نونی پنج پیاروں کا لندن پلان!

پاکستان میں پے درپے ناکامیوں اور پسپائیوں کے بعد نا مرادیوں کے بوجھ تلے دبی اور طوطامار رسوائی سے نڈھال اور بد حال نون غنی قیادت اور اب اپنے سابقہ آقاو¿ں ، مربیوں اور سانجے داروں کے شہر لندن میں جمع ہو رہی ہے۔ اقتدار سے محرومی، احتسابی شکنجوں کی جکڑ بندی، ملک گیر سطح پر روز بروز دم توڑی سیاسی پذیرائی اور نون لیگ میں طاری ہونے والے پت جھڑی موسم نے تین تین بار وزارت عظمیٰ کے مزے لوٹنے والے نون نا شریف اور اس کے کرپشن دھندے کے گماشتوں کو اپنے تن مردہ میں از سر نو زندگی کی کوئی رمق ڈالنے کے لئے کسی موثر آسرے کی ضرورت تھی سو پہلے نواز نا شریف الٹی سیدھی بیماریوں کے بہانے سے لندن فرار ہو گیا اس کے ساتھ ہی شوباز نا شریف کو بھی ملک سے بھاگ جانے کا موقع مل گیا۔ اس کا بیٹا سلیمان ، داماد علی عمران اور نواز شریف کا سمدھی اسحق ڈار پہلے سے ہی لندن میں مفرور ہیں۔ مزید برآں نواز ناشریف کے دونوں بیٹے حسن اور حسین بھی مفرور میں اور لندن ہی میں لوٹ مار کی آمدنی سے خریدے گئے محلات میں مقیم ہیں۔ اب دو روز پہلے نا شریفوں نے اپنی اب تک کی وفادار تگڑم یعنی خواجہ آصف، رانا تنویر اور مریم اورنگ زیب کو بھی لندن طلب کر لیا ہے۔
یاد رہے لندن پہنچنے سے پہلے خواجہ آصف نے قومی اسمبلی کے فلور پر اعلان کیا تھا کہ انہیں پارٹی قیادت نے مشاورت کے لئے لندن بلایا ہے تاہم انہوں نے قیادت سے دو تین روز بعد آنے کی اجازت طلب کی ہے کیونکہ انکے بقول تب تک کچھ اہم حقائق منظر عام پر آچکے ہوں گے۔
قارئین کرام یہ کون سے پوشیدہ حقائق تھے سیالکوٹی خواجہ کو جنکے منظر عام پر آجانے کا انتظار تھا۔
آئیے میں آپ کو اس راز سے آگاہ کرتا ہوں۔ ہوا یہ کہ جب سے نا شریف برادران مشکوک بیماریوں کی آڑ لے کر ملک سے فرورہوئے ہیں نون غنوں کو آج سے بیس سال پہلے والے ڈراو¿نے خواب آنے لگے تھے جب سارا نا شریف خاندان اس وقت کی حکومت کے ساتھ مک مکا کرنے کے بعد بیرون ملک فرار ہو گیا تھا، تب احساس شکست سے چوُر اور سُبکی کے مارے نون غنوں نے نا شریفوں کو سبق سکھانے کے لئے نون لیگ پر دو حرف بھیجتے ہوئے خود کو گجرات کے چوہدریوں کی جھولی میں ڈال دیا تھا اور اس جھول پر پھر قاف لیگ کی تختی سجالی گئی تھی۔
دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے۔ خواجہ آصف اینڈکمپنی کو کے اپنے ”شعبہ مخبری“ سے یہ مصدقہ اطلاعات مل چکی تھیں کہ قومی اسمبلی کے لگ بھگ 30ارکان اور پنجاب اسمبلی کے ممبر نون لیگ کو دفع خطی دے کر تحریک انصاف میں شامل ہونے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ یاد رہے ان میں 23ارکان وزیر اعظم عمران خان سے ان کے گھر بنی گالہ میں جا کر ملاقات کر چکے تھے۔
اس صورت حال نے ذاتی طور پر خواجہ آصف کو شدید دھچکا پہنچایا تھا کیونکہ موصوف ان دنوں نیب کے ”گرم پانیوں“ میں گرنے سے بہت لرزاں ہیں۔ اور نون لیگ جتھہ بندی اور بارگینگ کی پاور ہی اب اس کا ایک بڑا آسرا تھی، چنانچہ پہلے مرحلے میں اس نے پت جھڑ کی اس صورت حال کے تدارک کی بہت کوشش کی مگر جب کوئی کامیابی میسر نہ آسکی تو اس نے شیخوپورہ سے نون لیگی ساتھی رانا تنویر اور مریم صفدر کی نفس ناطقہ کے ناموں کی منظوری کے ساتھ سفر لندن کا سامان باند ھ لیا اب یہ تگڑم لندن جا چکی ہے اور شہباز روز دو ماکر، عیار اور چالاک بیماروں یعنی نا شریف برادران کے ساتھ ”لندن پلان“ کو آخری شکل دینے کی کوشش کر رہی ہے۔
مگر یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ یا اردو کا ایک اور محاورہ یاد آرہا ہے یہ منہ اور مسور کی دال پر کیا کیجئے ہارا ہوا جواری یا زخمی بھیڑیا آخری بار گرنے سے پہلے ایک بار حریف پر جھپٹتا ضرور ہے۔ سو میرے پیارے قارئین یہ جو لندن میں پاکستانی قانون کے جو بھگوڑے ، مجرم، قیدی یا نا اہل یا ان کے گماشتے جمع ہیں ان کا آخری جز ہے کہ کسی نہ کسی طور پر عمران حکومت کو زچ کیا جائے۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ انہوں نے اپنے دور اقتدار میں رہتے ہوئے غیر ملکی ساہو کاروںکے ساتھ ملک کر جو لوٹ کھسوٹ کی تھی ، اس کے طفیل چونکہ انہیں بھی اپنا اپنا حصہ پتی ملا تھا اس لئے اپنے ”کاروباری“ ساجھے داروں کو گرم پانیوں سے نکالنے کے لئے وہ ضرور ان کی کچھ نہ کچھ مدد کریں گے۔ سو اس مقصد کے لئے لندن میں مقیم پنج پیاروں نے اپنے تئیں اپنی اپنی چالوں کے گھوڑے دوڑانے شروع کر دیئے ہیں۔ کئی ایک سابقہ کاروباری شراکت داری، سیاسی مارکیٹنگ کرنے والی ایجنسیاں، برطانیہ اور امریکہ میں جنوبی ایشیا ڈیسک کے وابستگان اور نونی سیاسی کارکن ان پنج پیاروں کی ہٹ لسٹ میں شامل ہیں۔ اسی طرح یورپی ممالک میں انسانی حقوق کے لئے سرگرم این جی اوز اور ملٹی نیشنل تجارتی اداروں کے ساتھ بھی در پردہ گٹھ جوڑ بڑھایا جا رہا ہے۔ اور ان تمام افراد اداروں اور تنظیموں کو تاثر یہ دیا جا رہا ہے کہ عمران حکومت جمعہ جمعہ آٹھ دن کی مہمان ہے۔ ۔ اس لئے مستقبل کے حوالے سے اس کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کی بجائے پنج پیاروں کو مزید خدمت کا موقع دیں تو وہ حکومت میں آکر نہ صرف برطانیہ ، امریکہ اور دوسرے یورپی ممالک کے مفادات کی بہتر نگرانی اور فروغ کے لئے کام کر سکتے ہیں بلکہ جنوبی ایشیا میں نئی ابھرتی اقتصادی حقیقتوں کو بھی پس پشت ڈال کر ان کی ترجیحات کے مطابق پیش خدمی کی جا سکتی ہے۔
میرے ذرائع کے مطابق اگر پنج پیاروں کا لندن پلان ان کے وضع کردہ خطوط اور توقع کے مطابق آگے بڑھتا رہا تو بہت ممکن ہے اگلے چند دنوں تک انسانی حقوق کی علمبردار کسی این جی او کی طرف سے ناشریفوں کے حق میں وکئی بیان بھی آجائے۔۔

You might also like More from author