عظمتِ کردار کا گوہر تابدارقائد اعظم محمد علی جناحؒ

وہ اپنی بات پر عقل و خرد اور دلیل و منطق کی بنیاد پر چٹان کی طرح ڈٹ جانے والے تھے۔ ایسا کردار صرف ایک ایسے اجلے شخص کا ہی ہو سکتا ہے جو نہ بکنے والا نہ جھکنے والا ہو، (لندن ٹائمز)

 

ہاتھ ہے اللہ کا، بندہ مومون کا ہاتھ
غالب و کار آفریں، کارکشا، کارساز
اس کی امیدیں قلیل، اس کے مقاصد جلیل
اس کی ادا دلفریب ، اس کی نگاہ دلنواز

نرم دم گفتگو گرم دم جستجو
رزم ہو یا بزم ہو، پاک دل و پاکباز
عقل کی منزل ہے وہ ، عشق کا حاصل ہے وہ
حلقہ آفاق میں گرمئی محفل ہے وہ

نرم و گرم رزم و بزم میں یکساں پاک دل اور پاکباز کردار رکھنے والی شخصیت اور عقل و عشق کے چین امتزاج سے آراستہ ہستی میں ہی کا دوسرانام ہے قائداعظم محمد علی جناحؒ، اقوام عالم کے مشاہیر کی طرف سے پیش کردہ ان کے سوانحی خاکوں کا خلاصہ کیا جائے تو جو لفظی جوہر سامنے آتا ہے وہ وہی ہے جسے میں نے اپنے کام کا عنوان بنایا ہے یعنی عظمت کردار کا گوہر قائد۔
اپنے عظیم قائد کے یوم پیدائش کی نسبت سے ان کی شخصیت و کردار کچھ اور موتی چنتے ہیں تا کہ ان کی روشنی میں ہم بھی اپنے قول و فعل کو وضع کر سکیں۔
یہ 1981ءکا زمانہ تھا، یعنی آج سے ننانوے سال پہلے کا دور تب ہمارے قائدابھی اپنی شہرت و مقبولیت کے ابتدائی دور سے ہی گزر رہے تھے۔ برصغیر میں البتہ سماجی شعور اور غیر ملکی استعمار سے نجات کی آگہی کا سفر شروع تھا۔ تب ”’مانٹیگو۔ چمسفورڈ“ سکیم کے تحت برطانیہ کے وزیر امور ہند مسٹر مانٹیگو بھارت آئے۔ اور اس عہد کے اہم رہنماو¿ں بشمول تلک، گوکھلے، دادا بھائی نوروجی کے علاوہ محمد علی جناحؒ سے بھی ملے۔ مانٹیگو نے جواں سال جناح کے بارے میں اپنی ڈائری میں یہ تاثرات رقم کئے۔
” جناح ایک صاف ستھرا اور غیر معمولی حد تک سلیقہ مند نوجوان ہے جس کی چال ڈھال اور طرز تکلم دل پر گہرا نقش چھوڑتی ہے۔ وہ دلیل ومنطق سے آراستہ گفتگو کا دھنی اور اپنی بات اور موقف کو پورے طور پر منوا لینے کا ہنر خوب جانتا ہے۔میں اعتراف کرتا ہوں کہ گفتگو کے میدان میں اور اپنے دلائل کی اصابت اور پختگی اور اس پر طرہ اس کا انداز تخاطب ایسا دلنشیں تھا کہ میں تو اس کے سامنے خود کو ہارا ہوا شخص سمجھ رہا تھا۔“
لارڈ منٹیگو مزید لکھتا ہے۔
”میرے بعد لارڈ چمسفورڈ نے جناں سے مکالمے کا آغاز کیا۔ لیکن جناح کی قوت استدلال اسقدر بھر پور ثابت ہوئی کہ اس کا مد مقابل بہت جلد چاروں شانے چت ہو کر رہ گیا۔میںپھر کہتا ہوں کہ محمد علی جناح ایک انتہائی ذہین شخصیت اور پختہ کردار کے مالک ہیں۔ اس سے بڑھ کر حقوق کی پامالی اور کیا ہو سکتی ہے کہ جناح جیسے انسانی کو نظام مملکت میں دخل حاصل نہ ہو۔
اب پہلی جنگ عظیم کے آخری دور کی طرف آتے ہیں۔ جناح صاحب مسز اینی لبیسنٹ کی ”ہوم رول لیگ“ کے پلیٹ فارم سے ہند کی برطانوی حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں۔
اہل ہند جنگ میں بہت قربانیاں دے چکے مگر کیا برطانیہ کی طرف سے ان قربانیوں کا یہی صلہ کافی ہے کہ ان کے اعزاز میں محض چند الفاظ بول دیئے جائیں مگر عملی طور پر کچھ نہیں۔ آزادی ہند کے علمبردار سے بہت ناروا سلوک ہو رہا ہے۔ ان کے انسانی حقوق پامال کئے جا رہے ہیں۔کیا انگریزی حکومت اندھی اور فاتر العقل ہو چکی ہے۔ جو جنگ جیتنے کے بعد ہم اہل ہند سے اس قدر برا سلوک رو رکھے ہوئے ہے۔ میں ایسے طرز حکومت کو حکمرانوں کے ذہنی وسیاسی افلاس سے ہی تعبیر کر سکتا ہوں۔“
مورخین لکھتے ہیں کہ جناح صاحب کی اس تقریر ہی کے زیر اثر وزیر امور ہند کو برطانوی دارالعلوم میں اعلان کرنا پڑا کہ ملک معظم کی حکومت بہت جلد بر صغیر ہند دستان میں سیلف گورنمنٹ رائج کر دے گی۔ اس حوالے سے جناح صاحب کو آزاد ی ہند کی پہلی اینٹ رکھنے والا عظیم مدبر قرار دیا جاتا ہے۔
قائد اعظم کی رحلت پر ان کی شخصیت و کردار بابت دنیا کا موقر اخبار ”لندن ٹائمز“ لکھتا ہے۔
”انہوں نے اپنی ذات کو ایک بہترین نمونہ بنا کر پیش کرتے ہوئے اپنے اس دعوے کو ثابت کر دیا کہ مسلمان واقعی دوسروں کے مقابلے میں ایک علیحدہ قوم ہیں۔ ان میں وہ ذہنی پس و پیش نہ تھی جو انگریزوں کے نزدیک اہل ہند کا خاصہ سمجھی جاتی ہے۔اس کے برعکس وہ اپنی بات پر عقل و خرد اور دلیل و منطق کی بنیاد پر چٹان کی طرح ڈٹ جانے والے تھے۔ ایسا کردار صرف ایک ایسے اجلے شخص کا ہی ہو سکتا ہے جو نہ بکنے والا نہ جھکنے والا ہو۔ جناح صاحب ایک ناقبل تسخیر شخصیت تھے۔“
ایک عظیم ہندو رہنما گوکھلے صاحب ہمارے  قائد اعظم بات لکھتے ہیں۔
”ہندو ستان کی جب بھی آزادی نصیب ہوئی تو وہ جناح صاحب ہی کی بدولت ہوگی۔“
آج کے کالم کا آغاز پاکستان کا خواب دیکھنے والے اقبال کے شعری تبرکات سے کیا تھا، اختتام بھی اسی شاعربے مثل کے کلام کے شہ پاروں پر کرتا ہوں۔ اور غور فرمائیے اقبال کے یہ اشعار ہمارے عظیم قائد کی شخصیت پر کسقدر بھرپور چسپاں ہوتے ہیں۔
وہی ہے بندہ حُر ضرب جس کی ہے کاری
نہ وہ کہ ضرب ہے جس کی تمام عیاری
زمانہ لے کے جسے آفتاب کرتا ہے
انہی کہ خاک میں پوشیدہ ہے وہ چنگاری
(جاری ہے)

You might also like More from author