اعتراف جرم

جو موضوعات ہمیشہ زندہ رہتے ہیں ان سے متعلق لکھی گئی تحریوں کا یہ سلسلہ ءنشر مکرّر آپ کے لئے دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا۔۔۔
میرا جی چاہ رہا ہے کہ آج وہ ایک نعرہ بلند کروں جس نعرے میں ہماری فلاح و بقا مضمر ہے ۔
تقلید رسول !
مگر ہم اس نعرے کے ساتھ منسلک ” لوازمات عمل“ اور قواعد و ضوابط سے اس قدر دور جاچکے ہیں کہ اس نعرے کو محض ایک نعرے کے طور پر بلند کرنا آنحضرت کی ذات اقدس کے ساتھ ایک شرمناک مذاق کرنا ہوگا۔
ہم تو ہیں ہی گنہگار اور بھٹکے ہوئے بندے ¾ جنہیں کوئی دعویٰ نہیں پارسائی کا ¾ تقوی ٰ کا ¾ دینداری کا ۔۔۔ ہمارے وہ دینی رہنما بھی جن کے چہروں پر ”دین“ سجا ¾۔۔۔ اور جن کے لباس سے ” دین “ جھانک رہا ہوتا ہے ۔۔۔ ہمارے وہ دینی رہنما بھی در پردہ جن راہوں پر چلتے ہیں ¾ ان راہوں سے مختلف نہیں ¾ جن راہوں پر چلنے والوں سے مخاطب ہو کر آنحضرت نے فرمایا تھا۔
” نفاق اور منافقت سے مومن کا ایمان ختم ہو جاتا ہے ۔“
میں تقلید رسول کا نعرہ بلند کرنے کی جسارت اس لئے نہیںکرسکتا کہ میں جانتا ہوں کہ میرا وجود بھی نفاق و منافقت کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے ۔
اے میرے رب ۔
اپنے رسول کے صدقے۔
ہمیں نفاق کی لعنت سے دور کردے۔
اور منافقت کے عفریت سے آزاد کراڈال۔!
)یہ کالم اس سے پہلے بھی 01-04-2007کو شائع ہوا تھا(

You might also like More from author