خیبر پختونخوا سول ایڈمنسٹریشن ایکٹ2019کا مسودہ صوبائی کابینہ نے منظور کیا

ڈپٹی کمشنرز اپنے اضلاع میں تمام سرکاری املاک کے استعمال پر نظر رکھیں گے تاکہ کوئی ان املاک پر غیر قانونی قبضہ یا تجاوزات نہ کرسکے،محمود خان

پشاور(این این آئی)خےبر پختونخوا کا بےنہ کا اجلاس وزےر اعلی محمود خان کی زےر صدارت سول سےکرٹرےٹ پشاور مےں منعقد ہوا جس مےں کابےنہ کے ممبران سمےت چےف سےکرٹری خےبر پختونخوا، اےڈےشنل چےف سےکرٹری اور متعلقہ محکموں کے سر براہوں نے شرکت کی اس سلسلے مےں مشےر برائے ضم اضلاع و ترجمان پختونخوا حکومت اجمل خان وزیر نے اٹھارہ نکاتی ایجنڈہ پر منعقدہ صوبائی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا سول ایڈمنسٹریشن (پبلک سروس ڈیلوری اینڈ گڈگورننس )ایکٹ2019ءکا مسودہ کابینہ نے منظور کرلیا ہے۔ اس ایکٹ کے تحت ڈویڑنز کی سطح پر کمشنرز کے نیچے ایڈیشنل کمشنرز تعینات کئے جا ئیں گے۔ اور وزیراعلیٰ بہتر طرز حکمرانی، عوامی خدمات کی فراہمی، ریگولیٹری نظام کو موثر،عوامی مفاد،صوبے اور ڈویڑن /ضلع کی سطح پر مختلف محکمہ جات اور اداروں کے مابین رابطوں کو بہتراور یقینی بنانے کیلئے کمیٹیاں قائم کر سکتا ہے۔ایسی کمیٹیاں ان سرکاری محکمہ جات کے سربراہوں، عوامی نمائندوں، ڈویڑن، ڈسٹرکٹ اور تحصیل ایڈمنسٹریشن کے سربراہوں پر مشتمل ہوں گی۔ایکٹ کے تحت ڈپٹی کمشنر اپنے ضلع میں تمام سرکاری املاک کی رجسٹری maintainکرے گا اورضلعی انتظامیہ کے افسران خیبر پختونخوا پبلک پراپرٹی (ریموویل آف انکروچمنٹ) ایکٹ1977ءکے سیکشن۔10 کے تحت حاصل تمام اختیارات استعمال کریں گے۔ڈپٹی کمشنرز اپنے اضلاع میں تمام سرکاری املاک کے استعمال پر نظر رکھیں گے تاکہ کوئی ان املاک پر غیر قانونی قبضہ یا تجاوزات نہ کرسکے۔اجمل خان وزیر کا کہنا تھا کہ اس ایکٹ کے نفاذ کے فوراً بعدہر ڈپٹی کمشنر اپنے ضلع میں عوامی شکایات کے ازالے کیلئے کمپلینٹ منیجمنٹ سیل قائم کرے گا۔یہ کمپلینٹ منیجمنٹ سیل وفاقی، صوبائی یا مقامی حکومتوں کے قائم کردہ اٹومیٹڈ کمپلینٹ منیجمنٹ سسٹم کے ذریعے موصول ہونے والے یا عوام سے براہ راست موصول ہونے والی عوامی شکایتوں پر کاروائی کرے گی۔یہ کمپلینٹ منیجمنٹ سیل ایسے عوامی شکایات کو ایک متعین مدت کے اندرازالے کیلئے متعلقہ محکمہ جات اور اداروں کو بھیج دیں گے۔اس ایکٹ کے تحت ضلعی محکموں کے سربراہان ڈپٹی کمشنر کو اپنے محکمے سے متعلق اہم عوامی امور کے بارے میں باقاعدگی سے رپورٹ دیں گے جبکہ ڈپٹی کمشنر اپنے ضلع کے تمام انتظامی معاملات سے متعلقہ کمشنر کو جامع رپورٹ دے گا۔اسی طرح کمشنر اپنے ڈویڑن کے تمام اہم انتظامی امور کے بارے میں محکمہ اسٹیبلشمنٹ اور متعلقہ سربراہ کو آگاہ کرے گا۔اس ایکٹ میں یہ بھی ہے کہ اگر کسی بھی جگہ حکومت کی طرف سے عائد پابندی کے باوجود کوئی چیزفروخت یا تقسیم کی جارہی ہو جو عوامی مفاد کے خلاف ہو تو ضلعی انتظامیہ اس چیز کو ایک مناسب وقت کے اندر بند کرنے یا ختم کرنے کا حکم جاری کرے گا۔حکم کی تعمیل نہ ہونے پر ضلعی انتظامیہ خود کاروائی کرکے وہ چیز قبضے میں لے سکتی ہے۔اجمل خان وزیر نے ایکٹ کی مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی کمشنر کی پیشگی اجازت کے بغیر کسی پبلک پارک، سٹیڈیم، سڑک یا عوامی گزرگاہ پر کوئی بھی عوامی اجتماع، جلسہ یا جلوس منعقد نہیں کیا جا سکتا۔ڈپٹی کمشنر امن عامہ لو برقرار رکھنے اور لوگوں کی جان و مال کے تحفظ کیلئے پولیس کے ضلعی سربراہ کو مناسب اقدامات اٹھانے کی ہدایت کر سکے گا جبکہ پولیس کا ضلعی سربراہ اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ کو بھر پور معاونت فراہم کرے گا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت حاضر سروس یا ریٹائرڈ سینئر اہلکاروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں پر مشتمل ایک یا ایک سے زیادہ اور سائٹ بورڈ تشکیل دے سکتی ہے جو سرکاری ملازمین کی طرف سے کسی بھی بد انتظامی، فرائض سے غفلت یا مفادعامہ کے بر خلاف کسی بھی کام کی انکوائری کر سکتی ہے۔ضلعی انتظامیہ کے افسران پہلے سے موجود مانیٹرنگ میکنزم کے تحت کاموں کے علاوہ اپنے ضلع میں کسی بھی پبلک فیسیلٹی کی کوالٹی اور استعداد کا معائنہ کر سکتے ہیں اور متعلقہ محکمے کو ان پبلک فیسیلٹی کے معیار اور بہتربنانے کیلئے احکامات جاری کرسکتے ہیں۔ضلعی انتظامیہ کو ٹھوس بنیادوں پر مفاد عامہ کو نقصان پہنچانے والے گاڑی، کشتی، ہوائی جہاز، عمارت یا کسی بھی ایسی چیز کو ضبط کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔حکومت اس قانون کے تحت حاصل اختیارات کے غلط استعمال کو روکنے اور شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے کوڈ آف کنڈکٹ جاری کرے گی۔اور ہر کمشنر اپنے ماتحت تمام سرکاری اداروں کی کارکردگی رپورٹ مجوزہ مدت کے اندرصوبائی حکومت کو پیش کرے گا۔ اسی طرح ڈپٹی کمشنربھی اپنے ماتحت تمام سرکاری اداروں کی کارکردگی رپورٹ کمشنر کے توسط سے حکومت کو پیش کرے گا۔اس قانون پر عمل درآمد کے سلسلے میں کسی بھی سرکاری ادارے کااہلکارمجازحاکم کو مطلوبہ معلومات یا معاونت فراہم نہیں کرتاتو اس کے خلاف متعلقہ قوانین کے تحت کاروائی عمل میں لائی جائے گی اور یہ کہ حکومت اس قانون پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کیلئے رولزتیار کرے گی۔صوبائی کابینہ نے کچھ ضروری ترامیم کے ساتھ اس قانون کے مسودے کی منظوری دیدی۔حکومتی ترجمان اجمل خان وزیر نے میڈیا بریفنگ کے دوران بتایا کہ خیبر پختونخوا وسل بلورپروٹیکشن اینڈ ویجیلنس کمیشن رولز2016ءکے تحت مذکورہ کمیشن کے چیئرمین اور دیگر کمشنروں کے چناو¿ کیلئے سرچ اینڈ سکروٹنی کمیٹی کی تشکیل کا معاملہ کابینہ کے سامنے پیش کیا گیا۔کابینہ نے چیف سیکرٹری کی سربراہی میں سرچ ایند سکروٹنی کمیٹی کے تشکیل کی منظوری دیدی۔ کمیٹی کے دیگر ممبران میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری، سیکرٹری قانون، سیکرٹری اسٹبلشمنٹ اور ایک ممبر صوبائی اسمبلی شامل ہیں۔وزیراعلٰی کے مشیر کا کہنا تھا کہ کابینہ نے ضلع ہری پور کے علاقہ گندیان میں جنگلات کو لگنے والی آگ کی وجہ سے جاں بحق ہونے والے دو رضاکاروں کے ورثاءکو 5لاکھ روپے فی کس معاوضہ ادا کرنے کی منظوری دیدی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ کابینہ نے نو قائم شدہ ضلع اپر چترال کو کوڈ آف کریمنل پروسیجر1898ئکی روشنی میں سیشن ڈویڑن قرار دینے کی منظوری دیدی۔حکومتی ترجمان کا کہنا تھا کہ کابینہ نے کوڈ آف کریمنل پروسیجر1998ءکے سیکشن۔14-Aکے تحت اسسٹنٹ کمشنرز اور ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنرز کو اسپیشل مجسٹریٹس کے اختیارات دینے کی منظوری دیدی ہے۔ یہ اسپیشل مجسٹریٹس جنگلات، معدنیات، خوراک میں ملاوٹ، عوامی مقامات، سڑکوں اور نہروں پر تجاوزات، گاڑیوں، بلڈنگ کنٹرول اور میونسپل سروسز سے متعلق جرائم کی سماعت کر سکیں گے۔کابینہ نے اس مقصد کیلئے ڈپٹی کمشنرز کو اسسٹنٹ کمشنرز اور ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنرز کے مقامی حدود کی تعیناتی کا بھی اختیار دینے کی منظوری دیدی۔ضلع مہمند میں گنداو ڈیم پر ر±کھے سول ورک اور پینے کے پانی کی فراہمی سے متعلق وزیراعلٰی کے مشیر اجمل خان وزیر کا کہنا تھا کہ سال2013ءمیں گنڈاو¿ ڈیم کی تعمیر پر کام شروع ہوا تھا۔ اسی سال کے آخر میں عسکریت پسندوں کے حملے کی وجہ سے ڈیم پر کام بند کیا گیا تھا۔ اس حملے کے نتیجے میں ڈیم پر کام کرنے والے تین افراد شہید ہو گئے تھے جن میں ڈیم کا کنسٹرکٹر عبد الشکور بھی شامل تھا۔ سکیورٹی اداروں اور ضلعی انتظامیہ کی انتھک کوششوں سے سال2018ئ میں اس ڈیم پر کام کا دوبارہ آغاز ہو گیاہے۔صوبائی کابینہ نے شہید کنسٹرکٹر عبد الشکور کی قربانی کے اعتراف میں مذکورہ گنڈاو¿ ڈیم کا نام عبد الشکور ڈیم رکھنے کی منظوری دیدی۔صوبے میں میڈیا ورکرز کے فلاح و بہبود بارے وزیراعلٰی کے مشیر کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے اگست2019ئ میں پشاور پریس کلب کے نئے عہدیداروں کی تقریب حلف برداری کے دوران پشاور پریس کلب ممبران کی درخواست پر کلب کیلئے15.00 ملین روپے جبکہ خیبر پختونخوا یونین آف جرنلٹس کیلئے5ملین روپے بطور ون ٹائم گرانٹ ان ایڈ کا اعلان کیا تھا جس کی آج کابینہ نے منظوری دیدی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کابینہ نے KP EZDMEC کیلئے لیگل کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کرنے کیلئے متعلقہ KPPRAقوانین میں استثنیٰ کی بھی منظوری دیدی۔کابینہ نے رشکئی ایکنامک زون کے بورڈز آف ڈائریکٹرز میں بطور ڈائریکٹر تعیناتی کیلئے فیصل سلیم رحمان کے نام کی منظوری دیدی۔اجمل خان وزیر نے میڈیا کو بتایا کہ کابینہ نے KP govt. Rest houses and tourism properties regulation, monitoring, management and development bill 2019 بل کی منظوری دیدی جس کے تحت سرکاری ریسٹ ہاو¿سز کی لیزنگ اور آوٹ سورسنگ کی جا سکے گی تاکہ زیادہ سے زیادہ ریونیو حاصل کئے جا سکیں۔ان ریسٹ ہاو¿سز کی لیزنگ اور آوٹ سورسنگ کی تفصیلات وغیرہ طے کرنے کیلئے کابینہ کو وزیر سیاحت کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ صوبائی کابینہ نے صوبائی ٹورازم اتھارٹی کو فعال کرنے کیلئے 2020جون تک 300ملین سپلیمنٹری گرانٹ دینے کی منظوری دی تاکہ سیاحتی شعبے کو ترقی دی جا سکے۔وزیراعلٰی کے مشیر نے بتایا کہ کابینہ نے صوبائی کلچر اور ٹورازم اتھارٹی کیلئے ڈائریکٹر جنرل کی منظوری دی۔ڈائریکٹر جنرل ڈیپوٹیشن پر ہوگا اور پی ایم ایس (BS-18)کا امران آفریدی کوڈی جی کے پی کلچر اور ٹورازم اتھارٹی کا ڈائریکٹر جنرل تعینات کرنے کی منظوری دی۔اسی طرح کابینہ نے پی ایم ایس کے گریڈ۔18کے آفیسر آصف کو کاغان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل کی تعینات کرنے کی بھی منظوری دی۔ آصف کی سلیکشن تین آفسران کی پینل سے منظور کی گئی۔کابینہ نے چیف کمشنر آر ٹی آئی کیلئے گریڈ۔21کے ریٹائرڈ پی سی ایس آفیسر ساجد خان کے نام کی منظوری بھی دیدی ہے۔صوبے میں خواتین کے حقوق کی علمبرداری بارے اجمل خان وزیر کا کہنا تھا کہ کابینہ نے KP Enforcement for women property rights act 2019 کی بھی منظوری دیدی۔ان رولز کی منظوری سے خواتین کو جائیداد کے حق سے متعلق پہلے سے بنائی گئی قانون پر عمل درآمد کو یقینی بنایاجا سکے گا۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کابینہ نے زکو? فنڈز کی منصفانہ،شفاف اور با مقصد استعمال کو یقینی بنانے کیلئے وزیر خزانہ، وزیر بلدیات، سیکرٹری سوشل ویلفیئر اور دیگر پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیاجوکابینہ کو اس سلسلے میں ٹھوس اور قابل عمل تجاویز پیش کرے گی۔

You might also like More from author