اپنے گلشن کی پت جھڑ روکنے کے لئے مائنس ون کا شوشہ!

سولہ مہینوں میں سولہ پسپائیاں اور رسوائیاں
اور اب سترہویں کی تیاریاں، کوئی ڈھیٹ ہو تو ہماری ممدوح اپوزیشن کی طرح، ورنہ ڈھٹائی اور جگ ہنسائی بے مزہ ہو کر رہ جاتی ہے۔
میں پورے و ثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ لندن میں جمع نون غنوں کے سارے پیارے اس بار مائنس ون کے شوشے کے ساتھ جو ناٹک نوٹنکی کھیلنے جا رہے ہیں اس میں بس ان کے مردے ہی خراب ہوں گے۔ پسپائی، رسوائی، جگ ہنسائی اور عوام میں تھو تھو افافی بونس کے طور پر ان کا مقدر بننے جاری ہے۔
مائنس ون کا شوشہ چھوڑنے والے نون غنے دراصل میرے وہ لہورئیے ستمبردار اور بڑھک باز ہیں جنہیں تھوری سی ہوا مل جائے تو ماتمی جلوس میں بھی بھنگڑے بھی ڈال لینے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے۔ بے شرمی کا عالم یہ ہے کہ ابھی5دسمبر کی شرمناک شکست کے زخم بری طرح رس رہے ہیں، کہ اب مائنس ون کے شوشے کے کھوتے پر سوار ہو کر ایک اور شکست کی پٹخنی کھانے ولاے ہیں۔
اب آئیے دیکھتے ہیں کہ نون غنوں کی شکست خوردہ لندنی بلوں میں گھی قیادت کو مائنس ون کے شوشے کی سوجھی کیوں؟ دراصل قصہ یہ ہے کہ جیسا کہ میںنے اپنے پچھلے ایک کالم میں خواجہ آصف کے حوالے سے انکشاف کیا تھا کہ نون لیگ کے 30کے لگ بھگ بے قرار پنچھی اڑنے کو بیتاب ہیں۔ ان میں چند ایک سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے 20سال پہلے نا شریف خانوادے کے فرار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب نام نہاد لیڈر میدان چھوڑ کر اپنے ساتھیوں کو بتائے بغیر رات کے اندھیرے میںملک سے فرار ہو جائے تو پھر آپ ہی بتائیے ملک میں رہ جانے والے اس کے ساتھ محض پولیس کی چھترول کھانے کے لئے ان کے نام کی مالا جھپتے رہیں جس طرح ماضی میں ناشریفوں کی بزدلی پر لوگ قاف لیگ میں چلے گئے تھے اسی طرح ہمارا حق ہے کہ ہم بھی ان ناشریف بھگوڑوں کے فرار ہونے پر اپنے بچاو¿ آپشن ہیں ہم اپنا فارورڈ بلاک بنا کر اپنی ایک الگ شناخت قائم کر لیں یا پھر حکومتی پارٹی میں شامل ہو جائیں۔
نون لیگ میں اندرونی طور پر یہی وہ پت جھڑ تھی جس نے احسن اقبال اور خواجہ آصف کو شدید ہجان میں مبتلا کر دیا۔ اور اس نے فوری طلبی کے باوجود شوباز شریف سے لندن پہنچنے میں تین چار روز کی تاخیر کی اجازت لے لی ۔ میری اطلاعات کے مطابق اس دوران نونی قیادت نے اندازہ لگایا کہ انہیں اپنے اڑان بھرنے والے پنچھیوں کو روکھنے کے لئے ” دانا دنکا“ ڈالنے کی ضرورت ہوگی۔ اس طرح رینٹ اے دھرنا والے ملا فضلو کی طلب زر بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے ناراض نون غنوں سے ہتھ ہولا رکھنے کی درخواست کے ساتھ یہ وعدہ بھی کر لیا کہ وہ ان کے علاقوں کی دویلپمنٹ کے نام پر انکے ”دانا دنکا“ کا بندوبست کرنے لندن جا رہے ہیں۔ لہٰذا وہ ان کی واپسی تک کوئی بڑا اقدام نہ اٹھائیں۔
اسی دوران لندن بیٹھے شوباز نا شریف اور اس کے مفرور بیٹھے سلیمان کی طرف سے خواجہ آصف کو یہ ٹاسک دیا گیا کہ وہ کوئی ایسا شوشہ چھوڑیں جس سے نون لیگ کی قیادت بابت فرار کی جو چھاپ لگ رہی ہے اس کے اثرات ذائل ہو جائیں اور یوں ناراض نون غنے یہ جان کر کہ نا شریف خاندان تو ملک واپس آجائے گا۔ چنانچہ اس طرح ان کے بھاو¿ تاو¿ کا دباو¿ بہت حد تک کم ہو جائے گا۔
چنانچہ ایک طرف ایسا کیا گیا تو دوسری طرف یہ شوشہ چھوڑ دیا گیا کہ اب تو مقتدر پارٹی میں مائنس ون ہونے والا ہے۔ یعنی ان ہاو¿س تبدیلی ۔ اور پی ٹی آئی کے ارکان پارلیمنٹ ہی اپنے لیڈر عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کا اظہا ر کر دیں اور یوں عمران خان کی جگہ پی ٹی آئی والے اپنا کوئی نیا پارلیمانی لیڈر چن لیں۔
مائنس وان کے اس شوشے کا ایک اثر یہ ہوا کہ جو نون لیگ کے ناراض ارکان پارلیمنٹ ایک بار پھر اپنی آنے والی جگہ پر آن براجمان ہوئے۔ اور وہ لگ بھگ 30ارکان پارلیمنٹ جو انہی دنوں میں وزیر اعظم سے ملاقات کےد وران ان کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرنے والے تھے۔ ان وہ 23ارکان پارلیمنٹ بھی وزیر اعظم سے ملنے والے تھے جو چھہ ماہ پہلے بھی بنی گالہ میں ان سے ملاقات کے دوران ان کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کر چکے تھے۔
یہی نہیں مائنس ون شوشے کے ذریعے نون غنوں نے یہ پروپیگنڈا بھی لانچ کیا کہ پی ٹی آئی کے اتحادی اور اس کی صفوں میں موجود اس کے اپنے ارکان پارلیمنٹ عمران خان کی ذات پر عدم اعتماد کا اظہار کرنے والے ہیں۔
اس عمران مخالف پروپیگنڈے نے عارضی طور پر نون لیگ میں شروع ہونے والے پت جھڑ پروسیس کو ۔ ایک عارضی بند لگادی۔ مگر یہ بہت عارضی مرحلہ تھا۔ پچھلے روز اس غبارے میں سے پھونک نکل گئی۔9جماعتی اپوزیشن اتحاد نے حکومت کو گھر بھیجنے کے لئے ملک گیر احتجاج کی کال دے رکھی تھی۔ مگر وائے افسوس یہ تماشہ نہ ہو سکا۔ نون لیگ اور پیپلز پارٹی سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں کی مقبولیت بھرم اور چھوٹے پراپرپیگنڈے کی ساری قلعی کھول کر رہ گئی۔
سو عزیزو! اب تازہ ترین صورت حال یہ ے کہ پاکستان تحریک انصاف اندرونی طور پر مکمل طور پر مضبوط ہے جبکہ جون لیگ بطور خاص اور دیگر جماعتوں میں ٹوٹ پھوٹ شروع ہو چکی ہے۔ نون لیگ کے لندن میں موجود نورتن بہت جلد ناکام وفامراد وطن لوٹنے ولاے ہیں اور مفرور خانوادہ نا شریفاں اب عرصہ دراز کے لئے بیرون ملک ہی رہے

You might also like More from author