اِدھر اکیلا اُدھر جتھہ۔۔۔مگر شکست در شکست جتھے کا نصیبہ

اگر عمران خان ہی وہ رجل رشید اور بطل جلیل ہیں جن کے ذریعے پاکستان کو ریاست مدینہ کے اصولوں پر استوار کرنا مقصود ہے تو پھر میرے اللہ سوہنے کی ہر (چال) حکمت ہی کامیاب ہو کر رہے گی۔
اور اس حقیقت کے ادراک کے لئے کوئی زیادہ تحقیق اور لمبی چوڑی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔ فقط پچھلے کچھ ایام کے نشیب و فراز، گردابوں اور بھنوروں کا مطالعہ فرما لیجئے۔ ہر بات آپ پر واضح اور نکھر کر سامنے آجائے گی۔
1۔ اپوزیشن میں شامل 9جماعتیں آپس میں آگ اور پانی کا بیسر رکھتی ہیں۔ مگر لوٹ کھسوٹ کے دھندے میں یہ سب ایک ہی دسترخواں کی خوشہ چین ہوتی ہیں۔ چنانچہ جوں جوں عمران خان کی کرپشن فری کلچر کی تحریک انسانی ذہن و زمین پر جڑیں پکڑنے لگی۔بھان متی کے کنبے کی سی ہئیت رکھنے والی تمام سیاسی پارٹیاں یک جا ہوگئیں اور انہون نے ایک نوجماعتی منتشر”اتحاد“ کا ڈھکوسلہ کھڑا کر دیا۔
عوام میں تو ان کی کوئی جڑیں رہیں نہیں ہاں البتہ پچھلے کئی سال سے اقتدار مین چمٹے رہنے کے سبب سے پارلیمنٹ میں انہیں عمران حکومت پر عددی بالادستی کا گھنٹہ ضرور حاصل ہے۔ چنانچہ انہوں نے عمران حکومت کو دھچکا لگانے کے لئے سب سے پہلے سینٹ میں چیئرمین کے انتخاب میں حکومت کو نیچا دکھانے کا جتن کیا مگر غالب اکثریت رکھنے کے باوجود منہ کی کھانا پڑی ۔
9جماعتی اپوزیشن کو سینٹ ہی کے حوالے سے ایک اور کاری ضرب چار روز پہلے پڑی۔ جب کے پی کے مین سینٹ کی ایک خال نشست کا انتخاب تھا۔ یہاں اتحاد کے نامزد نون لیگی امیدوار پی ٹی آئی کے ہاتھوں شرمناک ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ ذرا 9جماعتی اپوزیشن اور پی ٹی آئی کو ملنے والے ووٹوں کا تناسب تو ملاحظہ کیجئے۔ تحریک انصا ف کے امیدوار نے 124ووٹ حاصل کئے جبکہ9جماعتی اپوزیشن فقط31ووٹ ہی حاصل کر پائی۔
اب آئیے اپوزیشن جماعتوں کے حالیہ مارچ کی طرف۔بھان متی کے کنبے کی جس طرح کوئی کل سیدھی نہیں اسی طرھ اس مارچ بابت اور اس کی ہئیت کے حوالے سے اپوزیشن کے فیصلہ ساز یکسو تھے نہ یک زبان۔ پہلے اسے ملین مارچ کا نام دیا گیا اور بنوں و ڈی آئی خان سے مسترد سیاستدان ملا فضلو کو اس مارچ کی سربراہی دے دی گئی۔ پیپلز پارٹی اور نون لیگ جیسی فیملی لمیٹڈ پارٹیاں خود پیسہ لگا کر بھلا کس طرھ برداشت کر سکتی تھی کہ ڈرائیونگ سیٹ پر ان کی جگہ کوئی دوسرا آن بیٹھے۔ چنانچہ یہ دونوں انویسٹر پارٹیاں روز اول سے ہی بے دلی کے ساتھ اس مارچ میں شامل رہیں۔ البتہ جلد ہی ملین مارچ، لانگ مارچ میں اور لانگ مارچ آزادی مارچ میں تبدیل کر دیا گیا۔ اسی کنفیوژن میں یہ مارچ سندھ سے پنجاب میں داخل ہوا۔ لطف کی بات کہ اپنے صوبے میں پی پی پی نے ملا فضلو کو اس کے حسب حال گھاس نہ ڈالی، بلاول سندھ میں ہوتے ہوئے بھی ملا سے نہ ملا۔ اسی طرھ پنجاب پہنچنے پر نون لیگ نے ملا کو ٹھینگا دکھا دیا۔ بے نیل و حرام ملا اسلام آباد پنچا تو اس کے پے درپے منت سماجت کے بعد نونی اور جیالی قیادتوں نے اس پر التفات نچھاور کرنے کا سوچا، اور شوباز نا شریف اور بلاول فقط ایک روز مختصر سے وقت کے لئے جھلک دکھانے کے بعد اڑ نچھو ہو گئے۔
اس مرحلے پر ملانے ازخود مارچ کو دھرنے میں بدل دیا جسے دوسری ساری جماعتوں نے مسترد کردیا۔ اسی دوران ملانے پاکستان کے حساس اداروں بابت انتہائی گھٹیا زبان درازی شروع کر دی، اور مجمع کو تشدد کی راہ دکھاتے ہوئے اعلان کر دیا کہ اگر وزیر اعظم نے اگلے دو روز میں استعفیٰ دے نئے الیکشن کا اعلان نہ کیا تو مظاہرین ازخود وزیر اعظم ہاو¿س میں گھس کر وزیر اعظم کا ستعفیٰ حاصل کر لیں گے۔
ظاہری بات ہے قومی سلامتی کے ادارے اس مرحلے پر خاموش نہیں رہ سکتے تھے۔ حکومت نے بھی جوابی اقدامات کے طور پر شہر اور شہریوں کے تحفظ اور ریاست کے اقتدار اعلیٰ کو برقرار رکھنے کی غرض سے سلامتی کی تمام تر حکمت عملی بروئے کار لی آئی تو ملا کی ہوا نکل گئی اور اسے دم دبا کر اسلام آباد سے جاتے ہی بنی۔ 9جماعتی نام نہاد اتحاد وزیراعظم کے استعفے اور فوری الیکشن کے وعدوں کے بغیر ہی ہارے ہوئے جواری کی طرح اسلام آباد سے دفع دور ہو گیا۔
سینٹ میں دو بار اوپر تلے کی شرمناک شکست کے بعد نو جماعتی اتحاد کو اپنے نام نہاد آزادی مارچ اور دھرنے میں بھی منہ کی کھانی پڑی۔
اب مخالفین کے پاس ایک ہی حربہ رہ گیا تھا۔ یعنی پارلیمنٹ میں اپنی عددی بالا دستی کے بل بوتے پر عمران خان کو زچ کیا جا سکے۔ اس ضمن میں انہوں نے عمران حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کیا اور اس پر عمل درآمد کے لئے پہلے مرحلے پر عمران حکومت کی چاروں اتحادی پارٹیوں کو توڑنے کی کوشش کی گئی مگر جب انہوں نے ٹھینگا دکھا دیا تو پھر اپنی صف بندی پر توجہ دی جانے لگی مگر اس دوران ناشریف برادران کے پورے ٹبر کے ملک سے فرار کے واقع کے نتیجے میں نون لیگ میں جو دراڑیں پڑتی جا رہی تھیں ان کے سبب سے نونیوں کی دو نمبر قیادت اور پنجاب میں بے حیثیتی کی شکار پی پی سمیت تمام اپوزیشنی جماعتوں نے عمران حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کا فیصلہ بھی بد ل دیا۔
آخری حربے کے طور پر اپوزیشن نے فارن فنڈنگ کیس کے حوالے سے عمران حکومت کی چھٹی کرونے پر کمرہت کس لی۔ مگر پھر دیکھتے ہی دیکھتے حالات میں ایسی تبدیلی آگئی کہ اپوزیشن کو لینے کے دینے پڑ گئے ۔ اس نے جو گڑھا عمران حکومت کے لئے کھودا تھا اب خود ہی اس میں جا گری ہے اس آخری جاری شکست بابت تفصیلی مکالمہ انشاءاللہ آئند سہی۔

You might also like More from author