صحت مند رہنا چاہتے ہیں تو زندگی کو مقصد دیجیے

بامقصد زندگی گزاریئے تاکہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ آپ کا ذہن ٹھیک کام کرتا رہے اور جسمانی صحت بھی درست رہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

سان ڈیاگو: امریکا میں 21 سالہ نوجوانوں سے لے کر 100 سال سے بھی زیادہ ضعیف العمر افراد پر کیے گئے ایک تازہ مطالعے میں انکشاف ہوا ہے کہ جو لوگ اپنی زندگی کو بامعنی اور بامقصد سمجھتے ہیں، وہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ صحت مند بھی رہتے ہیں۔

سان ڈیاگو کاؤنٹی، کیلیفورنیا میں 1042 افراد سے ’صحت اور سوچ‘ کے بارے میں بھروائے گئے تفصیلی سروے فارمز میں شرکاء کے جوابات کا نہایت باریک بینی سے تجزیہ کرنے کے بعد ماہرین نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اپنی زندگی کو بامقصد اور بامعنی والے، یا زندگی میں کسی مقصد یا مفہوم کی تلاش میں رہنے والے لوگ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ بھی عموماً صحت مند رہتے ہیں۔ ان کے برعکس وہ لوگ جو اپنی زندگی کو ’بس یونہی‘ گزار دینے کے قائل ہوتے ہیں، وہ ادھیڑ عمری اور بڑھاپے میں زیادہ بیمار رہنے لگتے ہیں۔

جوانی کو صحت مندی اور بڑھاپے کو بیماری سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ عمر رسیدگی کے ساتھ صحت کا گرنا اگرچہ یقینی ہے لیکن مطالعے میں یہ دیکھا گیا کہ وہ تمام افراد جو اپنی زندگی میں کسی نہ کسی ’’مقصد‘‘ اور ’’مفہوم‘‘ کے قائل یا متلاشی تھے، وہ ذہنی اور جسمانی طور پر اچھی صحت کے مالک تھے؛ جبکہ ان ہی کے ہم عمر، وہ افراد جو زندگی میں نہ تو کسی مقصد کے قائل تھے اور نہ ہی انہیں زندگی کے کسی مفہوم کی تلاش تھی، انہیں بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ مختلف جسمانی اور نفسیاتی بیماریاں زیادہ شدت سے متاثر کرنے لگیں۔ علاوہ ازیں، ان لوگوں کی اکتسابی (نیا سیکھنے کی) صلاحیتیں بھی عمر رسیدہ ہونے پر تیزی سے کم ہونے لگتی ہیں۔

غرض پیچیدہ اعداد و شمار اور تکنیکی زبان میں لپٹی ہوئی اس تحقیق کا پیغام بہت سادہ ہے: بامقصد زندگی گزاریئے تاکہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ آپ کا ذہن ٹھیک کام کرتا رہے اور جسمانی صحت بھی درست رہے۔

اس مطالعے کی تفصیلات ’’جرنل آف کلینیکل سائیکاٹری‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔

You might also like More from author