کرپشن کی کچر کنڈی (آخری قسط)

ملتان میٹروبس کاروٹ
قریب ہی واقع میدان پٹواریوں، سرکاری اہلکاروں اور بھاڑے پر جمع کئے گئے دہاڑی داروں سے بھر پڑا تھا۔ خادم اعلیٰ پنجاب مجمع کو اپنی خدمات سے مرصع بھاشن سے گرما رہا تھا۔ موصوف کی تقریر کا خلاصہ اور مغزیہ تھا کہ اس نے میٹرو بس پروجیکٹ میں قوم کے اربوں روپے بچا لئے جس کے لئے اہلِ پاکستان کو اس کا شکر گزار ہونا چاہئے۔ اور یہ کہ آئندہ بھی ووٹ نون لیگ کو دیئے جائیں تا کہ لاہور کے بعد ملتان کو بھی پیرس بنا دیا جائے۔
اگلے روز زر خرید اور لفافہ برانڈ میڈیا نے نام نہاد خادم اعلیٰ پنجاب کے قصیدوں سے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ ہر طرف واہ واپ لءڈونگرے برسائے گئے، اور خادم اعلیٰ صاحب قوم اربوں روپے بچانے والے کسی اگلے پروجیکٹ کی طرف روانہ ہو گئے۔

ایک سوروپے کی چیز کی مصنوعی قیمت ایک ہزار روپے ظاہر کر کے پانچ سو روپے میں خریدلی جاتی ہے۔ اور یوں چار سو روپے کی بچت کا دعویٰ کرنے والا ٹھگ قوم کا ہیرو بن جاتا ہے

اطلاع رسانی، میڈیا اور سوشل میڈیا کے اس دور میں مافیاز اپنی لوٹ مار کے منصوبوں پر عوامی خدمات کے عظیم الشان کارناموں کی تختیاں سجانے کے بعد مطمئن ہو جاتے ہیں کہ انہوں نے عوامی نظروں سے اپنی ٹھگی نوسر بازی اور دو نمبری کو بچا لیا ہے۔ مگر مافیاز والے نہیں جانتے وہ اپنی لوٹ کھسوٹ اور حرام پائیوں کو لاکھ پردوں میں بھی چھپا لیں، آخر کو ان کی کوئی نہ کوئی کمزوری بے احتیاطی اور بے ترتیبی احتسابی آنکھوں کی زد میں آکر رہتی ہے۔
ملتانی میٹرو بس پروجیکٹ کے حوالے سے بھی ایسا ہی ہوا۔ خادم اعلیٰ صاحب جن اربوں روپے کی بچت کی نوید قوم کو سنا رہے تھے وہ در حقیقت وہ رقم تھی جو انہوں نے اپنے حواریوں حوالیوں کے ذریعے کھینچا مار کر اپنی اور اپنے ہم نواو¿ں کے ذریعے اینٹھی تھی۔
احتسابی اداروں کے ذمہ دار اور محب وطن وابستگان نے اندرون و بیرون ملک محنت شاقہ کے ذریعے جو معلومات اور حقائق جمع کئے تھے ان سے مافیاز کے ہتھکنڈوں سے بہت پردے چاک ہوئے تھے، ان میں سے ایک کا تعلق مقامی مارکیٹ سے پروجیکٹ کے لئے مطلومبہ سازو سامان کی خریداری سے تھا۔ پکڑے گئے ایک گھپلے کے مطابق بازار میں ایک سو روپے میں دستیاب چیز کی خریداری کے لئے جو طریقہ اختیار کیا گیا وہ کچھ یوں تھا۔ سامان سپلائی کرنے والی کچھ کاغذی کمپنیوں کے لیٹر ہیڈز پر ٹینڈر جمع کر لئے گئے۔ بازار میں ایک سوروپے میں دستیاب چیز کی قیمتوں کے ٹینڈرز پانچ سو سے ایک ہزار روپے کے درمیان لئے گئے۔ اور پانچ سو روپے مالیت کی پیشکش چونکہ سب سے کم تھی لہٰذا اسے کام کا ٹھیکہ دے دیا گیا۔
اب اگر آپ کو مارکیٹ پوزیشن کا علم نہیں ہوگا تو آپ یہی سمجھیں گے کہ خادم اعلیٰ نے ہزار روپے کے مقابلے میں ایک چیز پانچ سو روپے میں خرید کر قوم پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔ مگر درحقیقت اس نام نہاد خادم اعلیٰ نے ایک سو روپے کی چیز پانچ سو روپے میں خرید کر قوم کو چار سو روپے کا چونا لگا دیا۔
قارئین کرام یہ محض ایک بڑے پروجیکٹ کے ایک معمولی سے حصے میں ایک چیز کی خریداری پر اختیار کردہ ٹھگی کا قصہ ہے۔ آپ اس ایک قصے کو منصوبے کے سینکڑوں حصوں سے ضرب دیجئے۔ ایک سور روپے کی جگہ کروڑوں روپے مالیت کی مشینری کا تصور کر یں تو آ پ کو اندازہ ہو جائیگا کہ مافیاز محض کسی ایک میگا پروجیکٹ کے ذریعے کس طرح قوم کو اربوں روپے سے محروم کر دیتا ہے۔
ملتان میٹرو بس پروجیکٹ میں اسی چالاکی کے ساتھ مال بنایا گیا ۔ مگر ہمارے محب وطن محبتوں اور نگرانوں نے مافیاز کے ہتھکنڈوں کا پردہ چاک کر کے رکھ دیا۔
یاد رہے یہ وہی خادم اعلیٰ صاحب ہیں۔ جن کے متعلق اسی سال کے شروع میں لندن کے موقر اخبار ڈیلی میل کے اسلام آباد میں مقیم نمائندے ڈیوڈ روز نے ایک رپورٹ شائع کی تھی کہ شہباز شریف نے حکومت برطانیہ کے ایک رفاہی ادارے سے2005 کے زلزلہ زدگان کی بحالی اور امداد کے نام پر پاکستانی کرنسی کروڑوں روپے کی امدادی رقم حاصل کی تھی، مگر ادارے کی طلبی کے باوجود ابھی تک اس کی آڈٹ رپورت جمع نہیں کرائی۔
اس پر موصوف سرے سے ایسی امدادی رقم کی وصولی سے ہی منکر ہوگئے اور الٹاڈیوڈ روز اور اس کے اخبار پر کروڑوں روپے کا ہتک عزت کا دعویٰ دائر کرنے کی دھمکی دی ڈالی۔
پھر وقت گزرتا گیا۔ صحافی اپنے خلاف خادم اعلیٰ کے مقدمے کا منتظر رہا مگر ادھر مکمل خاموشی رہی۔ آخر اس نے ایک با ر پھر اپنے اخبار میں یا د دہانی کی ایک اور خبر لگا دی۔ جس پر یہاں پاکستان میں بھی بعض با ضمیر صحافیوں نے خادم اعلیٰ صاحب کو مقدمے بابت پوچھا تو جواب آئیں بائیں شائیں تھا۔یہاں تک کہ اب شوباز صاحب لندن بھاگے ہوئے ہیں صحافی انہیں مقدمے کی یاد دہانی کراتے ہیں مگر ادھر سے وہی آئیں بائیں شائیں۔
قارئیں کرام آج کی صحبت میں کرپٹ مافیاز کے صرف ایک نمائندے شوباز نا شریف کی کرتوتوں اور کرتبوں کی ایک چھوٹی سی جھلک دکھائی گئی ہے۔ پچھلے تیس سال میں ملک اور پنجاب پر حکومت کے دوران اس خانوادے ناشریفاں نے جس جس ہتھکنڈے سے قومی دولت کو چونا لگایا ہے اس پر تو پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے ۔
میں کوشش کروں گا کہ کسی اگلی نشست میں اس مافیاز کی نظام عدل کے شعبے میں کی گئی چاند ماریوں پر بھی روشنی ڈالوں

You might also like More from author