مریض کو دوا کی یاددہانی اور ڈاکٹروں کو مطلع کرنے والی اسمارٹ بوتل

ایپ کے ذریعے کھلنے اور بند ہونے والی بوتل’پل کنیکٹ‘ دوا کی یاددہانی کراتی ہے اور اس کی اطلاع آپ کے ڈاکٹر کو بھی دیتی ہے۔ فوٹو: ایوکلڈ کمپنی

لندن: ڈاکٹروں نے دوا رکھنے والی ایک اسمارٹ بوتل بنائی ہے جو موبائل ایپ کے ذریعے اسمارٹ فون یا واچ سے جڑجاتی ہے اور دوا لینے کے عمل کو بہت حد یقینی بناتی ہے۔ اسے ’پل کنیکٹ‘ کا نام دیا گیا ہے۔

اسےبعض مریضوں پر آزمایا گیا ہے تو اس کے 100 فیصد نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ دنیا بھر میں مریضوں کی 40 سے 50 فیصد تعداد اپنی دوا کھانا بھول جاتی ہے یا مصروفیت کی وجہ سے دوا سے دور رہتی ہے۔ تاہم بلڈ پریشر، ذیابیطس اور ایسے کئی امراض میں دوا ترک کرنےکے سنگین نتائج مرتب ہوسکتے ہیں۔

اسمارٹ بوتل اور ایپ ، یوکلِڈ نامی کمپنی نے بنائی ہے۔ بوتل اندر سے بند رہتی ہے اور صرف دوا کے وقت ہی کھلتی ہے جس کے اوقات آپ خود ہی سیٹ کرسکتےہیں۔ بوتل میں ٹھوس دوا رکھی جاسکتی ہے جن میں گولیاں اور کیپسول شامل ہیں۔ دوا لینے کا پورا عمل ریکارڈ ہوجاتا ہے اور اسے کھانے کی تفصیل آپ کے ڈاکٹر تک پہنچ جاتی ہے۔

پہلے مرحلے میں مانچسٹر کے 10 مریضوں پر اسے آزمایا گیا ہے اور اس کے بعد مزید 80 افراد نےاسے استعمال کیا تو اس کے 100 فیصد نتائج سامنے آئے اور ڈاکٹروں نے اس پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ اگلے سال مزید 200 مریضوں کو یہ بوتل دی جائے گی جو بہت سی سنگین بیماریوں میں مبتلا ہیں۔

فرض کیجئے کہ دوا آپ کو شام 5 بجے کھانی ہے تو پہلے ایپ کے ذریعے اسمارٹ واچ یا فون پر اس کا نوٹفیکیشن آجائے گا اور اس کے بعد بوتل ازخود کھل جائے گی۔ گولی نکالنے کےبعد بوتل بند ہوجاتی ہے جسے بچے تو کیا بڑے بھی نہیں کھول سکتے۔

فی الحال یہ اہم ایجاد بازار میں موجود نہیں بلکہ آزمائشی مراحل میں ہے تاہم کمپنی کےمطابق ایک ڈبیہ کی قیمت 25 برطانوی پونڈ یا پاکستانی پانچ ہزار روپے تک ہوسکتی ہے۔

You might also like More from author