مجھے میرا نالائق ہی عزیر ہے

 

وہ نالائق تھا، نالائق ہے اور نالائق ہی رہے گا
شکر الحمد اللہ مجھے میرا یہی نالائاق عزیر ہے۔ بڑھک باز اپوزیشن کے پاس زندگہ رہنے اور اپنی دکان داری چمکائے رکھنے کے لئے کوئی ٹھوس مسائل اور ایشوز تو ہے نہیں اور جو ہیں ان کے ذکر سے وہ ہمیشہ ہندو عورت کی طرح گریزاں رہتی ہے کہ وہ سارے ایشوز اور مسائل خود اس کے اپنے پیدا کردہ ہیں۔ لہٰذا عوام کے آگے بیچنے کے لئے اس کے پاس صرف چند گھسے پٹے ڈھکوسلے، کوسنے اور پٹ سیاپے ہی بچتے ہیں۔ جنہیں وہ چھپن چھری عورت کی طرح موقع بے موقع اگلتی رہتی ہے بسا اوقات ان کی جگالی بھی اس کا دل پسند مشغلہ بن جاتی ہے۔
مثلاً جب انہوں نے عمران خان کی ذات پر گندا کیچڑ اچھالنے کے عائشہ گلالئی۔ عائشہ اسماعیل اور ریحام خان جیسے کھوٹے سکے بھی چلا اور آزما کر دیکھ لئے تو پھر ”سلیکٹڈ“ اور ”نالائق“ کی گردان کی جانے لگی۔ اب کیا زرداری اور کیا نا شریف لوگ اور انکے حواری موالی اور گماشتے چیلے چانٹے اٹھتے بیٹھتے ایک ہی گردان الاپتے رہتے ہیں۔ وہ نالائق تھا، نالائق ہے اور نالائق ہی رہے گا۔ مگر نتیجہ اس یاوہ گوئی اور ہذیان کا کیا نکلتا ہے؟
صفر جمع صفر برابر صفر۔ کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنے۔ عمران خان اس طعن و تشنیع سے یکسر بے نیاز اپنی ہی دھن میں لگن پاکستان کو بتدریج ایک اصلاحی معاشرے کی تشکیل کی طرف لے جانے کے مشن پر گامزن چلے جاتے ہیں۔
جہاں تک عامتہ الناس کا تعلق ہے وہ بھی اب اپوزیشن کے اوچھے ہتھکنڈوں سے اچھی طرح با خبر ہو چکے ہیں۔ انہیں اپنے تجربے مشاہدے اور مطالعے سے یہ شعور حاصل ہوتا جا رہا ہے کہ بھان متی کا کنبہ جس کی کوئی کل سیدھی نہیں اور جس کے ارکان کے مابین کوئی قدر مشترک نہیں وہ اگر آج ایک جعلی، مصنوعی اور نقلی اتحاد کا ڈھونگ رچا رہے ہیں تو محض اس لئے کہ عمران خان ملک میں کرپشن مکاو¿ تحریک کے سلسلے میں ان کے احتساب کے سلسلے میں کسی رو ر عائت پر تیار نہیں۔ وہ ماضی کے ہر غلط اقدام کے برعکس قومی دولت لوٹنے والوں کے ساتھ کسی سطح پر تعاون کرنے کو تیار نہیں۔ ان کا ایک ہی کہنا ہے کہ جس جس نے اس قوم کا مال لوٹا ہے۔ وہ اسے خوش دلی سے واپس کر دے۔وگرنہ احتساب کے شکنجے کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہے۔
اب ان قومی چوروں لٹیروں اور ڈکیتوں نے ایک عجب وطیرہ اپنا رکھا ہے۔ اپنے خلاف ہونے والی ہر احتسابی کارروائی کو انہوں نے انتقال اور کردار کشی سے تعبیر کرنا شروع کر دیا ہے ۔ یہی نہیں انہوں نے اپنی اپنی کرپٹ ذات کو ہی جمہوریت ، انسانی حقوق، آئین کی پائیداری،صوبائی خود مختاری اور 18ویں ترمیم وغیر کے ہم پلہ بنا رکھا ہے۔ مثلاً خواجہ رفیق کو جیل گاڑی میں عدالت لایا گیا
راستے میں بوجوہ جیل گاڑی خراب ہوگئی۔ اس کرپٹ مجرم کو کچھ انتظار کرنا پڑا۔ جس کا ردعمل یہ ہوا کہ موصوف نے عدالت پہنچتے ہی موقع پر موجود اخباری رپورٹروں کے سامنے یہ بیان داغ دیا۔”یہاں جمہوریت کو محبوس رکھا جارہا ہے۔ انسانی حقوق کے کھلے بندوں پامالی کی جا رہی ہے۔
نارووال کے طوطا فال مار کہ بقراطی پروفیسر احسن اقبال نے اپنے کے ذریعے راولپنڈی بھی میٹرو بس کے کنٹریکٹ میں بہت گھپلے کروائے۔ اسی طرح نارروال میں ایک سپورٹس سٹیڈیم کی تعمیر میں کروڑوں روپے کی بدعنوانی اس کے بیٹے نے کی جس کی وہ ہمیشہ پردہ داری کرتا چلا آ رہا ہے مگراب کہ راولپنڈی اور نارووال کے دونوں تعمیراتی پراجیکٹس میں اس کے بھائی اور بیٹے کی مالی بدعنوانی کے خلاف تفتیش و پڑتال آخری مرحلوں پر ہے اس نے بھی واویلا مچانا شروع کر دیا ہے۔ وہ شبانہ روز عمران خان کو نالائق ، غبی، سلیکٹڈ اور قومی معیشت پر بوجھ قرار دیتے نہیں تھکتا۔
گزشتہ دنوں قومی میڈیا پر شوباز نا شریف کی لاہور میں ناجائز کمائی اور منی لانڈرنگ سے جمع کردہ دولت سے خکریدی گئی بیش قیمت جائیدادوں کو نیب نے بحق سرکار ضبط کرلیاں اورشوباز کے ساتھ ساتھ اس کے دونوں بیٹوں حمزہ اور سلیمان کے اثاثوں کی ضبطی کے احکامات بھی جاری کر دیئے۔ اس پر سارا شوباز خاندان تلملا اٹھا ہے اور مارے درد کے بلبلا رہا ہے۔ اس کے پٹ سیاپے اور ہاہاکار کا ایک ہی مرکزی نکتہ ہے کہ نالائق وزیر اعظم نے انہیں انتقام کا انشانہ بنا رکھا ہے۔ اور یہ کہ اس کے اقدامات سے ملکی سلامتی ، معیشت اور جمہوریت سخت خطرے میںگھر چکی ہیں۔ ادھر لندن میں بیٹھے شوباز خاندان کا سربراہ پاشنگ شو کی طرح سرپر ہیٹ پہننے والا نام نہاد ”خادم اعلیٰ پنجاب“ بھی واویلا کرنے میں اپنے خاندان کے دوسرے افراد سے کسی طرح پیچھے نہیں۔
پچھلے روز اس نے لندن میں ایک پریس کانفرنس میں غصے اور جھنجھلاہٹ میں قریب قریب کانپتے ہوئے اعلان کیا۔ اب جس قدر جلد ممکن ہو پاکستان کو عمران خان سے نجات دلا دینی چاہئے۔
جس وقت یہ سطریں قارئین کرام کے زیر مطالعہ ہوں گی شوباز شریف اسلام آباد سے بلائے گئے اپنے چیلوں حچانٹوں ازقسم احسن اقبال، خواجہ آصف اور ڈوڈو بیگم مریم اورنگزیب کے ساتھ کسی نئے لندن پلان کو آخری شکل دے رہے ہوں گے۔ جس کا مرکزی نکتہ ہوگا نالائق وزیر اعظم عمران خان کو بھر بھیجنا۔
میں نے عوام کے مختلف طبقوں میں گھوم پھر کر جائزہ لیا اور ان کے سامنے اپوزیشن کے واویلے اور عمران دشمنی پر مبنی رویے پر رائے پوچھی توغالب طور پر ان کا یہی کہنا تھا کہ آج ہمارے ملک کو جس معاشی عذاب کا سامنا تھا کہ آج ہمارے ملک کو جس معاشی عذاب کا سامنا ہے وہ سب اپوزیشن میں شامل پیپلزپارٹی اور نون لیگ کا ہی کیا دھرا ہے۔ عمران خان تو ان کے پیدا کردہ بگاڑ کو سنوارنے کی جدوجہد کر رہا ہے۔ لہذا عوام کہتے ہیں وہ اپوزیشن کے ہر جھوٹے پروپیگنڈے اور الزام تراشی کو مسترد کرتے ہیں۔ اور قومی تعمیر نو اور کرپشن فری کلچر کے فروغ کے لئے عمران خان کے ساتھ ہیں اور ہمیشہ ساتھ ہی رہیں گے۔

You might also like More from author