پاکستان کو کب پرائیویٹائز کیا جائے گا ۔۔۔؟ 12-12-2015

ایک دور وہ تھا جب قومی ادارے بنانا ایک بڑے اعزاز اور تفاخر کی بات ہوا کرتی تھی۔ قومی ادارے ہماری ملکی عظمت اور ہمارے قومی وقار کی علامت ہوا کرتے تھے۔آج میں یہاں پی آئی اے اور پاکستان سٹیل کی مثال دوں گا۔ پی آئی اے کو عالمی معیار کی ایئر لائن بنانے میں پاکستان ایئر فورس کے دو مایہ ناز ” ایئر مارشلز “نے اہم کردار ادا کیا۔ پہلے ایئر مارشل نور خان نے اس چیلنج کوقبول کیا۔ اور اس کے بعد یہ چیلنج ایئر مارشل اصغر خان کے سپرد کردیا گیا۔ اس ذمہ داری سے پہلے ایئر مارشل اصغر خان پاکستان ایئر فورس کو ملک کی ایک عظیم دفاعی قوت بنانے کا فریضہ انجام دے رہے تھے۔ جب انہوں نے پی آئی اے کو سنبھالا تو ایئر مارشل نور خان نے پاک ایئر فورس کو سنبھال لیا۔
مجھے وہ دور اچھی طرح یاد ہے ۔ جب میں روزنامہ مشرق کراچی کا ایڈیٹر تھا تو میں نے عمر قریشی کے تعاون سے پی آئی اے کے تمام شعبوں کا جائزہ لیا تھا۔ کئی انٹرویو لئے تھے۔ سب سے اہم انٹرویو ایئر مارشل اصغرخان کا تھا۔ یہ ان کے ساتھ میری پہلی ملاقات تھی جو بڑی اہم ثابت ہوئی کیوں کہ ہمارے راستے ایک ہوگئے۔
مجھے ایئر مارشل صاحب کا ایک جملہ یاد آرہا ہے۔
” پی آئی اے میرے نزدیک فضاﺅں میں اڑتا اور نگر نگر زمین پر اترتا پاکستان ہے۔“
اب اِس پاکستان کو بیچا جارہا۔
پرائیویٹائزیشن کے نام پر۔
میری سمجھ میں نہیں آتا کہ جو ” رہبرانِ ملت“ پی آئی اے کو نہیں چلا سکتے وہ پاکستان کو کیسے چلائیں گے۔ پی آئی اے کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ اس پر قرضوں اور ” جاری خرچوں “ کا بوجھ اتنا بڑھ گیا ہے کہ اسے چلانا ممکن نہیں رہا۔ سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ ” یہ بوجھ کس نے بڑھایا )اگر ان لوگوں نے نہیں جو اسے بیچنے کے متمنی ہمیشہ سے رہے ہیں ( ؟ “
اور قرضوں کابوجھ تو پاکستان پر بھی بے حساب لادا جارہا ہے۔ اور لادنے والے وہی ہیں جو پی آئی اے کی پرائیویٹائزیشن کو قومی معیشت کی صحت کی بحالی کے لئے لازمی شرط قرار دیتے ہیں۔
تو کیا ہمیں وہ دن بھی دیکھنا پڑے گا جب یہ لوگ آئی ایم ایف کو یقین دلا رہے ہوں گے کہ پاکستان کی پرائیویٹائزیشن زیادہ دور نہیں۔
پہلے جناب ذوالفقار علی بھٹو کی اندھادھند نیشنلائزیشن نے ملک کو برباد کیا۔ اور اب ان کی کرسی پر بیٹھے لوگ اندھادھند پرائیویٹائزیشن کے ذریعے اسے مزید برباد کررہے ہیں۔
ادارے ہی قوموں کی پہچان ہوتے ہیں۔
پی آئی اے کو پاکستان کی پہچان بنائیں۔ میاں صاحب۔۔ اسے اوایل ایکس پر نہ ڈالیں۔۔

You might also like More from author