کرپشن کی کچرا کنڈی (قسط 2)

ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے!
الطاف، جاتی عمرہ کے نام کے شریف اور زرداری آف نواب شاہ
یکساں مقاصد، اہداف اور منزلیں، حکمت عملی بھی قریب قریب مماثل، وارداتیں اور گھاتیں بھی ایک جیسی اور چالاکیاں، مکاریاں و عیاریاں بھی ملتی جلتی ۔۔
ایک جھلک آپ بھی ملاحظہ کیجئے،
جرم پر گرفت آن پڑے، احتساب کے شکنجے کسّے جائیں، یا پکڑائی کا مرحلہ در آئے تو حسب ذیل رد عمل آپ کے سامنے آئے گا۔
دھمکیاں، تڑیاں اور ماریں گے مرجائیں گے کی بڑھکیں،
مظلومیت کا بہروپہ ، الزام، دشنام اور انتقام کی سنگ باری کے پٹ سیاپے،
اپنی ذات کو بمنزلہ جمہوریت بنا کر پیش کرنا،
اس چالاکی، مکاری اور عیاری کی چند ایک مثالیں دیکھئے
کروڑوں نہیں اربوں کی کرپشن پر جب نیب نے زرداری، شوباز ار بھائی نواز اور زرداری اس کی بہن فریال تالپور سمیت ان کے بیسوں گماشتوں، کارندوں اور فرنٹ مینوں کو حراست میں لیا یا بعض کو گرفتار بھی کیا، یا بیشتر نیب کے قانون کے تحت پلی بارگینگ کے ذریعے کروڑوں اربوں روپے ادا کر کے آزاد ہوتے رہے تو ایسے ہر معقع پر سیاسی لبادہ پہنے ان مافیاز کے گالم گلوچی بریگیڈ اور پٹ سیاپاطائفے اسے جمہوریت سے اتنقام کا ڈھول پیٹتے رہے اور یہ سلسلہ اس وقت بھی جاری ہے۔ جس کی تازہ ترین مثال نون لیگ کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال کی گرفتاری ہے۔
موصوف صبح دوپہر آمریت کے خلاف بھاشن گردی میں مصروف رہتے ہیں۔ مگر جب ان سے محترم آپا نثار فاطمہ کی آمریت کی سرپرستی میں ضیا کی مجلس شوریٰ کی رکنیت اور اس آمر کی حمائت میں کی جانے والی سرگرمیوں بابت سوال پوچھا جائے تو غصے میں آجاتے ہیں یا منہ بسور کرنکل جاتے ہیں۔ یاد رہے آپا نثار فاطمہ احسن اقبال کی والدہ محترم تھیں۔
اس شخص کی گرفتاری کا پس منظر یہ ہے کہ اس نے نون لیگ حکومت کے وزیر داخلہ کی حیثیت سے اپنے علاقے نارووال میں ایک سپورٹس سٹیڈیم کی تعمیر میں اربوں روپے کے قومی فنڈز کو چونا لگایا۔ اور اس ضمن میں اپنے بیٹے، بھائی اور دیگر عزیز و اقارب کو بطور فرنٹ مین استعمال کیا۔ اب کہ وہ ایک عرصہ سے نیب کی تفتیشی ٹیم کے ریڈار پر تھے، جس کے موجودہ مرحلے میں اس کی گرفتاری ہی ناگزیر تھی۔ یہ لوگ بھول جاتے ہیںکہ جب گاجریں کھائیں گے تو پیٹ میں مروڑ تو اٹھیں گے۔
پر کیا کیجئے طبقہ بدمعاشیہ کے ان سیاستدانوں اور حکمرانوں نے اعتراف جرم تو سیکھا ہی نہیں۔ جرائم پیشہ مافیاز اور وائٹ کالر مجرموں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بیک وقت دھمکیاں اور تڑیاں لگائیں گے، احتسابی اداروں اور حکومت وقت پر انتقامی کارروائیوں کی بہتان تراشی کریں گے۔
اس مرحلے پر یہ مافیاز کیا کرتے ہیں۔ حکومت وقت کے پیروں تلے سے قالین کھینچنا، اسے اقتدار سے محروم کرنا ، اسے نامعلوم بین الاقوامی سازشوں سے مرعوب کرنا، اپنے بیانات اور ظاہری نقل و حمل سے یہ تاثر دنیا گویا حکومت چند دن کی مہمان ہے۔ اور بس کچھ ہی دن کی بات ہے کہ حکومت کے سر پر آسمان گرنے والا ہے، یاد کیجئے قومی اسمبلی میں نون لیگ کے بھڑبولے ایم این اے خواجہ آصف کی دھمکی نما تقریر جس میں انہوں نے انہی خطوط پر اپنا بیانیہ مرتب کر کے ایوان میں پیش کیا تھا۔
احتساب کا شکنجہ چونکہ نون لیگ کی طرح پیپلز پارٹی کے گرد بھی تنگ ہو چکا ہے اس لئے جونہی نون غنوں کا گالم گلوچ بریگیڈ اور پٹ سیاپا طائفہ مظلومیت کی نئی راگنی الاپتا ہے تو زرداری ٹولہ بھی فی الفور اس کے سُر میں سُر ملاتے ہوئے اپنی قوالی کا الاپ شروع کر دیتا ہے۔ اس واردات کے لئے زرداری نے اپنے لوتیرے بے بی بلاول کا پٹہ کھول رکھا ہے ۔ یہ بے استادا نا بالغا خواجہ سراو¿ں کے پیرائے میں اپنی مضحکہ خیز اداو¿ں سے پہلے اپنی بھد اڑاتا ہے پھر جو کچھ بولتا ہے وہ اس قدر لا یعنیت سے آلودہ ہوتا ہے کہ اس کا نہ سر ملتا ہے نہ پیر۔ مثلاً پچھلے روز اسے نیب نے ایک فراڈ کیس میں طلب کر رکھا تھا۔ مگر موصوف نے پاٹے خانی شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دھمکی دی کہ نیب کر لے جو کرنا میں اس کی طلبی پر24دسمبر کو پیش نہیں ہوں گا۔ چنانچہ اس نے پوچھے گئے سوالنامے کے جوابات اپنے وکیل کے ذریعے نیب کو پہنچا دیئے۔اب پاٹے خانی شجاعت کے گھوڑے پر سوار پیپلز پارٹی کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کے در پے بلاول نے ایک دھمکی تو یہ لگائی ہے کہ وہ بہت (باقی صفحہ7 بقیہ نمبر20 پر)

جلد ٹف ٹائم دنے والا ہے اور دوسری بڑھک یہ ماری ہے کہ نیب اسے گرفتار کرنے کارسک نہ لے کیونکہ گرفتاری کی صورت میں وہ حکومت کےلئے زیادہ خطرناک ہوگا۔
میرا بے بی بلاول کو مشورہ ہے کہ ابھی اسے سندھ میں خطرناک باو¿لے کتوں کی فکر کرنی چاہئے۔ ان حالات میں کسی نئے خطرناک کی نہ تو ضرورت ہے اور نہ ہی گنجائش ۔
طبقہ بدمعاشیہ سے تعلق رکھنے والے کرپٹ سیاستدانوں اور مافیائی جتھوں کی مزید وارداتوں ، گھاتوں اور چالوں کا پردہ ان کاملوں میں اسی طرح چاک ہوتا رہے گا۔ (جاری ہے)

You might also like More from author