہاتھوں پرویز مشرف کی تقرری کا تھا۔
دنیا کی تاریخ ایسے ” پچھتاوے بھرے“ فیصلوں سے بھری پڑی ہے۔ جنرل پرویز مشرف بہت خوش قسمت ہوں گے اگر ان کا 9مارچ والا فیصلہ ان کی زندگی کا سب سے بڑا پچھتاوہ نہیں بنتا۔
مجھ سے کسی نے پوچھا کہ ” کیا تمہیں اپنے کسی فیصلے پر پچھتاوہ نہیں۔؟“
میں نے جواب دیا ۔ ” اگر مجھے زندگی دوبارہ جینی پڑے تو میں اپنے سابقہ فیصلوں کے ساتھ ہی جینا چاہوں گا۔ کیوں کہ میں جانتا ہوں کہ میری تقدیر میرے رب نے لکھی ہے۔“
آدمی کی سب سے بڑی بے بسی یہ ہے کہ وہ بے پناہ ” پاور فل“ ہونے کے باوجود اپنی تقدیر خود نہیں لکھ سکتا۔۔۔
)یہ کالم اس سے پہلے بھی 04-04-2007 کو شائع ہوا تھا(

You might also like More from author