درندگی کا اصل مجرم ! 29-12-2015

امیر المومنین حضرت عمر فاروق (رضی اللہ عنہ) نے ایک مسلمان حکمران کے فرائض کا احاطہ یہ تاریخی جملہ ادا کرکے کردیا تھا کہ ” اگر دجّلہ کے کنارے بھی کوئی کتا تک بھوکا سو جائے تو عمر (رضی اللہ عنہ) جواب دہ ہوگا۔“
لیکن وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف کے پنجاب میں تو انسانیت تڑپ تڑپ کر سوچکی ہے۔
ایک پندرہ سالہ لڑکی بنیش سے اجتماعی زیادتی کی خبر کی سیاہی ابھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ شیخوپورہ مانانوالہ اور حافظہ آباد کے حوالے سے یہ دلخراش خبر آئی ہے کہ ایک سولہ سالہ مزدور ابوبکر کو اس جرم کے پاداش میں کہ اس نے ” بِلا اُجرت“ مزدوری کرنے سے انکار کردیا تھا،چند با اثر افراد نے دونوں ہاتھوں سے محروم کرکے دو ماہ تک پابہ زنجیر اپنی قید میں رکھا۔وحشت و بربریت کے یہ دونوں واقعات صوبے کے مجموعی ” امن وامان “ کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں۔ لوگوں کے دلوں سے خوفِ خدا تو مٹ ہی چکا ہے، ملک کے قوانین کا بھی کوئی خوف نہیں۔ خوفِ خدا اس لئے ختم ہوتا ہے کہ ابلیس یہ یقین دلا دیتا ہے کہ نہ کوئی آخرت ہے اور نہ ہی کوئی یومِ حساب ہوگا۔ اور ریاستی قوانین کا خوف اس لئے مٹتا ہے کہ پولیس مجرموں کو یہ یقین دلا دیتی ہے کہ تمہارا کچھ نہیں بگڑے گا۔
نو عمر لڑکی کے ساتھ درندگی کے مرکزی ملزم نے پولیس کو گرفتاری اس لئے دی ہے کہ اسے اپنے ” با اثر “ اقرباءکی ” رسائی “ پر پورا بھروسہ ہے۔
چند روز دھواں دار خبریں شائع ہوں گی۔ میاں شہبازشریف کی انگلی بھی فضا میں لہراتی نظر آئے گی ’ پھر لوگ بھول جائیں گے اور معاشرے میں گھومتے یہ پاگل کتے کسی نئے شکار کو بھنبھوڑنے کے لئے تلاش کریں گے۔ اور جس نوعمر مزدور کے دونوں ہاتھ ٹوکے سے کاٹے گئے ہیں وہ شاید چند ہی دنوں میں یہ بیان دے دے کہ سب کچھ حادثاتی طور پر ہوا۔
میں سمجھتا ہوں کہ اگر اِن دو اور اِن جیسے باقی ہزاروں واقعات کے ذمہ دار مجرموں کو عبرتناک سزا فوراً نہیں ملتی تو اللہ تعالیٰ کی نظروں میں اصل مجرم میاں شہبازشریف ہوگا۔

You might also like More from author