زینب کو انصاف دینے کا مطالبہ زور پکڑگیا

zaheer-babar-logoزینب کے قتل پر احتجاج کا سلسلہ تادم تحریر جاری ہے۔ بظاہر اس واقعہ کو ملک کے ان چندہ واقعات میں شمار کیا جاسکتا ہے جس نے باضمیر پاکستانیوں کو ہلا کر رکھ دیا ۔ پنجاب کے شہر قصور میں ہونے والے اس دلخراش واقعہ کی کسک ملک کا ہر باضمیر شخص اپنے دل میں محسوس کررہا، یہ کہنا غلط نہیںکہ آج کروڈوں پاکستانیوں کا احساس ہے کہ جیسے زینب ان اپنی بچی ہو۔ یہی درد اس احتجاج کا باعث بنا ہے جو تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ دوسری جانب ”خادم اعلی “ کی پنجاب حکومت مسلسل لوگوں کو تسلیاں دے رہے کہ قاتل جلد گرفتار ہوگا۔
ملکی پرنٹ اور الیکڑانک میڈیا نے جس طرح واقعہ کو کور کیا وہ بتا گیا کہ پاکستانی مردہ قوم نہیں بلکہ اس کا ضمیر متحرک بھی ہے اور موثر بھی ۔ معصوم ومظلوم زینب سے زیادتی اور پھر اس کا قتل ان بچوں کے ساتھ ہونے والے مظالم کو بھی بے نقاب کرگیا جس پر اب تک پولیس نے پردہ ڈال رکھا تھا۔ عملا قصور میں میں معصوم بچوں کے ساتھ روا رکھا جانے والا استحصال ان واقعات کا تسلسل ہے جو پانچ دریاوں کی سرزمین پر سالوں سے نہیں دہائیوں سے جاری وساری ہے۔
ادھر لاہور ہائی کورٹ نے زینب کے قتل میں ملوث ملزم کو 36 گھنٹوں میں گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔ گذشتہ روز چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ منصور علی شاہ نے زینب قتل کیس کی سماعت کے دوران آئی جی پنجاب کیپٹن عارف نواز خان سے چیف جسٹس نے کہا کہ سنا ہے کہ اس واقعے سے پہلے متعدد واقعات ہوچکے ہیں، کیا آپ کے پاس ان مقدمات کی تفصیل ہے؟ پچھلے مقدمات کہاں ہیں یہ عدالتوں میں تو پیش نہیں ہوئے؟
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ قصور میں افسوس ناک واقعہ پر ہر کوئی افسردہ ہے، اس واقعے سمیت پنجاب میں بچوں سے معتلق تمام کیسز کی تفصیل پیش کی جائے۔جناب جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ قصور واقعے پر معاشرہ پریشانی کا شکار ہے اس لیے ملزم کو ہر صورت میں گرفتار کیا جائے، اس حوالے سے کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اس پر آئی جی پولیس نے کہا کہ پولیس پوری ایمانداری سے کام کر رہی ہے، اطلاعات کے مطابق ایک ملزم کے 6 کیسز ڈی این اے ملے ہیں ، عدالت کو یقین دہانی کرواتا ہوں کہ ملزم کو گرفتار کرلیا جائے گا۔پاکستان تحریک انصاف نے ننھی زینب کے ظالمانہ قتل کا مقدمہ فوجی عدالت میں چلانے کا مطالبہ کردیا۔ سینیٹ سیکریٹریٹ میں تحریک انصاف کے پارلیمانی رہنما اعظم سواتی کی جانب سے تحریک التوا بھی جمع کرائی گئی جبکہ پی ٹی آئی کے شبلی فراز ، نعمان وزیر خٹک، محسن عزیز اور لیاقت خان ترکئی نے اس پر دستخط کیے۔تحریک التوا کے مطابق زینب کے ظالمانہ قتل سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا تشخص مجروح ہوا ہے اور عوام صوبے کے حکمرانوں سے استعفی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔مذید یہ کہ سینیٹ میں معمول کی کارروائی روک کر اس اہم ترین معاملے پر بحث کی جائے اور مجرموں کو سرعام عبرت ناک سزا دی جائے تاکہ ان جرائم میں ملوث افراد کو ایک واضح پیغام پہنچ سکے۔
اس پس منظر میں پشاور میں خطاب کرتے ہوئے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا کہ قصور میں پیش آنے والا واقعہ شرمناک ہے، چند مہینوں میں 12 بچیوں کے ساتھ اس طرح کے واقعات ہوئے اور انہیں قتل کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شریف خاندان 19 سال سے پنجاب میں حکومت کر رہے ہیں اور آج پنجاب میں پولیس کا براحال ہے۔پی ٹی آئی سربراہ کے بعقول پنجاب بھر میں صرف میٹرو کریسی کا راج ہے جبکہ سڑکیں اور پل بنانے سے ملک ترقی نہیں کرتا۔بلاشبہ قصور جیسے واقعت میں عمر قید کی سزا قوم اور قوم کے بچوں کے ساتھ مذاق ہے۔ آئے روز پیش آنے والے واقعات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ملزمان کو عبرتناک سزائیں دی جائیں۔ زینب کے قتل پر پاکستانی قوم کا غم وغصہ اس کا بات تقاضا کرتا ہے کہ اصلاح احوال کے لیے ٹھوس اقدمات اٹھائے جائیں، بدقسمتی یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کسی بھی سطح پر اپنی زمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے تیار نہیں، ڈنگ ٹپاو اقدمات اٹھا کر عوام کو بے وقوف بنانے کا سلسلہ ہی جاری وساری ہے۔ شریف بردارن یہ سمجھنے کو تیار ہی نہیںکہ وہ سالوں سے پنجاب کی سیاست پر قابض ہیںلہذا مشکلات کو حل کرنا ان ہی کی زمہ داری ہے۔ یہ اعتراف کرنا غلط نہ ہوگا کہ دس سال وزیر اعلی رہنے کے باوجود میاں شہبازشریف کوئی ایک مسلہ بھی حل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ میڑو اور اورینج ٹرین پر کروڈوں نہیں اربوں روپے خرچ کرنے والے اہل پنجاب کو ایسی پولیس دینے میں ناکام رہے جو حقیقی معنوں میں عوام کی جان ومال کا تحفظ یقینی بناتی۔ زینب کے قتل پر احتجاج کرنے والے مظاہرین پر جس طر ح پولیس نے اندھا دھند فائرنگ کی وہ دراصل اس محکمہ کی بدترین تربیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ایک بار پھر ثابت ہوگا کہ پنجاب کا حکمران طبقہ صرف اور صرف اپنے مفادات کا اسیر ہے ۔ عوام اس کے لیے بھیڑ بکریوں سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے یہی وجہ ہے کہ نہ تو ان کی عزت کا تحفظ کیا جاتا ہے اور نہ ہی ان کی زندگیوں کی پرواہ کسی کو ہے۔ زینب کے قتل پر ملک بھر میں ہونے والا احتجاج اس بدلے ہوئے پاکستان کی محض ایک جھلک ہے جس کا مکمل ظہور پذیر ہونا خارج ازمکان نہیں رہا۔

Scroll To Top