مورخ لکھے گا”ایک تھا بھارت“

”ہندو توا کی انسانیت دشمنی بھارتی وحدت میں نصب بارودی سرنگ کی حیثیت اختیار کر چکی ہے،،

”ہندو توا کی انسانیت دشمنی بھارتی وحدت میں نصب بارودی سرنگ کی حیثیت اختیار کر چکی ہے،،
بھارت دنیا کی سب سے بڑی ”جمہوریت،، ہونے کا دعویدار ہے۔
وہ ایک عرصے تک جنوبی ایشیائی خطے کا داروغہ بننے کے لئے اکنافک عالم میں اسی دعوے اور پراپیگنڈے کا چورن بچتا رہا ہے۔
بھارت کا یہ دعوی اس کی سوا ارب کی آبادی کی بنیاد پر تھا اور یہ کہ اس کثیر آبادی والے ملک میں معروف جمہوری پیرائے میں تواتر کے ساتھ جمہوری عمل جاری رہتا ہے۔
مغرب اپنے صنعتی،تجارتی اور اسلحی مفادات کے فروغ اور تحفظ کی غرض سے ایک کثیر نفوس رکھنے والی منڈی کو اپنے ہاتھ میں رکھنے کے لئے اس کی دلجوئی میں ہمیشہ پیش پیش رہا۔ اور ایک معین مفہوم میں مغرب کی یہی کاروباری حرص رہی ہے کہ وہ پاکستان کے مقابلے میں ہمیشہ بھارت کو ترجیح دیتا چلا آیا ہے اور اس کی اسی تحریص کے باعث عالمی سطح پر پاکستان کو مسئلہ کشمیر کے حوالے سے انصاف میسر نہیں آسکا۔
اب مگر بھارت کا حقیقی مکروہ چہرہ بے نقاب ہوتا جا رہا ہے۔
اک عالم کے سامنے یہ حقیقت کھل کر واضح ہو چکی ہے کہ جو بھارت اوردنیا میں سب سے بڑی جمہوریت کا دعویدار ملک تواندر سے جمہوریت کا سب سے بڑا دشمن ہے اور وہ جس سیکولر ازم کی ڈھال کے پیچھے آج تک چھپتا آیا ہے وہ ایک بہت بڑا دھوکہ فریب اور سراب ہے بھارت کو اس کی بدقسمتی کے ان اندھیروں تک کسی اور نے نہیں اس نے خود اپنے کرتوتوں کے سبب سے پہنچایا ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں پچھلے 5 اگست سے جاری لاک ڈاﺅن اور کرفیو کی ظالمانہ بندشوں نے وادی کے لاکھوں مسلمانوں کی زندگیاں داﺅ پر لگا رکھی ہیں۔
ابھی کشمیری مسلمانوں کی بپتا کا یہ باب تمام نہ ہوا تھا کہ مودی سرکار نے مسلم کشی کی اپنی دیرینہ روایت کے عین مطابق اور ہندوتوا کے زعم میں ”شہریت،، کا نیا قانون متعارف کرا دیا۔ جس کا سب سے زیادہ اثر بھارتی مسلمانوں پر ہوا۔ اس قانون کے تحت طے یہ ہوا ہے کہ جو ہندو آبادی گردر پیش کے ممالک سے نقل مکانی کرکے بھارت میں آباد ہوئی ہے اسے تو اس ملک کی شہریت دے دی جائے گی البتہ مسلمانوں کو ہر گز یہ حق نہیں دیا جائے گا۔
بھارتی مسلمانوں کے ساتھ اس امتیازی سلوک کا پس منظر ہندوتھا کے نظریہ سازوں نے یہ وضع کر رکھا ہے کہ بھارت ہزارہا سال سے ہندوﺅں کا ملک چلا آرہا ہے۔ اس لئے یہاں رہنے کا حق بھی صرف ہندوﺅں کا ملک چلا آرہا ہے۔ اس لئے یہاں رہنے کا حق بھی صرف ہندوﺅں کو حاصل ہے۔ ہندوﺅں کے علاوہ جن مذاہب کے وابستگان یہاں آباد ہیں وہ دراصل ابتدا میں ہندوہی تھے جو وقت کے مختلف دورانیوں میں اپنے ابتدائی ہندومت کو ترک کرکے دوسرے مذاہب میں داخل ہوگئے۔ اس ضمن میں ہندوتوا کے پیروکار سب سے زیادہ مسلمانوں کو نشانہ ستم بنائے ہیں۔
آج سے چند سال پہلے جب نریندرا مودی ریاست گجرات کا وزیراعلی تھا تو ہندوتوا کے پیروکاروں اور ان کے انتہا پسند گروہ آر ایس ایس مسلمانوں کی نسل کشی پر اتر آئے تھے۔ ان کا موقف تھا کہ مسلمانوں کی نسل کشی پر اتر آئے تھے ان کا موقف تھا کہ مسلماندراصل ہندو مت ترک کرکے اسلام میں داخل ہوئے تھے۔ ان کے مفاد میں بہترین طریقہ یہی ہے کہ وہ پھر سے اپنی اصل سے آملیں یعنی ہندومت اختیار کرلیں۔ظاہری بات ہے گجرات کی مسلم آبادی نے تبدیلی مذہب کے لئے ان جبری اقدامات کے خلاف زبردست مزاحمت کی جس پر راشٹریہ سیوک سنگھ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے دہشت گردوں نے مسلمان آبادی پر حملے شروع کر دیئے۔ بچیوں کے اغواءاور عصمت دری کے واقعات روز مرہ کا معمول بن گئے مسلمانوں پر گائے کا گوشت حرام قرار دے دیا گیا۔ یہاں تک کہ عید قربان پر بھی مسلمان سنت ابراہیمی کی ادائیگی سے محروم کئے جانے لگے۔
اسی اثناءمیں عالمی سطح پر اسلاموفوبیا کی جو وباءچلی اور مغرب نے جس طرح سے اسے اچھالتے ہوئے اسلامی دنیا کو اپنے زیر لانے کی کوشش کی اس نے بھارت کے اسلام دشمن آر ایس ایس مائنڈ سیٹ کو مزید تقویت پہنچائی۔ اور یوں مغرب اور بھارت کے اسلام دشمن ہندوتوا کے علمبرداروں کے مفادات میں ایک ساجھے داری پیدا ہوگئی جس کی ایک شکل بھارت کے اسی سال منعقدہ عام انتخابات میں پاکستان مخالفت کا چورن بیچنے میں نظر آئی۔ اور جس کے نتیجے میں مودی کی بی جے پی کو ایک بار پھر انتخابی کامیابی حاصل ہوگئی۔
بھارت سرکار کی اسی فتح یابی کا اگلا مرحلہ یہ سامنے آیا کہ اس نے پانچ اگست کو ایک آئینی ترمیم کے ذریعے سراسر غیر آئینی اقدام کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کے متنازعہ علاقے کو یکطرفہ طور پر اس کی الگ شناخت سے محروم کرے ہوئے بھارت کا حصہ قرار دے ڈالا۔ اور اب وہاں بزور قوت مسلمانوں کی اکثریت شناخت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے درپے ہو چکا ہے۔ اس ضمن میں اس نے ایک نیا قانون نافذ کر دیا ہے کہ آئندہ کوئی ہندو مسلم اکثریت کے علاقے میں جائیداد خرید سکتا ہے۔
اب اس وقت کیفیت یہ ہے کہ ایک طرف مقبوضہ کشمیر کا سلسلہ جاری ہے۔ اور دوسری طرف شہریت کے نئے متنازعہ قانون کے خلاف ردعمل نے بھارت کی اہم ترین ریاست یو پی سمیت درجن بھر دوسری ریاستوں میں مسلمان، سکھوں اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے بھارتیوں نے دلی سرکار کے معاندانہ اقدامات کے خلاف شدید احتجاجی تحریک شروع کر رکھی ہے۔ اس پر طرہ بھارت میں جاری علیحدگی درجن بھر تحریکیں پہلے سے زیادہ مقبولیت حاصل کرتی جارہی ہیں۔ بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق مودی سرکار کوبتایا گیا ہے کہ اگر ہندوتوا کی موجودہ روش جاری رہی تو غیر ہندو بھارتی آبادی بھارت کی مرکزیت سے علیحدگی کے راستے پر گامزن ہو جائے گی اوریوں بھید نہیں کہ بھارت اپنی موجودہ سیاسی وریاستی وحدت برقرار رکھ سکے۔ اگر ایسا ہوا تو پھر یہ ملک بس تاریخ ہی میں زندہ رہے سکے گا اور کچھ بعید نہیں کہ مستقبل بعید کا کوئی مرخ اس موضوع پر مقالمہ لکھے کہ ایک تھا بھارت،،

You might also like More from author