اے میرے رب مجھے عوام بنا دے !

جو موضوعات ہمیشہ زندہ رہتے ہیں ان سے متعلق لکھی گئی تحریوں کا یہ سلسلہ ءنشر مکرّر آپ کے لئے دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا۔۔۔
کہتے ہیں کہ جمہوریت عوام کے لئے ہوتی ہے ۔ عوام ہی حاکم ہوتے ہیں ۔ عوام ہی قانون بناتے ہیں ۔ عوام ہی ملک چلاتے ہیں۔ پّتا بھی عوام کی مرضی کے بغیر نہیں ہلتا۔
کہتے یہی ہیں۔
خاص طور پر وہ ضروریہ کہتے ہیں جو کہیں چوہدری ہوتے ہیں۔ کہیں خان ہوتے ہیں ، کہیں سردار ہوتے ہیں ، کہیں مخدوم ہوتے ہیں ، کہیں رئیس ہوتے ہیں اور کہیں راجے ہوتے ہیں ، ان کا کہنا یہ ہوتا ہے کہ چوہدری ، خان ، سردار ، مخدوم ، رئیس اور راجے تو وہ محض کہنے کے لئے ہوتے ہیں محض اپنی شناخت کرانے اور اپنے شناختی کارڈ بنوانے کے لئے ، ورنہ درحقیقت وہ عوام ہوتے ہیں۔ بلکہ وہی عوام ہوتے ہیں۔
وہ جو گلیوں میں سڑتے ، سڑکوں پر مرتے ، دھوپ میں جلتے ، ٹھنڈ میں ٹھرتے ، دن کو بارڈ ھوتے ،رات کو دھاڑ روتے اور پل پل حوصلہ کھوتے رہتے ہیں ۔۔۔ وہ عوام نہیں ہوتے۔
اگر وہ عوام ہوتے تو کیا پاکستان ان کا ہی نہ ہوتا ؟
جمہوریت میں عوام تو وہ ہوتے ہیں جن کی حکومت ہوتی ہے ۔
آپ شاید کہیں کہ ایک شخص بلال ؓ بھی تو تھا ۔ جسے ننگی ریت پر لٹا کر منوں وزنی پتھرکے بوجھ تلے دبا دیا جاتا تھا۔
کیا اسی شخص نے ۔۔۔ بلال ؓ حبشی نے ایک روز کھڑے ہو کر قریش کے سرداروں سے نہیں کہا تھا ۔ تمہاری بادشاہت ختم ہوئی ، اب بادشاہ ہم ہیں ۔؟
کہا تھا ۔ یقینا کہا تھا۔
اور ایک بات ”روسو“نے بھی کہی تھی۔
” کسان اور مزدور کو چار پانچ برس میں صرف ایک دن بادشاہت دی جاتی ہے ۔ صرف ایک دن چاریا پانچ سال بعد آیا کرتا ہے جب وہ بادشاہ ہوا کرتا ہے۔ وہ دن جب وہ گھر سے ووٹ ڈالنے کے لئے نکلتا ہے ۔“
کہنے کے لئے ہم سب کے پاس بہت کچھ ہے۔
میں بھی کہتا ہوں کہ اگر میرے سر پر بھی کوئی جنرل ہاتھ رکھ دے تو میں وزیر سفیر اور امیر کبیر بن جاﺅں۔پھر شاید میرا شمار بھی عوام میں ہونے لگے۔
اے میرے رب مجھے عوام بنا دے!)یہ کالم اس سے پہلے بھی 25-03-2007
کو شائع ہوا تھا(

You might also like More from author