اپنی ہی حکومت کے بدقسمت قیدی

جو موضوعات ہمیشہ زندہ رہتے ہیں ان سے متعلق لکھی گئی تحریوں کا یہ سلسلہ ءنشر مکرّر آپ کے لئے دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا۔۔۔

میں نے کبھی اس کہانی کو سنجیدگی سے نہیں لیا لیکن یہ کہانی میں برسہا برس سے سنتا چلا آرہا ہوں۔ کہانی یہ ہے کہ صدر ایوب )مرحوم(کو مذہبی ایمان کی حد تک یہ یقین تھا کہ ان کی لائی ہوئی خوشحالی نے انہیں قوم کی آنکھوں کا تارا بنا رکھا ہے اور وہ کروڑوں عوام کے دلوں میں بستے ہیں ¾ بلکہ ان کی دھڑکن بنے ہوئے ہیں۔ یہ کہانی اتنی مہارت کے ساتھ اور اتنے وسیع پیمانے پر پھیلائی گئی تھی کہ لوگ اسے ایک ناقابل تردید صداقت سمجھنے لگے اور اب بھی سمجھتے ہیں۔ اس کہانی کے مطابق صدر ایوب کو اپنی بے مثال مقبولیت کا یقین ان اخبارات کے ذریعے دلایا جاتا تھا جو بطور خاص صرف ان کے مطالعے کے لئے چھپوائے جاتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ جب پہلی بار انہیں حقیقت کا سامنا کرنے کا اتفاق ہوا تو وہ دم بخود ہو کر رہ گئے۔ انہیں اس قدر شدید صدمہ ہوا کہ اسی روز انہوں نے تاحیات قوم کی خدمت کرتے رہنے کی امنگ کو اپنے سینے میں دفن کردیا۔

میں پورے وثوق کے ساتھ یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ کہانی محض ایک کہانی ہے ۔ ہماری بیورو کریسی اتنی باصلاحیت اور با کمال بہرحال ہر گز نہیں کہ روزانہ بلا ناغہ ایک ” مستند“ اخبار محض حاکم وقت کے مطالعے کے لئے چھپوا سکے۔

یہ بات البتہ اپنے پینتالیس سالہ صحافتی اور سیاسی تجربے کی بنا پر میں پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ہر حاکم وقت کا تعلق کسی نہ کسی مرحلے  )یا لمحے(پر حقائق سے ختم کردیاجاتا ہے ۔ اس سے صرف وہی لوگ مل پایا کرتے ہیں جن سے اپنی مقبولیت کے قصے سننے کے لئے وہ خود ملنا چاہتے ہوں یا جنہیں ” حکومتی نیٹ ورک“ اپنے کسی مقصد کے لئے استعمال کرنا چاہتا ہو۔

اگر یہ کہاجائے تو غلط نہیں ہوگا کہ کچھ تو ” سیکورٹی “ کے تقاضوں کی بدولت اور کچھ ” حکومتی نیٹ ورک“ کی مصلحتوں کی وجہ سے ہر حاکم وقت عملی طور پر ” شاہانہ زندگی گزارنے والے “ ایک قیدی کی حیثیت رکھا جاتا ہے۔

کبھی کبھی اسے اس کی بے پناہ مقبولیت دکھانے کے لئے ایسے جلسوں کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے جس میں ”حاضرین“ کو جمع کرنے پر کروڑوں روپے خرچ کردیئے جاتے ہیں۔

یہ کھیل میں کئی دہائیوں سے دیکھتا چلا آرہا ہوں ۔ حتیٰ کہ یہ کھیل بھٹو کے دور حکومت میں بھی کھیلا جایا کرتا تھا !

)یہ کالم اس سے پہلے بھی 27-03-2007کو شائع ہوا تھا(

 

 

You might also like More from author