پر امن اور جمہوری ایشیاءکیلئے کشمیریوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا: قاسم خان سوری

  • ‘ناانصافی کسی بھی جگہ ہو وہ انصاف کے لیے بڑاخطرہ ہے، اگر اقوام متحدہ کے قوانین میں برابری موجود نہ ہو تو دنیا محفوظ جگہ نہیں بن سکتی
  • کانفرنس کے دوران قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر نے بھارتی پارلیمنٹ کے رکن کا کشمیر کے ذکر پر اٹھایا جانے والا اعتراض مسترد کر دیا

مالدیپ(مانیٹرنگ ڈیسک)قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری نے مالدیپ میں سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ گولز (ایس ڈی جی) اجلاس میں مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے مظالم اور موجودہ صورت حال کو اجاگر کردیا جس پر دونوں ممالک کے نمائندوں کے درمیان جملوں کا تبادلہ ہوا۔مالدیپ کے شہر مالے میں جنوبی ایشیا میں پائیدار ترقی کے اہداف پر چوتھی کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کے اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ‘ناانصافی کوئی بھی ہو وہ ہر جگہ انصاف کے لیے بڑاخطرہ ہے، اگر اقوام میں امتیاز موجود ہو تو دنیا ایک محفوظ جگہ نہیں بن سکتی’۔ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ ‘اگر جمہوریت پسے ہوئے طبقے بالخصوص خواتین، بچوں اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ میں ناکام رہی ہے تو وہ اپنے عوام کی صحیح نمائندگی کا دعویٰ نہیں کرسکتی’۔قاسم خان سوری کا کہنا تھا کہ ‘اگر ہم پرامن اور جمہوری ایشیا کی تعمیر چاہتے ہیں تو فلسطینیوں، روہنگیا کے مسلمانوں اور ظلم وستم کا شکار کشمیریوں کی حالت زار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ظلم و ستم کا شکار کشمیریوں کی حالت زار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، بین الاقوامی برادری کو ظلم وستم کا شکار ان نظر انداز افراد کے خلاف ناانصافیوں کا ازالہ کرنا ہوگا’۔مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘ہماری پارلیمنٹ دنیا کے ایسے پسے ہوئے تمام لوگوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لیے ان کے ساتھ کھڑی ہے اور بین الاقوامی برادری سے بنیادی حقوق کو یقینی بنانے کا مطالبہ کرتی ہے۔’ان کا کہنا تھا کہ ‘کشمیر کے تنازع کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کی روشنی میں کشمیریوں کی خواہش کے مطابق حل ہونا چاہیے’۔اس موقع پر بھارتی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی اسپیکر اس فورم کو سیاسی مقاصد کی نذر کررہے ہیں اور اجلاس کے موضوع کے خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارت کے اندرونی معاملات پر بیان بازی کررہے ہیں۔

You might also like More from author