اپنا یقین زندہ رکھیں

جو موضوعات ہمیشہ زندہ رہتے ہیں ان سے متعلق لکھی گئی تحریوں کا یہ سلسلہ ءنشر مکرّر آپ کے لئے دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا۔۔۔
آج میں کوئی تندوتلخ موضوع زیر قلم نہیں لاﺅں گا۔ 25دسمبر اس عظیم اور منفرد ملک کے بانی کا یومِ پیدائش ہے ۔ آج میں صرف اچھی باتیں سوچنا چاہتا ہوں ۔ آج میں پھر اپنے اندر کے اس یقین کو پوری توانائیوں کے ساتھ زندہ کرناچاہتا ہوں کہ اپنی تمام تر بدنصیبیوں اور ان تمام ترالمیوں کے باوجود جِن کا سامنا وطنِ عزیز نے اب تک کیا ہے ¾ یہ عظیم ملک دنیا ک نقشے پر سطوتِ اسلام کا ستارہ بن کر چمکے گا۔
یہی وہ مقصد تھا جس نے تحریکِ پاکستان کو جنم دیا۔ یہی وہ منزل تھی جس کی طرف بابائے قوم نے ملتِ اسلامیہ کی رہنمائی کی۔
اگریہ محض ایک اتفاق بھی ہے کہ پاکستان کا نام ” پاک ستان “ اور اس کے دارالحکومت کا نام اسلام آباد ہے تو یہ حسین اتفاق اپنے اندر منشائے ایزدی کو سموئے ہوئے ہے۔
اگرچہ ہر کام میں منشائے ایزدی کا ہی دخل ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ شیطان بھی خدا کی مخلوق ہے اور بدی کے جس راستے کو اس نے اختیار کر رکھا ہے اس میں بھی خدا کی منظوری کا دخل ہے۔ لیکن اس ملک کو جسے ہم مملکتِ خدادادِ پاکستان کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ایک خاص مقصد کے لئے بنایا تھا۔ اور میرا ایمان ہے کہ یہ مقصد ” خیر و شر“ کے سدا جاری معرکے میں اس ملک کو خیر کا قلعہ بنائے جانے کا ہے۔
آپ کہیں گے کہ اس قلعے میں تو بدی کی قوتیں مورچہ بندہوچکی ہیں ¾ خیر کو یہاں جگہ کیسے نصیب ہوگی تو میرا جواب بڑا مختصر ہے ۔ جب سورج طلوع ہوتا ہے تو اندھیروں کے سامنے بھاگنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں رہتا۔
بالآخر یہ اندھیرے اس ملک سے راہِ فرار ضرور اختیار کریں گے۔ ” جمہوریت “ کو پروان چڑھانے کے دعویدار یہ اندھیرے بالآخر مشعل بردار ” جیش جمہور“ کی یلغار کے سامنے دم توڑ دیں گے۔
انشاءاللہ ۔۔۔
یومِ قائداعظم ؒ کے موقع پر اس سے زیادہ دِل خُوش کن سوچ کیا ہوسکتی ہے ؟
)یہ کالم اس سے پہلے بھی 25-12-2013کو شائع ہوا تھا(

You might also like More from author